چیلنج کا جواب (2)

چیلنج کا جواب (2)
چیلنج کا جواب (2)

  

ادارے درودیوار سے نہیں بلکہ وہاں پر کام کرنے والوں کے ذہنی معیار سے پہچانے جاتے ہیں۔ ایک زمانہ تھا کہ ہمارے پروگرام کے شعبے میں یاور حیات، محمد نثار حسین، شاہد محمود ندیم اور ایوب خاوراور نیوز میں زبیر علی، مصلح الدین اور ظفر صمدانی جیسے قدآور لوگ تھے لیکن اب گراف کافی نیچے آ چکا ہے۔

بنیادی سطح پر سٹاف کی بھرتی کا طریقہ کار اداروں کی کارکردگی کے معاملے میں بہت اہمیت رکھتا ہے اگر بھرتی میرٹ پر نہیں ہوگی تو کام کے معیار کی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔

طے شدہ طریق کار یعنی ٹیسٹ انٹرویو وغیرہ کے بغیر کنٹریکٹ پر لوگوں کو ملازمت دینا اور پھر چند سالوں بعد انہیں مستقل کر دینے کا فارمولہ میرٹ کی خلاف ورزی ہے شروع سے ہی مستقل بنیادوں پر باقاعدہ بھرتی کیوں نہ کی جائے جیسے 70 اور 80 کی دہائی میں ہوتی رہی ہے۔اس رحجان کی حوصلہ شکنی کی ضرورت ہے ۔

بھرتی کے بعد اگلا مرحلہ تربیت کا ہے۔ پروفیشنلزم کے فروغ کیلئے تربیت کی بہت اہمیت ہے۔ صرف آن دی جاب تربیت کافی نہیں بلکہ فوج اور سول سروس کی طرز پر مرحلہ وار باقاعدہ تربیت ایک اچھے پروفیشنل تیار کرنے کے لئے بہت ضروری ہے۔

یہ تربیت ملک کے باہر بھی ہو سکتی ہے اور اپنی اکیڈمی میں بھی۔ اکیڈمی میں باہر سے کسی ٹرینر کو بھی بلایا جا سکتا ہے لہٰذا اکیڈمی کو فعال کرنا ضروری ہے۔ ہمارے ہاں تو ایسا بھی ہوا ہے کہ لوگ بغیر کسی تربیت کے ٹاپ تک پہنچ گئے ہیں۔

ہمارے ہاں آن دی جاب کی صورت حال یہ ہے کہ تمام لوگ اپنے شعبے کے مختلف سیکشنوں میں کام نہیں سیکھتے بلکہ اپنی مرضی کا شعبہ منتخب کر لیتے ہیں مثلاً نیوز میں کچھ لوگ صرف رپورٹر آئے پورے کیریئر میں انہوں نے کسی دوسرے سیکشن میں کام نہیں کیا۔

اس وقت بھی کئی لوگ موجود ہیں جنہوں نے آتے ہی پروڈکشن اور ایڈیٹنگ میں کام شروع کیا کیونکہ ٹیکنیکل کام سیکھنا قدرے آسان ہوتا ہے لکھنے پڑھنے کا کام تو ساری زندگی سیکھنا پڑتا ہے۔ ایسے کئی لوگوں نے بیس پچیس سال کے کیریئر میں ایک خبر ڈرافٹ نہیں کی نہ کوئی رپورٹ بنائی نہ کوئی واقعہ رپورٹ کیا۔

ملازمین کی ترقی کا فارمولہ بھی کسی ادارے میں بہت اہمیت رکھتا ہے۔ پی ٹی وی میں ترقی کے لئے کوئی BAR نہیں۔ کسی بھی عہدے کے لئے نہ کسی تعلیمی قابلیت کی شرط ہے اور نہ کسی تربیت کی لہٰذا اگر کوئی میٹرک کرکے ملازمت اختیار کر لیتا ہے تو وہ بغیر رکاوٹ کے کسی بھی عہدے پر پہنچ سکتا ہے۔

