نئے کھلاڑی، پرانا جال!

نئے کھلاڑی، پرانا جال!
نئے کھلاڑی، پرانا جال!

  

حروں کے موجودہ روحانی پیشوا، پیر پگارو ہشتم پیر صبغت اللہ شاہ راشدی بہت دِنوں بعد لاہور تشریف لائے اور آتے ہی سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ(ق) کے سربراہ چودھری شجاعت حسین سے ملاقات اور مذاکرات کئے، سابق وزیراعلیٰ پنجاب اور نائب وزیراعظم چودھری پرویزالٰہی کی موجودگی بھی تو لازم ہی تھی، چنانچہ ماحول بھی اچھا رہا اور آنے والے عام انتخابات زیر غور آئے اور یہی مقصد بھی تھا، پیر صبغت اللہ راشدی کو پیر جوگوٹھ کی گدی کے ساتھ ہی فنکشنل مسلم لیگ کی جانشینی بھی ملی اور یہ بھی اس گدی کا اعزاز ہے کہ سندھ میں پیپلزپارٹی کا مقابلہ کرنے کے لئے جو بڑا مخالف اتحاد بنا اس کے وہ سربراہ ہیں۔

جی ڈی اے (گرینڈ ڈیمو کریٹس الائنس) کے نام سے بننے والے اس اتحاد میں فنکشنل لیگ کے ساتھ سندھ کی قوم پرست جماعتیں ہیں اور اب ان کا کہنا ہے کہ اس اتحاد میں ایم کیو ایم اور تحریک انصاف کو بھی شامل کر کے اتحاد کو مزید وسیع کریں گے، لاہور میں چودھری برادران کے ساتھ جو پریس کانفرنس ہوئی،اس میں بھی انہوں نے پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت پر تنقید کی اور کارکردگی کے حوالے سے کہا کہ پیپلزپارٹی نے سندھ کا بیڑہ غرق کر دیا ہے، یہاں جو مذاکرات ہوئے اور جس فیصلے کا اعلان کیا گیا وہ یہ ہے کہ دونوں جماعتیں آئندہ الیکشن مل کر لڑیں گی اور ایک ہی انتخابی نشان بھی ہو گا۔

یوں یہ ایک ایسا کام ہوا جو محترم پیر علی مردان شاہ پیر آف پگارو (ہفتم) کی زندگی میں نہ ہو پایا کہ ان کی زیر قیادت جو مسلم لیگ بکھری تھی وہ اکٹھی نہ ہو سکی تھی،لیکن جانشین صاحبزادے نے اس حد تک تو کامیابی حاصل کر لی کہ انتخابی اتحاد کر لیا، بات اور بھی آگے بڑھ سکتی ہے کہ چودھری پرویز الٰہی کے مطابق اب مسلم لیگوں کو ایک پرچم تلے متحد ہونا ہو گا، کہ رکاوٹ صرف ایک شخصیت کی وجہ سے تھی اور وہ اب نہیں ہیں،ان کا واضح اشارہ سابق وزیراعظم محمد نواز شریف کی طرف ہے۔

