مذاکرات کامیاب، دھرنا ختم ، راجہ ظفر الحق کی رپورٹ تحریک لبیک کو دی جائے گے ، فیض آباد دھرنے میں جاں بحق ہونے والے کارکنوں کا مقدمہ درج

مذاکرات کامیاب، دھرنا ختم ، راجہ ظفر الحق کی رپورٹ تحریک لبیک کو دی جائے گے ، ...

لاہور،راولپنڈی ،اسلام آباد،مری،مریدکے ،لیہ ،بورے والا(کرائم رپورٹر ، خبر نگار ، نمائندگان ، نیوز ایجنسیاں )تحریک لبیک یارسول اللہ اور پنجا ب حکومت کے مابین 11گھنٹے تک جاری رہنے والے مذاکرت بالآ خر رات گئے کامیاب ہو گئے ، حکومت نے تحریک لبیک یارسول اللہ کے مطالبات تسلیم کرتے ہوئے ختم نبوت حلف نامہ میں تبدیلی سے متعلق مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما راجہ ظفر الحق کی رپورٹ تحریک لبیک کے حوالے کر دی ، فیض آباد دھرنے میں جاں بحق ہونیوالے تحریک کے کارکنوں کا مقدمہ بھی درج کرلیا گیا۔رات گئے تحریک لبیک یارسول اللہ کی مجلس شوریٰ کا بھی اجلاس ہوا جس میں دھرنا ختم کرنے کا اعلان کیا گیا۔قبل ازیں تحریک لبیک یارسول اللہ نے حکومت کو مطالبات کی منظوری کیلئے دی گئی ڈیڈلائن ختم ہونے کے بعد اپنے اعلان کے مطابق احتجاج کا دائرہ وسیع کر دیا ، تحریک لبیک کے کارکنوں نے لاہور سمیت مختلف مقامات اور خصوصاً داخلی اور خارجی راستوں کو ٹریفک کیلئے بند کر دیا جس کی وجہ سے گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں، راستوں کی بندش کی وجہ سے مظاہرین اور شہریوں کے درمیان توں تکرار اور کئی مقامات پر تصادم بھی ہوا ،لاہور میں انتظامیہ کی جانب سے احتجاج کے بعد میٹرو بس سروس کو تاحکم ثانی معطل کر دیا گیا ، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور اطراف کے علاقوں میں بھی مظاہروں کے خدشے کے پیش نظر سکیورٹی سخت کردی گئی جبکہ اسلام آباد میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کا مشترکہ فلیگ مارچ بھی کیا گیا ۔ مظاہر ین نے یاد گار فلائی اوور ، شاہدرہ چوک سمیت شہر کے مختلف علاقوں میں ٹریفک کو بلاک کر دیا ۔احتجاج کے باعث داتا دربار،راوی نیا اور پرانا پل ،سگیاں پل ،شاہدرہ جی ٹی روڈ،لاری اڈہ ،رنگ روڈ،ریلوے اسٹیشن،کچہری چوک، بندروڈ ،موہنی روڈ کے علاقے میں ٹریفک کا بدترین جام ہو کر رہ گیا موٹر سائیکل اور گاڑی کا گز ر نا تو درکنار پید ل افراد کا بھی ان علاقو ں میں چلنا محال رہا ٹریفک کے بد ترین جام ہو جا نے کی وجہ سے داتادربار کی طرف آنے اور راوی پار جانے والے افراد کو کئی کئی کلومیٹر تک پیدل سفر کر نا پڑا جن میں بچے ،خواتین اور بوڑھے بھی شامل تھے ۔جبکہ بدترین ٹریفک کے جام ہو جانے کی وجہ سے متعدد ایمبولینس بھی ٹریفک میں پھنسی رہیں ۔ واضح رہے تحریک لبیک کا داتا دربار کے باہر مولانا خادم حسین رضوی کی قیادت میں گزشتہ کئی روز سے احتجاج جا ری تھا ۔مولانا خادم حسین رضوی کا کہنا تھا کہ دھرنا فیض آباد جن مطالبات پر ختم کیا گیا تھا ۔وہ مطالبات پورے کیے جائیں۔ حکومت کو 12اپریل تک کی ڈیڈ لائن دی گئی جو گزشتہ شام ختم ہونے پر ملک بھرمیں دھرنے دینے کا اعلان کر دیا گیا ہے ۔ کا رکنوں نے راوی کی طرف سے آنیوالی ٹریفک اور داتا دربار سے راوی کی طرف جا نیوالی ٹریفک کے لیے دربار کے نزدیک دونوں سڑکوں پر پہلے ہی رکاوٹیں کھڑی کر کے روڈ کو دونوں جا نب سے بلا ک کر رکھا تھا جس کے با عث اس علاقے سمیت دیگر ملحقہ سڑکوں پر پہلے ہی بدترین ٹریفک جام تھی ۔ ٹریفک کا بہاو متاثر ہونے کے ساتھ ساتھ شہری بھی سخت پریشان تھے ۔ ڈیڈ لا ئن ختم ہو تے ہی شہر کے داخلی اور خارجی راستوں پرٹر یفک کا پہیہ جام کر دیا گیا جس سے گاڑیوں کی لمبی لمبی قطاریں لگ گئیں ۔ بابو صابو بند روڈ پر ٹریفک کی روانی شدید متاثر رہی ۔ آخری اطلاع آنے تک داتا دربار کے علاقہ میں پولیس کی بھاری نفری موجود تھی اور امکان ہے کہ کسی بھی وقت مظاہر ین کے خلاف آپریشن کیا جا سکتا ہے ۔۔بیر ون لاہو ر سے لا ہور واپس آ نے والی گا ڑ یا ں رات گئے ٹر یفک میں پھنسی رہیں۔شہر کی درجنو ں سڑ کو ں پر ٹر یفک جا م ہو نے کے با عث شہر ی پر یشا ن ہو تے رہے۔کئی جگہو ں پر شہر ی حکو مت اور دھر نے والو ں کو کو ستے رہے۔شا ہد رہ ،ما ل روڈ اور جیل روڈ پر ایمبو لینسز میں مو جو د مر یضو ں کی ٹر یفک میں پھنسنے کے باعث طبعیت خر اب ہو گئی ۔لا ہور پو لیس نے دھر نے کے شر کا ء کو محد ود رکھنے کیلئے جگہ جگہ کنٹینر لگا دیئے۔اور ہنگا می حا لا ت میں مظا ہر ین کو قا بو کر نے کیلئے اینٹی رائیڈ فو رس کو بھی طلب کر لیا گیا ۔دھر نے کے ارد گر د کی سڑ کو ں پر کنٹینر لگا ئے جا نے سے بھی ٹر یفک کا نظا م مز ید خر اب ہو گیا ۔سینکڑ وں ٹر یفک وارڈنز بھی شہر میں ٹر یفک کی روانی کو قا ئم نہ رکھ سکے۔لا ہو ر کی متعد د سڑ کو ں پر دفا تر ،دکا نو ں اور ما ر کیٹو ں سے رات کے وقت گھر وں کو واپس جا نے والے ہز اروں شہر یو ں کی گا ڑ یا ں اور مو ٹر سا ئیکلیں بھی رش میں پھنسنے کے با عث رات گئے تک ہز اروں شہر ی اپنے گھر وں کو نہ پہنچ سکے۔دھر نے میں شا مل کئی افر اد اور شہر یوں میں تو تکا ر بھی ہو تی رہی جبکہ رات گئے لاہور پو لیس نے تو ڑ پھو ڑ کر نے کے الزام میں کئی مظا ہر ین کو گر فتا ر کر لیا ۔۔راولپنڈی میں بھی تحریک لبیک کے کارکن سڑکوں پر نکل آئے جبکہ فیض آباد کو بلاک کرنے کے لیے کارکنان شمس آباد جمع ہونا شروع ہوگئے ۔ کارکنوں نے لیاقت باغ چوک، مری روڈ اور مرکزی راستوں کو بند کردیا ہے جس سے شہر بھر میں بدترین ٹریفک جام ہو گیا ۔لیہ میں مذہبی جماعت کے کارکنوں نے گھوڑا چوک میں دھرنا دے کر ٹریفک کے تمام راستے بلاک کر دیئے ۔ مریدکے میں کارکنوں نے جی ٹی روڈ کو بلاک کر دیا جس سے گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔ بورے والا میں دھرنے کی وجہ سے پی آئی لنک نہر پر گاڑیوں کے قطاریں لگ گئی ہیں۔ حافظ آباد میں فوارہ چوک میں دھرنا دیا گیا ۔مذہبی جماعت کے دھرنے سے جی ٹی روڈ پر لاہور تا پشاور ٹریفک کا نظام درہم برہم ہوگیا ۔انتظامیہ کی جانب سے لاہور میٹرو بس سروس کو تا حکم ثانی بند کردیا گیا جس کی وجہ سے اپنے گھروں کو واپس جانے والے ہزاروں مسافر جن میں خواتین ،بچے اور بزرگ بھی شامل تھے منزل مقصود پر پہنچنے کی بجائے ٹریفک جام کی وجہ سے محصور ہو کر رہ گئے ۔راستے بند ہونے کی وجہ سے کئی شہریوں نے موٹر سائیکلیں اور اپنی گاڑیاں میٹرو بس کے ٹریک پر چڑھا دیں۔پولیس کی جانب سے بھی کسی بھی نا خوشگوار واقعہ سے نمٹنے کے لئے پیشگی انتظامات کئے گئے اور اینٹی رائٹ فورس اور پولیس کی بھاری نفری کو تعینات کر دیا گیا تاہم حتی الامکان تصادم سے گریز کیا گیا ۔ دوسری جانب حکومت اور تحریک لبیک کے وفد کے درمیان کئی گھنٹے تک مذاکرات کا دور بھی جاری رہا اور اس دوران واضح اعلان سامنے نہ آنے کی وجہ سے احتجاج جاری رہا جسکی وجہ سے لوگوں کو شدید مشکلات درپیش رہیں ۔ علاوہ ازیں تحریک لبیک پاکستان کے کارکنان کے لاہور کے کئی علاقوں میں احتجاج کے بعد وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف کی زیر صدارت مشاورتی اجلاس ہوا۔اجلاس میں مذہبی جماعت کے دھرنے پر تبادلہ خیال کیا گیا جبکہ شہباز شریف کو سکیورٹی صورتحال پر بریفنگ دی گئی۔اجلاس میں صوبائی وزیر قانون، ترجمان پنجاب حکومت اور چیف سیکرٹری سمیت قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حکام نے شرکت کی۔رات گئے ملنے والی اطلاعات کے مطابق تحریک لبیک کے راہنماؤں اور پنجاب حکومت کے درمیان کوئی اتفاق رائے نہ ہو سکا ،وزیر قانون پنجاب رانا ثناء اللہ کے مطابق مذکرات میں بیشتر نکات پر اتفاق ہوگیا ۔ ایک دو نکات پر اتفاق نہیں ہو سکا۔دوسری طرف علامہ خادم حسین رضوی نے دیگر قائدین کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے لاہور سمیت ملک بھر میں احتجاج کی کال دیتے ہوئے کہا کہ اسلام جو بھی قربانی مانگے گا ہم دینے کے لئے تیار ہیں،جب تک معاہدے پر عملدرآمد نہیں ہو جاتا دھرنے جاری رہیں گے،ہمارااحتجاج پرامن ہو گا لیکن اگرکسی نے ہمیں بلا وجہ چھیڑا تو ہماری گردنیں بھی حاضرہوں گی،جب تک معاہدے پر عمل درآمدنہیں ہوتا ہمارا دھرنا جاری رہے گا۔علامہ خادم رضوی کی کال کے فوری بعد پنجاب کے مختلف شہروں میں تحریک لبیک کے کارکن سڑکوں پر نکل آئے اور مین شاہراہیں بند کر کے احتجاج شروع کر دیا ۔تحریک لبیک کے مرکزی راہنما پیر محمد افضل قادری نے کہا ہے کہ تحریک لبیک ملک کی سب سے طاقتور مذہبی تحریک ہے ،پورا ملک تحریک لبیک کے پیچھے ہے ،ملک کی 80سے بڑی شاہرائیں بلاک ہو چکی ہیں جبکہ لاہور شہر کے بھی داخلی اور خارجی راستے بند ہو چکے ہیں ،جب معاہدے پر مکمل عمل درآمد ہوا تما م راستے کھول دیں گے۔ علامہ خادم رضوی کی کال پرجمعرات کی سہ پہر راولپنڈی میں تحریک لبیک پاکستان کے سینکڑوں لٹھ بردار کارکنان لیاقت باغ چوک پہنچ گئے جنہوں نے ٹائر جلا کر لیاقت باغ میں چاروں اطراف کی ٹریفک بلاک کر دی اور لیاقت باغ چوک میں دریاں بچھا کر دھرنا دیا ۔ کارکنوں نے فیض پور انٹر چینج اور لاہور جڑانوالہ روڈ پر فیض پور کے قریب دھرنا دیکر روڈ کو ہر قسم ٹریفک کیلئے بند کر دیا تفصیلات کے مطابق تحریک لبیک یار سول اللہﷺ نے اپنے مطالبات پورے نہ ہونے پر ایک بار پھر دھرنے د ینے شروع کر دیے ہیں تحصیل شرقپورور گردونواح کے سینکڑوں کارکنوں نے موٹر وے فیض پور انٹر چینج اور لاہور جڑانوالہ روڈ پر فیض پور کے قریب دھرنا دے دیا ہے ان کارکنوں کا کہنا ہے کہ وہ اپنے تحریک قائدین کے حکم کے پابند ہیں جبکہ ہمارے مطالبات پورے نہیں ہوتے ہم دھرنے پر بیٹھے رہیں گے۔مرید کے میں بھی رکنان نے جی ٹی روڈ پر ٹریفک بلاک کر دی۔گاڑیوں کی میلوں لمبی لائینیں لگ گئیں۔کارکنا ن کا مطالبات کی مظوری تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان ۔فاروق آباد میں بھی تحریک لبیک پاکستان کی کال پر ہڑتال اور دھرنا،فاروق آباد تحریک لبیک کے امیر کی قیادت میں کیوبی لنک کینال پر دھرنا دے کر سڑک بند کر دی ۔

احتجاج

مزید : صفحہ اول