ہمارے ہاں میٹرک پاس لوگ کافی اعلیٰ عہدوں تک پہنچے ہیں۔ صرف ایک شرط ہے اے سی آر۔ وہ بھی کوئی بڑی رکاوٹ نہیں۔ یہ بات کوئی راز نہیں کہ اے سی آر ہمارے ہاں میرٹ پر نہیں لکھی جاتی عموماً 90 فیصد لوگوں کی اے سی آر آؤٹ سٹینڈنگ ہوتی ہے۔ اگر پی ٹی وی میں 90 فیصد لوگ آؤٹ سٹینڈنگ ہیں تو پھر ادارہ کیوں زوال پذیر ہے۔ پانچ پانچ سال بعد تک اے سی آر مجھ سے لکھوائی گئی ہیں۔

اے سی آر کا نظام کمپیوٹرائزڈ کرنے کے باوجود صورتحال میں کوئی زیادہ فرق نہیں پڑا۔اس صورتحال سے نمٹنے کے لئے ایک تجویز یہ ہے کہ ہر سال متعلقہ ڈائریکٹر کی قیادت میں دو تین سینئر لوگوں کی ایک کمیٹی بنائی جائے جو ہر ملازم کا تفصیلی انٹرویو کرے اور اُس کے کام اور صلاحیتوں کی Assessment کرے۔اے سی آر لکھنے والے سینئر لوگوں کو اِس کی کاپی مہیا کی جائے تاکہ وہ اے سی آر لکھتے وقت اِسے سامنے رکھیں اور اِسے پرسنل فائل میں لگایا جائے۔ 

کنٹرولر اور ڈائریکٹر کے عہدوں پر پروموشن کیلئے اے سی آر کے ساتھ ساتھ تعلیم اور تربیت کو لازمی شرط رکھا جائے۔ جس طرح سول سروس میں گریڈ 19 سے 20 کے لئے NIPA اور گریڈ بیس سے اوپر کیلئے سٹاف کورس کروایا جاتا ہے۔ اس مقصد کے لئے ہمارے سینئر لوگوں کو بھی NIPA بھیجا جا سکتا ہے۔

کنٹرولر گریڈ 20 کے برابر کی پوسٹ ہے اس لئے کنٹرولر اور ڈائریکٹر کی پوسٹ کے لئے چیئرمین کی قیادت میں ایک بورڈ کو اُمیدواروں کا باقاعدہ انٹرویو کرنا چاہئے۔ بورڈ میں ایم ڈی اور چیئرمین کے علاوہ بورڈ آف ڈائریکٹرز سے کچھ لوگوں کو شامل کیا جا سکتا ہے۔ موجودہ صورتحال میں ڈائریکٹر کی پروموشن کیلئے صرف سفارش کی ضرورت ہے۔

سینئر لیول پر Capacity Building اور لیڈر شپ کی صلاحیتوں کو اُجاگر کرنے کی بڑی ضرورت ہوتی ہے۔ منیجنگ ڈائریکٹر کو وقتاً فوقتاً سینئر ریٹائرڈ افسروں سے باقاعدہ فیڈ بیک لینی چاہئے۔ یہ مقصد ششماہی یا سالانہ میٹنگ کے ذریعے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اس پر کچھ خرچ نہیں ہو گا لیکن ایم ڈی اور متعلقہ ڈائریکٹر کو صورت حال کی بہتری کیلئے کچھ رہنمائی ضرور مل سکتی ہے۔ ذاتی پسند یا ناپسند کو نظرانداز کرکے ادارے کی لانگ ٹرم بہتری کیلئے ایسے اقدامات کی ضرورت ہے۔ 

پی ٹی وی میں عرصہ دراز سے ایک معاملہ زیرغور ہے لیکن ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں ہو سکا۔ وہ ہے غیرملکوں میں نمائندوں کا تقرر۔ اس معاملے پر مختلف اوقات میں کئی تجویزوں پر غور کیا گیا۔ پیپلزپارٹی کے دورحکومت میں میں نے ایک عملی تجویز اُس وقت کے ڈائریکٹر نیوز حبیب اللہ فاروقی کو پیش کی تھی لیکن اس پر کوئی پیشرفت نہ ہو سکی۔ 2008ء میں ہمارے دو ساتھیوں کرنٹ افیئرز کے احمد علی سید اور نیوز سے جعفر بلگرامی کو جو پی ٹی وی سے استعفے دے چکے تھے، بالترتیب لندن اور نیویارک میں نمائندہ مقرر کر دیا گیا۔

