سسٹم ٹھیک کیے بغیر تبدیلی نہیں آئے گی،اشرف بھٹی

سسٹم ٹھیک کیے بغیر تبدیلی نہیں آئے گی،اشرف بھٹی

لاہور(نمائندہ خصوصی) پاکستان پیپلز پارٹی لاہور کے سنیئر نائب صدر محمد اشرف بھٹی نے کہا ہے کہ اگر چیف جسٹس آف پاکستان حکمرانوں اور ملک بھر کی بیورو کریسی کے بلا ضرورت بیرون ممالک سے علاج کروانے پر پابندی عائد کردیں تو ان کے اس صرف ایک آرڈر سے ہی پاکستان بھر کے سرکاری ہسپتالوں کی صورت حال خود بخود ہی ٹھیک ہو جائے گی کیونکہ جب تک حکمران اور سرکاری افسران ان سرکاری ہسپتالوں سے اپنا علاج معالجہ نہیں کروائیں گے تو تب تک ان ہسپتالوں کی حالت ٹھیک نہیں ہو سکتی جب کسی صوبے کے سیکرٹری ہیلتھ کو یا ملک کے حکمران کو کسی سرکاری ہسپتال کے ملازمین کی نازیبا گفتگو سننا پڑے گی اور اسے اپنے ٹیسٹوں کے لئے جب لمبی لمبی لائنوں میں کھڑا ہونا پڑے گا تو پھر اس کو اندازہ ہو گا کہ ایک غریب کے مریض کو جب سرکاری ہسپتال والے بروقت چیک نہیں کرتے تو ان پر کیا گذرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ جب تک سسٹم کو ٹھیک نہیں کیا جائے گا تب تک تبدیلی نہیں آئے گی اور تبدیلی کا آغاز حکمرانوں اور بیورو کریسی کو خود سرکاری ہسپتالوں میں اپنا علاج معالجہ کرواکر کرنا ہو گا اسی طرح کی صورت حال تعلیم کے شعبے کی ہے کہ جس میں نہ چھتیں ہیں نہ فرنیچر ہیں اور نہ ہی ضروریات کی اشیاء ہیں ایسی صورت ھال میں بچے کیسے تعلیم یافتہ ہوں گے اس شعبے میں بھی اگر ہنگامی صورت ھال نافذ کرکے سرکاری افسران کے بچوں اور حکمرانوں کے بچوں کو پابند کردیا جائے کہ وہ بھی سرکاری تعلیمی اداروں سے تعلیم حاصل کریں گے تواس شعبے کی حالت بھی بہتر ہو سکتی ہے اور میں امید کرتا ہوں کہ چیف جسٹس میری ان گزارشات کو قبول فرمائیں گے اور احکامات جاری فرمائیں گے۔

مزید : میٹروپولیٹن 1