نیب آرڈیننس مجریہ 1999ء کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا گیا

نیب آرڈیننس مجریہ 1999ء کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا گیا

لاہور(نامہ نگار خصوصی )نیب آرڈیننس مجریہ 1999 ء کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا گیا ہے ،اس سلسلے میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ 18 ویںآئینی ترمیم کی منظوری کے بعدنیب آرڈیننس 1999 ء کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے اور یہ ایک مردہ قانون ہے۔پاکستان لائیرز فاونڈیشن نے اے کے ڈوگر ایڈووکیٹ کی وساطت سے ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی ہے جس میں نیب آرڈیننس 1999 ء کی قانونی حیثیت پر مختلف نوعیت کے اعتراضات اٹھائے گئے ہیں۔ درخواست میں نشاندہی کی گئی ہے کہ جنرل پرویز مشرف نے بارہ اکتوبر 1999 ء میں منتخب حکومت ختم کر کے اقتدار پر قبضہ کیا اور آرڈیننس کے تحت احتساب کے لئے نیب کا ادارہ قائم کیا گیا،درخواست گزار نے اعتراض اٹھایا ہے کہ جنرل پرویز مشرف نے اپنے دور حکومت میں آئین کو معطل کر کے پی سی او کے تحت نظام حکومت چلایا، درخواست گزار تنظیم کے وکیل کے مطابق جنرل مشرف کی ایمرجنسی کو 18 ویں ترمیم میں تحفظ نہیں دیا گیا ،اس لئے 18 ویں ترمیم کی منظوری کے بعد جنرل مشرف کے اقدامات ملنے والا قانونی تحفظ ختم ہوگیاہے، درخواست گزار کے مطابق نیب آرڈیننس کے ذریعے لوگوں ہراساں کیا جا رہا ہے ، درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ نیب آرڈیننس قانونی افادیت کھو چکا ہے اور اس کو قانونی تحفظ نہ ہونے کے باوجود استعمال کیا جا رہا ہے ،اس لئے اس قانون کو مردہ قانون قرار دے کر نیب آرڈیننس کے ہونے والی کارروائیاں کالعدم قرار دی جائیں۔

مزید : صفحہ آخر