لاہور میں بجلی چوری پیسکو، کیسکو، حیسکو سے بھی زیادہ: خورشید شاہ، حکومت، اپوزیشن مل کر مسائل حل کریں: سپیکر

لاہور میں بجلی چوری پیسکو، کیسکو، حیسکو سے بھی زیادہ: خورشید شاہ، حکومت، ...

اسلام آباد (نیوز ایجنسیاں)قومی اسمبلی میں بجلی چوری اور لوڈ شیڈنگ کی بازگشت، لاہور میں بجلی کی چوری پیسکو، کیسکو، حیسکو سے زیادہ ، ، لاہور میں 85فیصد بجلی انڈسٹریل و کمرشل اور 15فیصد ڈومیسٹک جبکہ پشاور، کوئٹہ اور اندرون سندھ میں 89فیصد ڈومیسٹک استعمال ہوتی ہے، چوری کے لاسز 8فیصد بھی نہیں،یہ ٹیکنیکل ہیں، تقریروں سے مسئلے حل نہیں ہوں گے،اپوزیشن لیڈر، ہمیشہ اولین خواہش رہی حکومت اور اپوزیشن باہمی مفاہمت سے قومی مسائل حل کریں، پارلیمانی رہنما ؤ ں سے بجٹ کے حوالے سے تجاویز لیں ،اسپیکر، زیادہ لاسزوالے علاقے میں وزیر اور وزیراعظم کا گھر بھی ہو ا تو لوڈشیڈنگ ہو گی، وفاقی وزیر توانائی، نگران وزیراعظم کا فیصلہ دو آدمی کیسے کر سکتے ہیں،ظفراللہ جمالی کی دہائی۔ تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے کہا ہے کہ تھرڈ پارٹی کی تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ لاہور میں بجلی کی چوری پیسکو، کیسکو، حیسکو سے زیادہ ہے، لاہور میں 85فیصد بجلی انڈسٹریل اور کمرشل اور15فیصد ڈومیسٹک میں استعمال ہو تی ہے جبکہ پشاور، کوئٹہ اور اندرون سندھ میں 89فیصد ڈومیسٹک استعمال ہوتی ہے، ہمیں سچ بولنا چاہیے،سندھ میں ایوریج 12گھنٹے اور بلوچستان میں 16گھنٹے لوڈشیڈنگ ہورہی ہے۔سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے پارلیمانی رہنما ؤ ں سے بجٹ کے حوالے سے تجاویز پر رائے لیتے ہوئے کہا ہے کہ میری ہمیشہ اولین خواہش رہی ہے کہ حکومت اور اپوزیشن باہمی مفاہمت کے ذریعے قومی ایشوکوحل کریں، پارٹی سیاست سے بالا تر ہو کر بجٹ کو باہمی مفاہمت کے ساتھ پیش ہونا چائیے۔ اجلاس میں محمود خان اچکزئی ، صاحبزادہ طارق اللہ، شیریں مہرالنساہ مزاری ،شاہ محمود قریشی ،سید نوید قمر، شیخ صلاح الدین ، ہارون اختر خان ،مفتاح اسماعیل ،رانامحمد افضل سمیت متعلقہ محکموں کے اعلی افسران نے شرکت کی۔ علاوہ ازیں قومی اسمبلی کو حکومت نے آگاہ کیا ہے کہ نیب کے رجسٹرڈ کیسز کی کل تعداد 12ہزار ایک سو 62ہے ، نیب میں سیاستدانوں، کاروباری افراد اور گریڈ 20اور اس سے اوپر کے سرکاری افسران کے زیر التواء اور جاری کیسز کی تعداد 946ہے ،پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے کہ لوڈشیڈنگ بڑھ گئی ہے، جن فیڈرز میں نقصان 10فیصد سے کم تھا وہاں لوڈشیڈنگ ختم کر دی ہے، لیکن جہاں نقصان زیادہ ہو گا وہاں تبدیلی نہیں آئے گی،جہاں نقصان زیادہ ہو گا وہاں وزیر اور وزیراعظم کا گھر بھی ہو گا تو لوڈشیڈنگ ہو گی،کے الیکٹرک کے اپنے معاہدے اور لین دین ہیں، حکومت کے الیکٹرک کو معاہدے سے زیادہ بجلی دے رہی ہے، ان خیالات کا اظہار اویس لغاری ، جنید انوار اور چوہدری نذیر نے ارکان کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے کیا۔دریں اثنا پوائنٹ آف آرڈر پر اظہار خیال کرتے ہوئے میرظفراللہ جمالی نے کہا ہے کہ اپوزیشن لیڈر اور وزیراعظم دو لوگ کون ہوتے ہیں جو نگران وزیراعظم کا انتخاب کریں،نوازشریف اور ان کی بیٹی مریم نواز کو کلثوم نواز کی عیادت کیلئے بیرون ملک جانے کی اجازت دی جانی چاہئے،وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کالا دھن سفید کرنے کیلئے ایمنسٹی سکیم کا اعلان کردیا ہے،میں چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کو سلیوٹ پیش کرتا ہوں کیونکہ وہ بلوچ ہیں،حکومت ایمنسٹی سکیم واپس لے۔

مزید : صفحہ آخر