اس پریس کانفرنس میں بتائے جانے والے فیصلوں نے یادوں کے کئی دریچے وا کر دیئے ہیں اور ہمیں نوابزادہ نصر اللہ (مرحوم) سے چودھری ظہور الٰہی(مرحوم) تک بھی یاد آ گئے، پیر علی مردان شاہ پیر پگارو کے دستِ راست اور فنکشنل لیگ کے سیکرٹری جنرل رانا محمد اشرف بھی ان شخصیات میں سے ہیں جو اس اتحاد اتحاد کے کھیل میں بہت انتھک اور بڑے کھلاڑی تھے کہ ان کی قیادت میں وہ کمیٹی کام کرتی رہی، جس کے ذمہ مسلم لیگوں کو اکٹھا کرنا تھا جو نہ ہونا تھیں اور نہ ہوئیں، اب یہ ایک نئی صورت سامنے آئی ہے کہ ان ہر دو جماعتوں نے انتخابی اتحاد کر لیا ہے،حالانکہ ماضی میں رانا اشرف کمیٹی کی ناکامی بھی انہی جماعتوں کو ضم کر کے ایک مسلم لیگ بنانے کی کوشش سے ہوئی۔نوابزادہ نصر اللہ تو یوں یاد آئے کہ وہ سیاسی اتحاد بنانے کے ماہر تھے اور یہ جو نام جی ڈی اے ہے یہ بھی ان کا استعمال شدہ ہے، کہ وہ کبھی موومنٹ فار ریسٹوریشن آف ڈیمو کریسی (MRD) کبھی اسی کو الٹ کر اے آر ڈی (ARD) بناتے اور پھر اسی نام کو الٹ کر ایک اور نیا نام دے لیتے تھے۔ پی ڈی اے بھی انہی کے حوالے سے ہے، جبکہ متحدہ پاکستان کے دور میں انہوں نے جمہوری مجلس عمل (DAC) بھی بنائی تھی۔ بہرحال موجودہ پیر پگارو سندھ والی جی ڈی اے کے بھی صدر ہیں۔

سیاسی جماعتوں میں توڑ پھوڑ، لوگوں کا آنا جانا تو لگا ہی رہتا ہے اور یہاں جماعتیں چھوڑنے والے تھوڑے فرق کے ساتھ وہی جماعت بنا لیتے ہیں جسے چھوڑ کر گئے ہوں،چنانچہ یہاں ایک نام کی کئی جماعتیں ہیں، حتیٰ کہ پاکستان پیپلزپارٹی بھی اس وقت تین حصوں میں ہے۔ غنویٰ بھٹو جس پیپلز پارٹی کی صدر ہیں وہ شہید بھٹو گروپ کا لاحقہ استعمال کرتی ہے اور بیگم ناہید خان عباسی نے ورکرز پیپلز پارٹی بنا لی ہے اگرچہ وہ پیپلزپارٹی کے نام کی بھی دعویدار ہیں۔

جہاں تک مسلم لیگ کا تعلق ہے تو اس سے زیادہ مظلوم نام پاکستان میں کوئی اور ہو ہی نہیں سکتا، یہ سو فیصد درست کہ قیام پاکستان کی جدوجہد مسلم لیگ نام کی جماعت ہی کے پرچم تلے ہوئی، اسے سر آغا خان نے تشکیل دیا اور قائداعظم محمد علی جناحؒ صدر بنے اور مُلک حاصل کیا، وفات قائدؒ کے بعد بتدریج جماعت کی حالت پتلی ہوئی اور پھر 1958ء کا مارشل لاء آ گیا۔

یہ عرض کریں کہ مُلک کی بانی جماعت سب کو مرغوب خصوصاً آمروں کو یہ نام ضرور چاہئے ہوتا ہے،چنانچہ پہلی بار جو بڑی تقسیم ہوئی وہ کنونشن مسلم لیگ اور کونسل مسلم لیگ کے نام سے ہوئی تھی، میاں ممتاز دولتانہ نے جماعتی آئین کے مطابق جنرل کونسل کا اجلاس بلا کر خود کو صدر بنوا لیا، جبکہ دوسری طرف ایوب کے حمایتی گروہ نے بزرگ خلیق الزمان کے ایماء پر بلائے گئے کنونشن میں اپنے دھڑے کا اعلان کیا اور یوں دو مسلم لیگیں بنیں، اس کے بعد تو اس میں سے دھڑے بنتے چلے گئے اور آج مسلم لیگ نام سے کتنی جماعتیں ہیں، یاد ہی نہیں آ رہا، کنونشن لیگ درحقیقت ایوب خان لیگ تھی اور کونسل لیگ کو میاں ممتاز دولتانہ چلاتے رہے اور پھر ان میں بھی توڑ پھوڑ ہوتی رہی۔

