ہونہار اقلیتی طلبا و طالبات کے داخلے کو یقینی بنانے کے حوالے سے اجلاس

ہونہار اقلیتی طلبا و طالبات کے داخلے کو یقینی بنانے کے حوالے سے اجلاس

لاہور( لیڈی رپورٹر) صوبائی وزیر انسانی حقوق و اقلیتی امور خلیل طاہر سندھو اور صوبائی وزیر ہائر ایجوکیشن سید رضا علی گیلانی کی زیر قیادت صوبہ بھر کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں ہونہار اقلیتی طلبا و طالبات کے داخلے کو یقینی بنانے اور 5%کوٹہ مختص کیئے جانے کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا۔ وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف کی جانب سے قائم کردہ کمیٹی کا پہلا اجلاس تھا۔ اقلیتی ایم پی اے کانجی رام ،سیکرٹری ہائر ایجوکیشن نبیل اعوان،چیئرمین پی ایچ ای سی،ڈی پی آئی کالجزکے علاوہ یونیورسٹی آف پنجاب ،گورنمنٹ کالج لاہوریونیورسٹی،لاہور کالج فار وومن یونیورسٹی،یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہورکے نمائندوں نے اجلاس میں شرکت کی۔صوبائی وزیر انسانی حقوق و اقلیتی امور خلیل طاہر سندھو نے اجلاس سے خطاب کے دوران کہا ہے کہ آئین پاکستان کے آرٹیکل 25کے مطابق تمام شہریوں کومساوی بنیادی حقوق حاصل ہیں اور پاکستان بھر میں امتحانات میں مذہبی الہامی علوم پراضافی نمبرز کا فائدہ مسلمان طلبہ کے ساتھ اقلیتی برادری کے طلبہ کو بھی دیئے جانے کی ضرورت ہے جیسا کہ حافظ قرآن طلبہ کے معاملے میں دیکھنے میں آتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ صوبہ پنجاب میں وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے تاریخی اقدامات کی بدولت تمام اقلیتوں کے لئے ہر میدان میں نمایاں خدمات وسہولیات فراہم کی گئیں ہیں۔ اقلیتی طلباء کو بھی لیپ ٹاپ،وظائف،آئی ٹی ٹریننگ جیسی سہولیات سے نوازا گیا ہے۔ اُنہوں نے کہاکہ وقت کی ضروت ہے کہ اقلیتی ذہین طلباء کے لئے صوبہ بھر کی بہترین یونیورسٹیز اور کالجز میں داخلے کیلئے 5%کوٹہ مختص کیا جائے تاکہ ہر بڑی درسگاہ میں اعلیٰ تعلیم کے حصول کے ذریعے اقلیتی طلباء بھی مستفید ہوکر ملک کے لیے خدمات سرانجام دے سکیں۔انہوں نے مزیدکہا کہ تمام اقلیتوں کی خواہش ہے کہ پروفیشنل ایجوکیشن اداروں میں بھی ان کی نمائندگی یقینی بنائی جائے کیونکہ اقلیتیں عام طور پر کالجز وغیرہ کی حدود تک ہی محدود رہ جاتی ہیں ۔صوبائی وزیر ہائر ایجوکیشن سید رضا علی گیلانی نے اپنے خطاب کے دوران کہا کہ بلا شبہ اقلیتوں کی پاکستان کی تعمیر و ترقی میں نمایاں خدمات ہیں اور بے شمار ذہین طلباء ملک پاکستان کا نام روشن کر رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ تعلیم حاصل کرنا ہر شہری کا بنیادی حق ہے اورصوبہ بھر کی تمام بڑی یونیورسٹیوں اور کالجز میں اقلیتی طلباء کی نمائندگی ضروری بنانا ہوگی کیونکہ دیکھنے میں آیا ہے کہ ہائر ایجوکیشن سے رجسٹرڈٖ نہ ہونے کے باعث اقلیتی طلباء و طالبات اعلیٰ نوکریوں سے محروم رہ جاتے ہیں۔ہم سب کو مل بیٹھ کر اقلیتوں کے تحفظات ختم کرنا ہوں گے تاکہ پوری دنیا میں ایک مثبت پیغام جائے کہ پاکستان میں تعلیم کی راہ میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں ہے۔صوبائی وزیر ہائر ایجوکیشن نے ایچ ای ڈی ،پی ایچ ای سی اور ڈائریکٹر کالجز کو ہدایت کی کہ ایک ہفتے کے اندر اِس حوالے سے تفصیلی رپورٹ مرتب کرکے سات روز بعد دوبارہ میٹنگ منعقد کی جائے کہ ہر یونیورسٹی میں اقلیتوں کے لےئے کتنا کوٹہ مختص کیا جا سکتا ہے۔

مزید : میٹروپولیٹن 1