25جون تک کسی گواہ نے نہیں کہا ٹرسٹ ڈیڈ جعلی ہے : واجد ضیاء

25جون تک کسی گواہ نے نہیں کہا ٹرسٹ ڈیڈ جعلی ہے : واجد ضیاء

  

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر،نیوز ایجنسیاں) احتساب عدالت میں نیب کی جانب سے شریف خاندان کیخلاف دائر لندن فلیٹس ریفرنس کی سما عت دوسرے روز بھی جاری رہی، مریم نواز کے وکیل امجد پرویز نے نیب کے گواہ واجد ضیاء پر جرح کی ،واجد ضیا ء کا کہناتھا 25 جون تک کسی گواہ نے نہیں کہا ٹرسٹ ڈیڈ جعلی ہے۔ نیلسن اور نیسکول کی ٹرسٹ ڈیڈ پر مریم نواز اور بطور گواہ کیپٹن (ر) صفدر کے دستخط ہیں جبکہ مریم نو ا ز کی طرف سے جمع کرائی گئی ٹرسٹ ڈیڈ جعلی ہے، دوران سماعت نوازشریف ،مریم نوازاور کیپٹن (ر)صفدر بھی موجود تھے۔ مریم نواز کے و کیل امجد پرویز نے استغاثہ کے گواہ سے جرح کرتے ہوئے پوچھا کیا یہ بات درست ہے سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی کو ٹرسٹ ڈیڈ کی تصد یق نہ کرنے کی ہدایت کی تھی، واجد ضیا نے کہا نہیں ،سپریم کورٹ نے سوال اٹھایا تھا نیلسن اور نیسکول کا اصل بینیفشل مالک کون ہے نیلسن اور نیسکول کی ٹرسٹ ڈیڈ پر مریم نواز اور بطور گواہ کیپٹن( ر) صفدر کے دستخط ہیں اور انہوں نے تصدیق کی یہ ٹرسٹ ڈیڈ کی اصل کاپی ہے، تاہم وہ یہ بتانے میں ناکام رہے کہ ٹرسٹ ڈیڈ کس جائیداد سے متعلق تھی ،دوران سماعت واجد ضیاء اور امجد پرویز کے درمیان مکالمہ بازی بھی ہو ئی ۔ واجد ضیا نے کہا آپ عدالت میں لکھوا دیں مریم نواز کی طرف سے ٹرسٹ ڈیڈ جمع کرائی گئی۔ امجد پرویز نے کہا وہ کیوں لکھوائیں ٹرسٹ ڈیڈ مریم نواز کی طرف سے جمع کرائی گئی۔ جس پر استغاثہ کے گواہ نے کہا بدقسمتی سے یہ ٹرسٹ ڈیڈ اصلی نہیں، واجد ضیا نے کہا ٹرسٹ ڈیڈ کا بغو ر جائزہ لیئے بغیر مریم نواز کا انٹرویو کیا۔ ٹرسٹ ڈیڈ پانچ جولائی کو سپیشل کورئیر سروس کے ذریعے کوئسٹ سولسٹر کو بھجوائی گئی چھ جولائی کو ٹرسٹ ڈ یڈ ریڈلے کو ملی۔مریم نواز کے وکیل نے سوال کیا فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی جے آئی ٹی نے کب خالی کی؟ واجد ضیا نے بتایا 22 جولائی کو تمام د ستاویزات جو سپریم کورٹ کے قبضے میں چلی گئیں ، ڈپٹی رجسٹرار نے وصولی کے دستخط کئے ۔ گواہ کا کہناتھا جتنی باتیں آپ پوچھ رہے ہیں ہم لکھتے تو 100 والیم بنتے ، واجد ضیاء نے بتایا کوئسٹ سولسٹر راجہ اختر میرے کزن ہیں ،کوئسٹ سولسٹر نے جے آئی ٹی کی ہدایت جیریمی فری مین باکس کو ای میل بھیجی ،امجد پرویز نے پوچھا راجہ اختر کو کتنی رقم دی گئی ، واجد ضیاء نے جواب دیا راجہ اختر کی سی وی اور پروفائل قبضہ میں نہیں لیں اور نہ ہی جے آئی ٹی رپورٹ کیساتھ منسلک کی ،انٹیلی جنس کے دو لوگوں نے راجہ اختر کی مکمل چھان بین کی ،کیس کی سماعت آج بروز جمعہ دس بجے دوبارہ ہو گی ۔

لندن فلیٹس ریفرنس

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر ، نیوز ایجنسیاں)احتساب عدالت میں شریف فیملی کیخلاف دائر لندن فلیٹس ریفرنس کی سماعت کے دوران مریم نواز کے وکیل امجد پرویز اور نیب پراسیکیوٹر کے درمیان تلخ کلامی بھی ہوئی،یہ صورتحال اس وقت پید ا ہوائی جب نیب پراسیکیوٹر افضل قریشی نے کہا آپ سوال کے بعد تبصرہ نہ کریں ، کیس کی حدود کے اندر رہتے ہوئے سوالات کرناکافی ہے ۔ امجد پرویزنے کہا میں سوال کررہا ہوں تبصرہ نہیں کررہا ہوں اس پر افضل قریشی نے کہا حضور والا یہاں جلسہ نہیں ہورہا بلکہ عدالت ہے ،آپ کے پیچھے لوگ کھڑے ہیں انہیں پتہ ہو نا چاہیے یہ جلسہ گاہ نہیں، آپ سوال کرکے ان لوگوں سے کمنٹس لیتے ہیں اور پھر تبصرہ کرتے ہیں، اس پر امجد پرویز نے کہاافضل قریشی صاحب آپ کی خبر اخبار کی زینت بنی ہوئی ہے جس میں آپ نے عمران خان کی شادیوں کا تذکرہ کیا تھا۔

مزید :

صفحہ اول -