انتخابات، جمہوریت کے لئے آکسیجن

انتخابات، جمہوریت کے لئے آکسیجن
انتخابات، جمہوریت کے لئے آکسیجن

  

اسلام آباد سے ملتان پہنچ گیا ہوں، لیکن ایک سوال ہے کہ مسلسل پیچھا کررہا ہے۔۔۔ کیا انتخابات مقررہ وقت پر ہوں گے؟ مَیں ذاتی طور پر تو اپنی یہ رائے دیتا ہوں کہ ہاں وقت پر ہوں گے۔ اس میں کسی کو شک نہیں ہونا چاہئے، مگر حقیقت یہ ہے کہ شکوک و شبہات بڑھ رہے ہیں۔

پاکستان میں ایسا پہلی بار نہیں ہورہا، ہمیشہ ہی جب انتخابات قریب آتے ہیں تو یہ ضرور کہا جاتا ہے کہ نادیدہ قوتیں شاید انتخابات وقت پر نہ ہونے دیں۔ اس کی وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ ہر جمہوری حکومت کسی نہ کسی بحران کا شکار رہتی ہے۔

بدعنوانی کا الزام تو ایک معمول کی بات ہے، پھر اس الزام کی وجہ سے یہ نعرہ بھی جنم لیتا ہے کہ پہلے احتساب پھر انتخاب، حالانکہ یہ سب سے احمقانہ بات ہے۔

احتساب کا عمل جس طرح کچھوے کی رفتار سے چلتا ہے، اس کی وجہ سے تو احتساب کے بعد انتخاب کے لئے عمرِ خفر چاہئے، تو اس دوران ملک کون چلائے گا اور کس آئین کے تحت چلایا جائے گا؟ میاں نواز شریف نے جب یہ کہا کہ شفاف انتخابات کو یقینی نہ بنایا گیا تو انتخابات میں حصہ نہیں لیں گے۔

یہ انہوں نے کیا سوچ کر کہا؟ انہیں ایسا تو ہرگز نہیں کہنا چاہئے، کیونکہ بروقت انتخابات تو نہ صرف ملک، بلکہ اُن کے بھی حق میں ہیں، اگر ایسے حالات پیدا ہوگئے کہ کسی بڑی سیاسی جماعت نے انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کردیا تو الیکشن ملتوی کرنے والی قوتوں کو پکی پکائی دیگ مل جائے گی۔ تمام سیاسی قوتوں کا اس وقت پہلا ایجنڈا یہ ہونا چاہئے کہ انتخابات شیڈول کے مطابق ہوں۔ اُن کا ایک دن کا التوا بھی ناقابل قبول سمجھا جائے۔

یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ 60دن میں اگر انتخابات نہیں ہوتے اور آئینی مدت گزر جاتی ہے، تو پھر ایک غیر معینہ مدت کے لئے انتخابات نہ ہونے کی بنیاد مہیا ہو جائے گی۔

نظریۂ ضرورت سامنے آئے گا اور یہ کہا جائے گا کہ احتساب کے عمل کو مکمل کرنے کے لئے وقت درکار ہے، اس لئے مہلت دی جائے۔ یہاں مجھے جاوید ہاشمی کی یہ بات یاد آرہی ہے کہ انتخابات اگر ملتوی ہوئے تو اگلے چالیس سال تک نہیں ہوسکیں گے۔

اس میں مبالغہ آرائی ضرور ہوسکتی ہے، مگر محاورتاً اس بات کو تسلیم کرنا اتنا غلط بھی نہیں ہوگا، کیونکہ یہاں ایک کے بعد دوسرا نظریہ سامنے آتا رہتا ہے اور تجربے پر تجربہ بھی کیا جاتا رہا ہے۔

یہ درست ہے کہ چیف جسٹس ثاقب نثار واشگاف الفاظ میں کہہ چکے ہیں کہ نہ تو کوئی جوڈیشل مارشل لاء آئے گا اور نہ ہی فوجی مارشل لاء لگانے کی اجازت دیں گے، مگر یہ دونوں نہ بھی ہوں اور نگران حکومت ایک نظریۂ ضرورت لے آئے، جس کے تحت سپریم کورٹ سے بھی رجوع کر کے انتخابات کے التوا کی اجازت مانگے تو اس صورت میں کیا ہوگا؟ پھر نہ تو جوڈیشل مارشل لاء آئے گا اور نہ ہی فوجی مارشل لاء لگے گا، بلکہ ایک چوں چوں کا مربہ اُس کی جگہ لے کر ملک کو تجربات کی نذر کردے گا۔