جب انہوں نے عہدے چھوڑے تو پھر کسی کا تقرر نہیں کیا گیا اُن کو ادائیگیوں میں بھی مشکلات پیش آتی رہیں کیونکہ یہ کوئی مستقل یا باقاعدہ تقرری نہیں تھی اس لئے اس بارے میں رولزخاموش ہیں۔ پی ٹی وی کو نیویارک، لندن، بیجنگ نئی دلی اور دبئی میں اپنی نمائندگی کا کوئی مستقل انتظام کرنا چاہئے۔

اس کے ساتھ ساتھ پی ٹی وی کو اپنے پڑوسی ملکوں کے قومی انتخابات کی کوریج کے لئے بھی ٹیم بھیجنی چاہئے۔ ماضی میں ایک دفعہ اس تجویز پر عمل کیا گیا تھا۔ جب بھارت میں انتخابات کا اعلان ہوا جس کے نتیجے میں اٹل بہاری واجپائی وزیراعظم منتخب ہوئے تو اس موقع پر کوریج کیلئے مجھے نامزد کیا گیا لیکن بھارتی ہائی کمیشن نے ویزہ نہیں دیا۔ اُسی زمانے میں بنگلہ دیش میں انتخابات کیلئے جعفر بلگرامی کو بھیجا گیا لیکن یہ روایت آگے نہیں چل سکی۔

پی ٹی وی ایک ایسا ادارہ ہے جس نے ذہنوں کی آبیاری کرنی ہے اس لئے سٹاف کی Capacity Building کیلئے اُن میں مطالعے کا شوق پیدا کرنا ضروری ہے۔

نیوز مین اور پروگرامرز کے لئے تخلیقی ذہن کے علاوہ زیادہ سے زیادہ معلومات کا حصول اور زبان (اُردو انگلش) پر دسترس ضروری ہے اور یہ سب کچھ مطالعے کے بغیر ممکن نہیں لہٰذا ایک اچھی لائبریری کا بڑا کردار ہے ۔

لائبریری موجود ہے لیکن اُس کی حالت ناگفتہ بہ ہے۔ممکن ہے کچھ لوگوں کو میری یہ تجویز فضول لگے۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ اب اطلاعات کے حصول کا بہتر ذریعہ کمپیوٹر ہے لیکن میرے خیال میں کتاب کی اہمیت پھر بھی کم نہیں ہوئی۔ مغربی ملکوں میں قائم لائبریریوں سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے۔ مطالعے کا شوق پیدا کرنے کے لئے کبھی کبھار سیمینار کا اہتمام بھی کیا جا سکتا ہے۔

2002ء میں پروگرام اور نیوز کے شعبوں کو الگ کر دیا گیا۔ پروگرام کے چینل کا نام پی ٹی وی ہوم اور نیوز چینل کا نام پی ٹی وی نیوز (نیوز اور کرنٹ افیئرز )رکھ دیا گیا اور پی ٹی وی ہوم کوH-8میں اکیڈمی کے ساتھ والی بلڈنگ میں منتقل کر دیا گیا۔

تاہم یہ تقسیم صرف اسلام آباد تک محدود رہی۔ اوپر کا ڈھانچہ یعنی ڈی ایم ڈی اور ایم ڈی وہی رہا اور نیچے بھی باقی سنٹروں پر کوئی انتظامی تبدیلی نہیں کی گئی۔ سنٹروں پر پہلے کیطرح اب بھی پروگرام کے شعبے کی حکمرانی ہے۔

ہونا تو یہ چاہئے کہ یا تو ڈی ایم ڈی کی دو پوسٹیں ہوں ایک پروگرام کیلئے اور ایک نیوز کرنٹ افیئرز اور پی ٹی وی ورلڈ کیلئے کم از کم پی ٹی وی نیوز کیلئے مستقل چینل ہیڈ کی پوسٹ بہت ضروری ہے۔ یہ اس لئے بھی کہ اب نیوز اور کرنٹ افیئرز کے شعبوں میں سینئر سٹاف تیزی سے ریٹائر ہو رہا ہے اور نئے لوگوں کے پاس ضروری تجربے کی کمی ہے۔

