’’محرومیوں ‘‘کی بنیا د پر صوبے بننے لگے تو ملک ’’صوبستان‘‘ بن جائیگا

’’محرومیوں ‘‘کی بنیا د پر صوبے بننے لگے تو ملک ’’صوبستان‘‘ بن جائیگا

تجزیہ: قدرت اللہ چودھری

راتوں رات ایک ’’جنوبی پنجاب صوبہ محاذ‘‘ تشکیل پا گیا ہے جس کے صدر خسرو بختیار ہیں جو قومی اسمبلی کے رکن ہیں، وزیر مملکت بھی رہے ہیں، ان کے کچھ ساتھی بھی ایسے ہیں جو اُن کے ساتھ ہی منتخب ہوئے تھے لیکن یاد نہیں پڑتا کہ اِن حضرات میں سے کسی نے کبھی بھولے سے بھی جنوبی پنجاب کا نام لیا ہو، اگر انہوں نے کبھی کہا تو یہ کہا کہ شہبازشریف جنوبی پنجاب کو باقی صوبے کے برابر لانے کے لئے کوشاں ہیں۔ صوبہ بنانا تو رہی دور کی بات انہوں نے اُن محرومیوں کا بھی کبھی ذکر نہیں کیا جو انہیں اب یاد آ گئی ہیں۔ اِس محاذ کی جانب سے ایک اشتہار شائع کرایا گیا ہے جس میں انسان اور جانور ایک ہی تالاب سے پانی پی رہے ہیں، غالباً اسے محرومیوں کے استعارے کے طور پر پیش کیا گیا ہے ورنہ جہاں تک پینے کے لئے صاف پانی نہ ملنے کی شکایت کا تعلق ہے یہ کسی ایک صوبے یا کسی ایک شہر تک محدود نہیں ہے، بہت سے علاقے اس بدقسمتی میں حصے دار ہیں تاہم اگر یہ محرومی کسی علاقے کو صوبہ بنانے کے لئے واحد معقول وجہ جواز ہے تو پھر پاکستان میں کئی سو صوبے بننے چاہئیں، البتہ یہ ضمانت پھر بھی نہیں دی جا سکتی کہ انہیں صاف پانی ملے گا کیونکہ صاف پانی کے لئے صوبہ نہیں ٹیوب ویل اور فلٹریشن پلانٹ بنانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ انسان اور جانور تو اندرون سندھ بھی ایک ہی گھاٹ پر پانی پیتے ہیں لیکن آپ دیہی سندھ کو صوبہ بنانے کی بات کرکے تو دیکھیں، آپ کو فوراً ہی اندازہ ہو جائے گا کہ آپ ایک غلط سُر الاپ بیٹھے ہیں تاہم اس سے آپ کہیں یہ نہ سمجھ لیں کہ ہم محرومیوں کے ازالے کے مخالف ہیں۔ جہاں تک کسی بھی صوبے کو تقسیم کرکے نیا صوبہ بنانے کا سوال ہے اس وقت بہت سے ایسے علاقے موجود ہیں جہاں نئے صوبوں کے مطالبات کئے جاتے ہیں، سب سے پرانا مطالبہ تو بلوچستان کو بلوچ اور پشتون صوبے میں تبدیل کرنے کا ہے، اس صوبے میں بلوچوں اور پشتونوں کی آبادی بھی تقریباً مساوی ہے۔ ایک سیاسی جماعت اس کی اس حد تک حامی ہے کہ اس نے اپنا نام ہی ’’پشتونخوا ملی عوامی پارٹی‘‘ رکھ لیا ہے، لیکن ابھی اس جانب عملاً زیادہ پیش رفت نہیں ہو سکی۔ بہاول پور پنجاب کی ایک خوشحال ریاست تھی جسے صوبے میں ضم کرکے اس کا ریاستی درجہ ختم کر دیا گیا۔ نواب بہاول پور اور اُن کے خاندان نے یہ فیصلہ قبول کر لیا اور نواب بہاول پور پنجاب کے گورنر بھی رہے۔ معلوم نہیں نواب خاندان کے لوگ اپنی سابق ریاست کو صوبہ بنانے کے خواہش مند ہیں یا نہیں لیکن بہاول پور کے چند سیاستدان اس کے لئے آواز اُٹھاتے رہے ہیں اور اب بھی چند آوازیں اس کے حق میں اٹھتی رہتی ہیں۔ اسی طرح ایک زمانے میں سرائیکی صوبے کا معاملہ اٹھایا گیا جسے کوئی پذیرائی شاید اس لئے بھی نہ مل سکی کہ سرائیکی جس خطے میں بولی جاتی ہے وہاں غیر سرائیکیوں کی آبادی بھی سرائیکی بولنے والوں کے تقریباً برابر ہے پھر خیبر پختونخوا کے پنجاب سے ملحقہ علاقے ڈیرہ اسماعیل خان میں سرائیکی بولی جاتی ہے، تو کیا اس کو خیبر پختونخوا سے کاٹ کر کسی مجوزہ سرائیکی صوبے کا حصہ بنایا جائے گا۔ اسی طرح سندھ کے پنجاب سے ملحقہ اضلاع میں بھی سرائیکی بولی جاتی ہے غالباً سرائیکی صوبے کا نعرہ لگانے والوں نے گہرائی میں جا کر ان مشکلات کا اندازہ نہیں لگایا اور جب عملی مشکلات کا سامنا ہوا تو پھر انہوں نے سرائیکی صوبے کا متبادل ’’جنوبی پنجاب‘‘ میں ڈھونڈا، اب مشکل یہ آن پڑی ہے کہ جنوبی پنجاب میں بہاول پور بھی شامل ہے۔ جنوبی پنجاب کے حامی چاہتے ہیں کہ بہاول پور بھی اس کا حصہ ہو لیکن ریاست بہاول پور کی صوبے کی شکل میں بحالی کا مطالبہ کرنے والے الگ صوبہ چاہتے ہیں۔ اس لئے جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کو پہلے بہاول پور والوں کے ساتھ بیٹھ کر یہ مسئلہ حل کرکے آگے بڑھنا چاہئے، عملاً اس معاملے میں راستے میں بہت زیادہ مشکلات ہیں خصوصاً آئینی ترمیم اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتی جب تک تمام بڑی سیاسی جماعتیں متفق نہ ہوں اور نہ صرف پارلیمینٹ بلکہ پنجاب کی اسمبلی کا کردار بھی اس ضمن میں بڑی اہمیت رکھتا ہے۔

سیاسی جدوجہد اپنی جگہ، لیکن آئینی ترمیم کے بغیر کوئی بھی نیا صوبہ نہیں بن سکتا اور پارلیمینٹ آئینی ترمیم دو تہائی اکثریت سے کر سکتی ہے، البتہ اگر کوئی صوبہ بنانے کے لئے آئینی ترمیم مطلوب ہو تو پارلیمینٹ کے علاوہ اس صوبے کی صوبائی اسمبلی میں بھی دو تہائی اکثریت سے قرارداد منظور کرنا ضروری ہے۔ آئین کے آرٹیکل (4)239 میں کہا گیا ہے کہ ’’کسی صوبے کی حدود کو بدلنے سے متعلق آئین میں ترمیم کو صدر مملکت کی منظوری کے لئے اس وقت تک پیش نہیں کیا جائے گا جب تک متعلقہ صوبائی اسمبلی اسے کل ارکان کی کم از کم دو تہائی اکثریت کے ساتھ پاس نہیں کر دے گی‘‘ اب سوال یہ ہے کہ اگر جنوبی پنجاب صوبے کی ساری نشستیں بھی صوبے کے حامی جیت جائیں تب بھی اس وقت تک صوبے کی حدود تبدیل نہیں ہو سکتیں۔ جب تک پارلیمینٹ اور پنجاب اسمبل دو تہائی اکثریت کے ساتھ ترمیم منظور نہ کر لیں۔ اس کا حل یہ ہے کہ ترمیم کے لئے اس طرح کا پیکیج تیار کیا جائے جس طرح اٹھارہویں ترمیم کے وقت کیا گیا تھا لیکن جو انتخابی منظر اس وقت سامنے نظر آ رہا ہے اس میں تو کسی سیاسی جماعت کا سادہ اکثریت حاصل کرنا ہی بڑی بات ہوگی۔ ایسے میں ترمیم کے لئے دوتہائی اکثریت کا حصول کوئی آسان کام نہیں ہوگا لیکن اس وقت تک دل کے بہلانے کو جنوبی پنجاب صوبے کا تصور برا نہیں ہے۔

مزید : تجزیہ