پنجاب کانسٹیبلری سکینڈل میں گرفتاری، برطرفیوں کے باوجود اکاؤنٹس آفس میں رشوت، وصولی جاری

پنجاب کانسٹیبلری سکینڈل میں گرفتاری، برطرفیوں کے باوجود اکاؤنٹس آفس میں ...

ملتان( نمائندہ خصوصی ) ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفس ملتان کے پنجاب(بقیہ نمبر41صفحہ12پر )

کانسٹیبلری ملتان بٹالین سکینڈل میں ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفسران سمیت 10 سے زائد افسران اور آڈیٹرز کرپشن کیوجہ سے نوکریوں سے ہاتھ دھو چکے ہیں ‘ لیکن ان میں سے بیشتر نیب کے زیر حراست ہیں جبکہ 5 سے زائد افسران اور آڈیٹرز گرفتاریوں کے خوف سے روپوشی کی زندگی گزار رہے ہیں‘اس سب کے باوجود ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفس ملتان میں نہ تو رشوت وصولی روک سکی اور نہ ہی کمیشن مافیا گرفتار ہونیوالے افسران اور آڈیٹر کے انجام سے سبق سیکھ سکا ‘ ضلعی دفتر خزانہ کے نئے افسران اور آڈیٹرز نے گرفتار اور روپوش افسران اور اہلکاروں کو بھول کر اپنی روش پر قائم ہے ۔ بتایا گیا ہے پنجاب کانسٹیبلری ملتان بٹالین میں 23 کروڑ روپے سے زائد کے غبن کے بعد اکاؤنٹسٹ جنرل پنجاب نے ڈیپارٹمنٹل انکوائری کروائی ‘ جس کی روشنی میں ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفیسر بشیر احمد ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفیسر قمر مگسی اور ریٹائرڈ ڈسٹرکٹ باسط مقبول ہاشمی ‘ ڈپٹی ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفیسر سعید احمد ‘ محمد علی جعفری ‘ اسسٹنٹ اکاؤنٹس آفیسر ملک وقاص ‘ ‘ آڈیٹرز مدثر دریشک ‘ طاہر بخاری ‘ طاہر گجر اور احمد بخش جسکانی کو ملازمت سے برطرف کردیا ‘ ان افسران و اہلکاروں نے جعلی ملازمین کے اکاؤنٹس کھلوانے‘ ہائیرنگ فارمز کی تیاری میں پنجاب کانسٹیبلری کے اہلکاروں کے ساتھ برابر تعاون کیا اور بقایا جات کی ادائیگی میں کروڑوں روپے کمیشن کھڑا کیا ۔ اے جی پنجاب نے مذکورہ افسران کو ملازمت سے نکال دیا گیا اور محکمہ خزانہ ملتان میں داخلے پر پابندی عائد کردی ‘ ایس پی پنجاب کانسٹیبلری کے مراسلہ پر اینٹی کرپشن ملتان نے مقدمہ درج کیا ‘ اس مقدمہ میں ریٹائرڈ ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفیسر باسط مقبول ہاشمی ‘ ڈپٹی ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفیسر محمدعلی جعفری ‘ چوہدری سعید ‘ احمد بخش جسکانی اور مرکزی شکیل احمد کو حراست میں لے لیا ‘ شکیل احمد نے 48 لاکھ روپے کی برآمدگی بھی کرائی ‘ مدثر دریشک ‘ طاہر گجرکو نیب نے گرفتار کر رکھا ہے جن سے تفتیش کا عمل جاری ہے ‘ اس ساری صورتحال کا ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفس ملتان پر کوئی اثر نہیں ہے ‘ سینئر آڈیٹر کی گرفتاری پر خوشیاں منائی گئیں‘ گزشتہ 10 سال سے محروم آڈیٹرز نے اپنا گروپ بنایا ‘ طاہر بخاری ‘ مدثر دریشک کی گرفتاری اور نوکری سے معطلی نے ان پر خزانوں کے دروازے کھول دئیے ‘ ان آڈیٹرز نے پہلے اپنی مرضی کا ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفیسر ملتان تعینات کرایا ‘ بعدازاں مدثر دریشک اور طاہر بخاری کی اسائمنٹس کے حصول کیلئے آپس میں لڑ پڑے ۔ معلوم ہوا ہے 3 ہزار سے زائد لیڈی ہیلتھ ورکرز کی ملتان میں تنخواہوں کی منتقلی کے اسائمنٹ کے حصول کیلئے سینئر آڈیٹر اسد مگسی اور جونیئر آڈیٹر شہباز مگسی میں تندو تیز جملوں کا تبادلہ ہوا ۔ بعدازاں ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفیسر مہر ریاض ہراج نے یہ اسائمنٹ شہباز مگسی کو سونپ دیں ‘ بتایا گیا ہے فی لیڈی ہیلتھ ورکر 3 سے5 ہزار روپے وصول کر کے تنخواہ آن لائن کی گئیں ‘ جنہوں نے رشوت ادائیگی سے انکار پرانہیں دفاتر کے دھکے کھانے پر مجبور کردیا گیا ‘ ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفیسر مہر ریاض ہراج ن ان کی ایک نہ سنی ‘ بتایا گیا ہے مدثر رضا دریشک اور طاہر بخاری کی اسائمنٹس کی تقسیم میں خوشامدی ‘ کمیشن اور ذاتی خدمات کو مقدم رکھاگیا ۔ ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفیسر مہر ریاض ہراج نے کروڑوں روپے ماہانہ بجٹ والی ذاتی خدمات کے عوض دیدی گئی ‘ ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفس کے جی پی فنڈ اورپنشن سیکشن میں اب بھی سابق روٹین کے مطابق رشوت ‘ کمیشن وصولی کا سلسلہ جاری ہے ۔ جبکہ ایس ڈی اے اور آر ڈی اے کی پیمنٹ کی آڑ میں منہ مانگا کمیشن وصول کیا جا رہا ہے ۔ صورتحال اس بنچ تک پہنچ چکی ہے کہ کوئی بھی آڈیٹر زیر حراست آڈیٹرز کے انجام سے عبرت پکڑنے کو تیار نہیں ہے ‘ اس صورتحال میں شہریوں نے اکاؤنٹسٹ جنرل پنجاب سے کارروائی کا مطالبہ کیا ہے ۔

مزید : ملتان صفحہ آخر