پنجاب حکومت انفارمیشن کمشنر کی تعیناتی، معلومات تک رسائی یقینی بنائے: پلڈ اٹ

پنجاب حکومت انفارمیشن کمشنر کی تعیناتی، معلومات تک رسائی یقینی بنائے: پلڈ اٹ

  

لاہور(خصوصی رپورٹ ) مار چ 2017 سے خالی نشستوں پر پنجاب حکومت فوری طور پر انفارمیشن کمشنر ز تعینات کرکے صوبہ بھر میں معلو ما ت تک رسائی کویقینی بنائے۔یہ مطالبہ پلڈاٹ کے زیر انتظام معلومات تک موثر رسائی سے متعلق بریفنگ میں شرکانے جنوبی پنجاب کے خواتین اور اقلیتوں کو بااختیار بنانے کیلئے رائیٹ ٹو انفارمیشن قانون کے موثر استعمال سے متعلق پلڈاٹ کے پرا جیکٹ کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا جو یو ایس ایڈ اور سفیرکے فنڈ پروگرام کے علاوہ پنجاب انفارمیشن کمیشن کے تعاون اور شراکت سے منعقد ہوا ۔اس موقع پر نعیم ملک ڈپٹی ڈائریکٹر پی آئی سی کا کہنا تھا پنجاب شفافیت اور معلومات کا حق ایکٹ 2013،انفارمیشن کمشنرزکی نشستیں خالی ہونے کے باوجود فعال ہے ،اس حوالے 4ہزار درخواستیں موصول ہوئی ہیں 400کے علاوہتمام نمٹادی گئی ہیں۔اس موقع پر پروفیسر کلیم اللہ خیبرپختونخواکے سابق انفارمیشن کمشنر کا کہناتھا بھارت میں معلومات تک رسائی کا قانون بہت موثر ہے ۔ احمد رضا طاہرسابق انفارمیشن کمشنر کا کہنا تھااس قانون کے تحت معلومات فراہم نہ کرنیوالوں کو جرمانہ کیا جاناچاہیے ۔ آسیہ ریاض جوائنٹ ڈائریکٹر پلڈاٹ کا کہنا تھا پنجا ب شفافیت اور معلومات کا حق ایکٹ 2013،حکومتی اداروں کی کارکردگی اور احتساب کے حوالے سے انتہائی اہم اقدام ہے اس قانون کے تحت معلومات کی فراہمی کو یقینی بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ پلڈاٹ نے اس حوالے سے بھر پور استعفادہ کیا ہے ۔ اس منصوبے کے تحت ہم نے دو ورکشاپس کی ہیں۔ اس موقع پر روزنامہ پاکستان کے چیف ایڈیٹر مجیب الرحمن شامی کا کہنا تھا پلڈاٹ کو چاہیے کہ وہ اس حوالے سے حکومت کو سفارش کر ے کہ نئے انفارمیشن کمشنرز کی تعیناتی تک پرانے انفارمیشن کمشنرز کو ہی اپنے فرائض جاری رکھیں ، پلڈاٹ کی اس تقریب میں 90زائد مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے و الے افراد نے شرکت کی، جس میں خواتین ، اقلیتی تنظیموں سمیت سول سو سا ئٹی کے نمائندوں کے علا وہ میڈیااور مقامی حکومتوں کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔

مزید :

صفحہ آخر -