سیاسی جماعتیں اس ایک نکتے پر اکٹھی نہیں ہورہیں کہ انتخابات کا التواء کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا، بلکہ سیاسی طور پر ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں توانائیاں ضائع کر رہی ہیں۔ مَیں خود ایک سے زائد بار اس رجائیت کا اظہار کر چکا ہوں کہ انتخابات کسی صورت ملتوی نہیں ہوں گے۔

اسلام آباد میں مشاہد حسین سید سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے کہا کہ پاکستانی میڈیا کو تقسیم کردیا گیا ہے، اس تقسیم کا مقصد قوم کی رائے کو تبدیل کرنا ہے۔

ایک زمانہ تھا کہ میڈیا سے حکمران ڈرتے تھے، آج اُسے میسج کرتے ہیں، پھر ایسی افواہیں بھی اڑائی جاتی ہیں جن کا مقصد کچھ اور ہوتا ہے۔ انتخابات کے بروقت نہ ہونے کی افواہیں بھی اسی لئے پھیلائی جاتی ہیں، حالانکہ اس وقت انتخابات کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں۔

الیکشن کمیشن اپنا کام مکمل کرچکا ہے، سپریم کورٹ جمہوریت کی حفاظت کا تہیہ کئے ہوئے ہے، آرمی چیف جمہوریت کے ساتھ کھڑے ہونے کی بار بار یقین دہانی کرا چکے ہیں، پھر ایسی کون سی قوت ہے جو یہ نہیں چاہتی کہ انتخابات وقت پر ہوں۔

آخر یہ افواہیں سیاستدان کیوں اڑا رہے ہیں اور مفروضوں پر اظہار خیال کیوں کررہے ہیں؟ اگر مشاہد حسین سید جیسا با خبر سیاستدان پُراُمید ہے تو دوسرے سیاستدان اس حوالے سے شکوک و شبہات کیوں بڑھا رہے ہیں۔

آج کل سرِ بازار جو افواہ سب سے گرم ہے، اس کا تعلق بھی ایک ایسی کہانی سے ہے، جو فرضی واقعات پر مبنی ہے۔ جس طرح داستانوں میں ہوتا تھا کہ جادو گر نے یہ کیا تو اس کا نتیجہ وہ نکلے گا اور پھر اس کے بعد وہ غار سے خزانہ ڈھونڈنے میں کامیاب رہے گا۔

اب بھی یہ کہا جا رہا ہے کہ نواز شریف کو نیب کیسوں میں سزا نگران حکومت بننے کے بعد سنائی جائے گی، اس مفروضے کی توجیح یہ پیش کی جارہی ہے کہ شاہد خاقان عباسی کے دور میں یہ سزا سنائی گئی تو وہ صدر مملکت سے اسے معاف کرالیں گے۔ اس مفروضے سے جڑی ایک بقراطی یہ بھی ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی کوشش ہے کہ کوئی ایسا نگران وزیراعظم لایا جائے جو سزا معانی والا آپشن استعمال کرے۔

ایسا کہنے والے یہ بھول جاتے ہیں کہ نگران وزیراعظم اتنا با اختیار کہاں ہوتا ہے کہ زیر کو زبر کر سکے۔ اگر وہ اتنا ہی با اختیار ہو تو اپنی آئینی مدت بھی بڑھوالے اور مزے سے حکمرانی بھی کرتا رہے، البتہ اس بات میں وزن ضرور ہے کہ اگر نواز شریف کو سزا سنائی گئی اور وہ جیل چلے گئے تو صورت حال بگڑ بھی سکتی ہے۔

میاں صاحب آئے دن یہ کہتے ہیں کہ انہیں اڈیالہ جیل بھجوانے کی تیاریاں ہورہی ہیں۔ کیا انہوں نے اس صورت میں اپنی سیاسی جماعت کو کوئی پلان نہیں دیا ہوگا، کیا وہ چپ چاپ جیل چلے جائیں گے اور پیچھے سب کچھ اسی طرح چلتا رہے گا؟ شہباز شریف ابھی اپنے پتے شو نہیں کررہے، تاہم ان کا کردار بہت اہم ہے، وہ غالباً کسی صورت میں بھی یہ نہیں چاہیں گے کہ مسلم لیگ (ن) انتخابات سے باہر رہے یا انتخابات ملتوی ہوں۔ سوال تو یہ بھی ہے کہ مریم نواز کو یہ کیوں کہنا پڑا کہ دونوں بھائیوں میں اختلافات پیدا کرنے کی کوششیں کامیاب نہیں ہوں گی۔