اس کے علاوہ سنٹروں پر پی ٹی وی نیوز کو ایک الگ انتظامی یونٹ تسلیم کیا جائے اور اُن کا ہیڈ بھی موجودہ جی ایم کی بجائے الگ ہو۔نیشنل نیوز بیورو کی طرز پر اس یونٹ کیلئے ایڈمنسٹریشن اور فنانس کا Skeletonسٹاف بھی علیحدہ ہو۔ یہ تجویز میں اپنے دور میں موجودہ سیٹ اپ کی وجہ سے درپیش مسائل کی روشنی میں دے رہا ہوں۔ 

پی ٹی وی کو ایک فعال ادارہ بنانے کیلئے ورک کلچر کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ بہت سال پہلے سنٹروں پر حاضری کے لئے پنچنگ مشین لگائی گئی تھیں لیکن یونین کے دباؤ پر یہ سلسلہ ختم کر دیا گیا۔

اب جدید ٹیکنالوجی کا زمانہ ہے عام دفتروں میں بھی حاضری کیلئے بائیو میٹرک کا نظام ورک کر رہا ہے اور لہٰذا یہاں بھی اس نظام کا اجراء کر دینا چاہئے۔ ہمارے ہاں کئی ایسے لوگ رہے ہیں اور اب بھی ہیں جنہوں نے دفتر آنے کا وقت اپنی مرضی سے طے کیا ہوا ہے۔مقابلے کی فضاء میں ایسی غلط روایتوں کی کوئی گنجائش نہیں۔

پی ٹی وی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تشکیلِ نو بھی ضروری ہے۔ موجودہ بورڈ صرف سرکاری اداروں کے سربراہوں تک محدود ہے لہٰذا اس میں میڈیا کارپوریٹ سیکٹر اور لٹریچر کے شعبوں کی نمائندگی کا اہتمام کیا جانا چاہئے تاکہ یہ زیادہ سے زیادہ نمائندہ بن سکے۔ایک اطلاع کے مطابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے جن کے پاس وفاقی وزیر اطلاعات کا چارج بھی ہے ہدایت کی ہے کہ بورڈ میں کارپوریٹ سیکٹر کے کچھ لوگ شامل کئے جائیں۔

پی ٹی وی کے مختلف شعبوں میں سینئر لوگ تیزی سے ریٹائر ہو رہے ہیں۔ نئے لوگ ابھی اتنے تجربہ کار نہیں اس طرح پروفیشنل اور انتظامی سطح پر ایک خلا پیدا ہو رہا ہے۔ اِسے پُر کرنے کی ضرورت ہے۔

صورتحال کا حل یہ ہے کہ سینئر پوسٹوں پر پروموشن کیلئے کچھ لوگ موجودہ سٹاف سے لئے جائیں اور کچھ مطلوبہ تجربے اور قابلیت کے لوگ پرائیویٹ سیکٹر سے بھرتی کئے جائیں۔ نئے آنے والے نئے آئیڈیاز لے کر آئیں گے اس طرح ایک متوازن ٹیم بن سکے گی۔

یہ فارمولہ کئی محکموں مثلاً او پی ایف میں رائج ہے۔ تا ہم یہ ضروری ہے کہ نئی بھرتی میرٹ پر کی جائے۔ یہ بھرتی ماضی میں پارٹی پالیسی یا سفارش کی بنیاد پر کی جانے والی بھرتی سے بالکل مختلف ہوگی یہ لوگ باقاعدہ کسی پروسیجر کے تحت مختلف گروپ سسٹم میں مستقل بنیادوں پر بھرتی ہوں گے۔ ظاہر ہے اس کے لئے رولز طے کرنے کی ضرورت ہو گی۔ 

پالیسی اور معیار کے حوالے سے حالات حاضرہ کے پروگراموں اور نیوز بلیٹنز کا مسلسل جائزہ لینے کیلئے میڈیا کا تجربہ رکھنے والے چند لوگوں پر مشتمل ایک ریویو کمیٹی کی تشکیل کی ضرورت ہے جو پروگراموں کیلئے نئے آئیڈیاز بھی تجویز کرے۔ یہ کمیٹی دو ہفتے یا مہینے بعد اپنی رپورٹ ایم ڈی، چیئرمین اور متعلقہ وزیر کو پیش کرے۔(ختم شد)

مزید : رائے /کالم