ملک قاسم(مرحوم) طویل عرصہ کنونشن لیگ کے سیکرٹری جنرل رہے تھے، اس کے بعد جونیجو لیگ اور پھر سفر کرتے مسلم لیگ(ق) اور مسلم لیگ(ن) بننا بھی ایک الگ قصہ ہے۔ یہاں تو ذکر مسلم لیگ(فنکشنل) اور مسلم لیگ (ق) کا ہے کہ ان کے درمیان انتخابی اتحاد ہوا جو پیر علی مردان شاہ اور رانا محمد اشرف کی زندگی میں بھی ممکن نہ ہو سکا تھا۔

مسلم لیگ فنکشنل دراصل مسلم لیگ ہی تھی اور اسی نام سے پاکستان قومی اتحاد میں شامل ہو کر نو میں سے ایک ستارہ بنی اس سے قبل یہ جماعت پی ڈی ایف کا حصہ تھی، پیر پگارو اپنی جماعت کے ساتھ اس اتحاد کے بھی سربراہ تھے تاہم پی این اے کی تشکیل ہوئی تو مفتی محمود (مرحوم) کو صدر بنایا گیا تھا۔

ہمیں یادہے کہ جب جنرل ضیاء الحق نے مجلس شوریٰ بنائی تو مجموعی طور پر مخالف سیاسی جماعتوں نے اس کی مخالفت کی تھی۔

مسلم لیگ بھی مخالف تھی، ایک روز گلبرگ میں مخدوم زادہ حسن محمود کی رہائش گاہ پر پیر پگارو کی صدارت میں ورکنگ کمیٹی کے نام سے بڑوں کا اجلاس ہوا، خواجہ صفدر اور چودھری ظہور الٰہی بھی موجودتھے، اس اجلاس میں جو پیر پگارو ہی کے ایماء پر جو کوٹھی کے باہر دالان میں ہوا، کافی بحث کے بعد طے پا گیا کہ مجلس شوریٰ میں شرکت نہیں کی جائے گی۔

جب یہ سب حضرات چلے گئے تو پیر پگارو نے ہم سے کہا دیکھ لینا، یہ جو وعدہ کر کے گئے ہیں یہاں سے جاتے ہی مجلس شوریٰ میں شامل ہو جایں گے اور پھر ایسا ہی ہوا، تب سے پیر پگارو ناراض چلے آئے۔ پھر پلوں سے نیچے سے کافی پانی بہا، مسلم لیگوں کو اکٹھا کرنے کے لئے کمیٹی بنی، رانا محمد اشرف کنونیئر تھے، انہوں نے متعدد اجلاس بلائے،لیکن اختلاف طے نہ ہوئے، مرکزی اختلاف بھی چودھریوں اور پیر پگارو کے درمیان رہا، جبکہ مسلم لیگ(ن) بھی ہاتھ نہیں پکڑاتی تھی، حالانکہ پیر علی مردان شاہ نے تجویز پیش کی کہ جنرل کونسل کے اراکین کے نام پر اتفاق کر لیں، جو ہر جماعت سے لے لئے جائیں اور یہ جنرل کونسل جماعتی دستور کے مطابق صدر کا انتخاب کر لے۔

پیر پگارو نے خود کو اس الیکشن سے باہر رکھنے کا اعلان کیا اور کہا کہ وہ امیدوار نہیں ہوں گے پھر بھی متحدہ مسلم لیگ نہ بن سکی۔ اب دیکھیں یہ اتحاد کیا رنگ لاتا ہے، ویسے تو سندھ میں مسلم لیگ (ق) نہیں اور پنجاب میں فنکشنل مسلم لیگ نہیں، اب خوب گزرے گی، اس حوالے اور پس منظر کی وجہ سے کسی نے کہا ’’پرانا جال لائے، نئے شکاری‘‘ پھر سے اتحاد اتحاد کا کھیل بھی شروع ہو گیا۔

مزید : رائے /کالم