یہ کوششیں کون کررہا ہے اور کون سے ایسے نکات ہیں، جن پر دونوں میں اختلافات پیدا ہوسکتے ہیں؟ ایک بہترین راستہ تو یہ ہے کہ نواز شریف واشگاف یہ اعلان کردیں کہ میرے جیل جانے کی صورت میں شہباز شریف ہر فیصلہ کریں گے، نیز مسلم لیگ (ن) کسی قیمت پر انتخابات کا بائیکاٹ نہیں کرے گی اور نہ ہی انہیں ملتوی ہونے دے گی۔ اس سے ایک طرف افواہوں کا سلسلہ بند ہو جائے گا اور دوسری طرف جو لوگ مسلم لیگ (ن) سے وابستہ ہیں، انہیں بے یقینی سے نکالنے میں مدد ملے گی۔

ضرور پڑھیں: سونا سستا ہوگیا

بادی النظر میں تو انتخابات کے لئے فضا انتہائی سازگار ہے، ملک میں امن و امان قائم ہے، لوگ ووٹ ڈالنے کے لئے بے تاب ہیں، سیاسی جماعتوں نے اپنی بھرپور تیاری کررکھی ہے، سیاسی جوڑ توڑ جاری ہے، الیکشن کمیشن بھرپور طریقے سے کام کررہا ہے، انتخابات کو شفاف بنانے کے لئے ابھی سے اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں، ترقیاتی سکیموں پر پابندی لگا دی گئی ہے اور کئی بھرتیاں بھی نہیں کی جاسکیں گی۔۔۔ اس سے پہلے سپریم کورٹ سیاسی شخصیات کی تصویروں والے اشتہارات کو بند کرچکی ہے۔ گویا سب کو یکساں مواقع میسر آرہے ہیں۔ یہ سب باتیں حوصلہ افزا ہیں، رہا احتساب کا معاملہ تو اُسے جاری رہنا چاہئے۔

یہ عمل اس صورت میں قابل قبول نہیں کہ پہلے احتساب کرکے بدعنوانوں کو نکالا جائے، اُس کے بعد انتخابات کرائے جائیں۔ یہ تو بھوسے میں سے سوئی تلاش کرنے کا عمل ہے۔ اس میں پڑنے کی بجائے جمہوریت کو چلنے دیا جائے۔

احتساب بیورو جیسے اب کام کررہا ہے، اُسی طرح کرتا رہے، اگر انتخابات کے نتیجے میں کچھ غلط لوگ اسمبلیوں میں آبھی جاتے ہیں تو اُن پر بھی ہاتھ ڈالا جاسکتا ہے۔ جب ملک کے ایک منتخب وزیر اعظم کا احتساب ہوسکتا ہے تو باقی کون بچتا ہے کہ جس پر ہاتھ نہ ڈالا جاسکے۔ بروقت انتخابات کے نکتے پر تمام سیاسی قوتوں کو کسی صورت تقسیم نہیں ہونا چاہئے، اس کے لئے کوئی بھی وجہ کیوں نہ بیان کی جائے، سب سے بڑی ذمہ داری نواز شریف پر عائد ہوتی ہے۔

اُن کی وجہ سے افواہیں جنم لیتی ہیں، انہیں اپنا واضح موقف سامنے لاکر انتخابات کے بروقت انعقاد کا مطالبہ کرنا چاہئے۔ انہیں اگر یہ خدشہ ہے کہ مسلم لیگ (ن) کو ایک خاص منصوبے کے تحت نشانہ بنایا جارہا ہے، دباؤ ڈال کر مسلم لیگ (ن) کے ارکان اسمبلی کو توڑا گیا ہے، مثلاً جنوبی پنجاب میں جو کچھ ہوا، تب بھی انہیں انتخابات کے بائیکاٹ کی بات نہیں کرنی چاہئے، بلکہ اس پر زور دینا چاہئے کہ انتخابات ہر صورت میں وقت مقررہ پر ہوں، مسلم لیگ (ن) اُن میں بھرپور حصہ لے گی۔

جوں جوں موجودہ حکومت کی مدت پوری ہونے کا وقت قریب آئے گا، توں توں یہ خدشات بڑھتے جائیں گے کہ شاید انتخابات شیڈول کے مطابق نہ ہوسکیں۔ ان خدشات کو ختم کرنے کے لئے مسلم لیگ (ن)، تحریک انصاف، پیپلز پارٹی اور دیگر سیاسی جماعتوں کو انتخاب نہیں احتساب کے نظریے کو پوری قوت اور اتفاق رائے سے مسترد کردینا چاہئے، کیونکہ یہ تماشا پہلے بھی کئی بار ہوچکا ہے۔

اس ملک کی اصل منزل جمہوریت ہے اور جمہوریت کے لئے ضروری ہے کہ انتخابات ہوں۔ اس نکتے پر سب سیاسی جماعتوں کا اتفاق اتنا ہی ضروری ہے، جتنا زندہ رہنے کے لئے آکسیجن۔ 

مزید : رائے /کالم