نشتر ڈینٹل کالج ‘ پرنسپل ‘ ڈائریکٹر فنانس کی مستقل تعیناتی نہ ہونے سے معاملات درہم برہم

نشتر ڈینٹل کالج ‘ پرنسپل ‘ ڈائریکٹر فنانس کی مستقل تعیناتی نہ ہونے سے ...

ملتان( وقائع نگار) نشتر ڈینٹل کالج ملتان میں گزشتہ 10 سالوں سے مستقل پرنسپل کی تعیناتی ایک خواب بن کر رہ گئی ہے‘ جبکہ 9 سال سے زائد عرصے سے بیٹھے ہوئے ایم ایس کو بھی(بقیہ نمبر45صفحہ12پر )

بااثر ہونے کیوجہ سے ہٹایا نہیں گیا ۔ واضح رہے کڑوروں روپے کی لاگت سے نشتر انسٹی ٹیوٹ آف ڈینسٹری کو سابق وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کی ذاتی دلچسپی اور بروقت فنڈز کی فراہمی کے بعد تعمیر کیا گیا ۔ اس کے آغاز میں پروفیسرڈاٹکر سعید احمد کوپرنسپل مقرر کیا گیا تھا ۔ انکی ریٹائرمنٹ کے بعد حکومت پنجاب محکمہ صحت کی طرف سے تاحال مستقل پرنسپل کو نشتر انسٹی ٹیوٹ آف ڈینسٹری ڈینٹل کالج میں تعینات نہ کیا گیا ہے ۔ ڈاکٹر سعید احمد کے بعد جتنے بھی پرنسپل آئے وہ سب کے سب لاہور ڈی مونٹ مورنسی ڈینٹل کالج لاہور سے عارضی طور پر آئے ‘ جو مہینے میں ایک بار چکر لا کر ملتان کی ٹی ڈی اے بنا کر پھر غائب ہو جاتے تھے ۔ اسی طرح اب بھی لاہور میں ڈاکٹر محمد عثمان کو عارضی طور پر چارج دیا گیا ۔ جو وفاقی منسٹر سعد رفیق کے برادر نسبتی ہیں‘ اور بااثر ہونے کیوجہ سے ملتان ڈینٹل کالج میں نہیں آئے ۔ جس کیوجہ سے انتظامی معاملات متاثر ہیں ‘ اور یہی وجہ ہے یہ ہسپتال اپنے آپریشن تھیٹر کے بغیر چل رہا ہے ۔ دریں اثناء نشتر انسٹی ٹیوٹ آف ڈینسٹری میں ڈائریکٹر فنانس کی مستقل تعیناتی نہ ہونے کیوجہ سے ایم ایس ‘ ڈاکٹرز سمیت دیگر ملازمین کو گزشتہ دو ماہ سے تنخواہوں کی ادائیگی نہ ہو سکی ہے جسکی وجہ سے وہ شدید پریشانی میں مبتلا ہیں ‘ مذکورہ انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر فنانس چند ماہ قبل تبدیل ہوئے تھے انکی جگہ چوہدری پرویز الٰہی انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے ڈائریکٹر فنانس اپنے اضافی ذمہ داریاں بنھاتے رہے ہیں اور وہ بھی ریٹائرڈ ہو گئے ‘ اور پھر اس انسٹی ٹیوٹ پر تاحال کوئی مستقل تعیناتی نہ ہو سکی ہے جسکی وجہ سے ایم ایس ‘ ڈاکٹرز ‘ نرسیں بشمول درجہ چہارم ملازمین کو گزشتہ تقریباً دو ماہ سے تنخواہ نہ ملی ہے ۔ تنخواہوں کی فوری ادائیگی کے حوالے سے سپشلائزڈ ہیلتھ کیئراینڈ میڈیکل ایجوکیشن پنجاب کو مراسلہ لکھ کر بھجوایاگیا ہے ۔

مزید : ملتان صفحہ آخر