ہم خیال دوستوں کی تعداد 90سے زائد ‘ آئندہ ہفتے لائحہ عمل دینگے ‘ دوست کھوسہ

ہم خیال دوستوں کی تعداد 90سے زائد ‘ آئندہ ہفتے لائحہ عمل دینگے ‘ دوست کھوسہ

  

ڈیرہ غازی خان (نمائندہ خصوصی) سابق وزیراعلی پنجاب سردار دوست محمد کھوسہ نے کہا کہ مسلم لیگ ن کی جنوبی پنجاب کو الگ شناخت دینے کی خواہش نہ کل تھی نہ آج ھے(بقیہ نمبر26صفحہ12پر )

اور نہ ہی آئندہ ہوگی.. مسلم لیگ ن طاقت کی تقسیم کیخلاف ھے اور شہباز شریف نے گزشتہ روز بھی اپنے اراکین اسمبلی کو جنوبی پنجاب کے ایشوپر لولی پاپ دیا ھے ڈیرہ غازی خان میں اپنی رہائشگاہ پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سردار دوست کھوسہ نے انکشاف کیا کہ انکا مسلم لیگ ن میں ہم خیال دوستوں سے رابطہ ھے اور ہم خیال دوستوں کی تعداد 90 سے زائد ھے جن میں موجودہ اراکین قومی وصوبائی اسمبلی کی بڑی تعداد بھی شامل ھے انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن کو چھوڑنے والوں کا سلسلہ ابھی شروع ہوا ھے اور یہ کام فی الحال تھمنے والا نہیں ھے انہوں نے کہا کہ وہ آٰئندہ ہفتہ تک اپنے سیاسی لائحہ عمل کا اعلان کرینگے. دوست محمد کھوسہ نے کہا کہ بزرگ رہنماء سردار میر بلخ شیر خان مزاری اور مخدوم خسروبختیار نے سردار ذوالفقار کھوسہ سے رابطہ کیا تھا اور جلد ملاقات متوقع ھے انہوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب محاز کو تمام جماعتوں کی حمایت حاصل ہوگی اور اب ہر گھر سے الگ صوبے کی آواز نکلے گی. دوست کھوسہ نے کہاکہ ساوتھ پنجاب صوبے کی مخالفت کرنے والا آئندہ اسمبلی میں نہیں پہنچ سکے گا انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے جنوبی پنجاب اور یوسف رضاگیلانی نے سرائیکی صوبہ بنانے کا وعدہ کیاتھا تاہم دونوں نے بہاولپور جاکر بہاولپور کو الگ شناخت دینے کا اعلان کرکے ایک ہی خطے کے عوام کو تقسیم کرنے کی سازش کی تھی اور یوسف رضاگیلانی کے رویہ کی وجہ سے آصف علی زرداری کی جماعت کوساوتھ پنجاب میں بہت نقصان پہنچا اور انہوں نے کہا پیپلزپارٹی سمیت تمام جماعتوں کے لیے اب بھی موقع ھے کہ وہ جنوبی پنجاب کے ایشو کو ناصرف اپنے انتخابی منشور میں شامل کریں بلکہ اس کے قیام کے لیے عملی طور پر بھی اپنا حصہ ڈالیں تو انہیں ساوتھ پنجاب میں پذیرائی ملے گی۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -