وفاق کا پختونوں سے امتیازی سلوک ناقابل برداشت ہے :حیدر ہوتی

وفاق کا پختونوں سے امتیازی سلوک ناقابل برداشت ہے :حیدر ہوتی

  

صوابی (بیورورپورٹ)عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی نے پختونوں کے ساتھ وفاق کی امتیازی سلوک یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح طور پر اعلان کردیا کہ پاکستان ہمارا ملک ہے اور جب ہم اپنے ملک کے اندر پنجابی ،سندھی اور بلوچوں کے حقوق مانتے ہیں تو پھر وفاق پختونوں کے حقوق کیوں نہیں مانتے ،ہم تشدد کے راستے نہیں بلکہ قانون کے مطابق اپنے حقوق اور وسائل کے حصول کے بات کرتے ہیں اور اس حوالے سے کسی امتیازی سلوک برداشت کرنے کو تیار نہیں ،ان خیالات کا اظہار انہوں نے صوابی گراؤنڈ میں ضلعی صدر حاجی امیررحمن کی صدارت میں ایک بڑے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا ،جس سے ضلعی جنرل سیکرٹری محمد اسلام خان نے بھی خطاب کیا ،جبکہ اس موقع پر امیرحیدر خان ہوتی نے نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کے ضلعی عہدیداروں سے حلف بھی لے لیا ،جلسے میں مرکزی صدر اسفندیار ولی خان بیماری کے باعث شرکت نہ کرسکے ،جس پر امیرحیدر خان ہوتی نے ان کی طرف سے شرکاء جلسہ سے معذرت کی ،امیرحیدر خان ہوتی نے کہا کہ ہم فاٹا سمیت تمام پختونوں کا ایک صوبہ چاہتے ہیں ،پختون علاقے میں کھینچے گئے لکیر کو نہیں مانتے ہیں ، انہوں نے کہا کہ پچاس دن بعد پرویز خٹک اس صوبے کا وزیراعلیٰ اور اسدقیصر سپیکر کے منصب پر نہیں رہے گا ،عوام اور ہم ان کا شدت سے انتظار کررہے ہیں ،عمران خان کو کرپشن ختم کرنے کا واویلا مچانے والے ان کے وزیراعلیٰ پرویز خٹک خود کرپشن کے سب سے پرانا فیکٹر ی ہے ،جس نے ہمشیہ اس صوبے کی سیاست سے بے وفائی ، اصولوں کی خلاف ورزی اور کرپشن کی ہے ، وزیراعلیٰ مالم جبہ کی تحقیقات کیوں نہیں کرتے اسی طرح ان کے دور حکومت میں ان کی صوبائی احتساب کمیشن کیوں تالے لگائے گئے ،اسی طرح بلین ٹری منصوبے میں ریکارڈ کرپشن کی گئی اس کی تحقیقات کیوں نہیں کرتے ، اس سے ظاہر ہورہا ہے کہ صوبائی حکومت کی کرپشن میں ہاتھ رنگے ہوئے ہیں ، عمران خان خیبرپختونخوا میں اپنی حکومت اور بہترین اورمثالی قرار دے رہیں لیکن ان کی بہترین حکومت کے دور میں صوبے کا خزانہ خالی پڑا ہوا ہے ،بہترین کارکردگی کے نتیجے میں آج صوبائی حکومت کنگال ہے ،اسی طرح بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی پی ٹی آئی حکومت نے تین سو ارب قرضہ لیا ہوا ہے جو پاکستان بننے کے بعد کسی بھی حکومت نے اتنا قرضہ نہیں لیا ہے ،اسی طرح ان کی بہترین حکومت کے ایک ایک ممبر گاجر مولی کی طرح سینیٹ الیکشن میں تین سے چار کروڑ روپے تک بکے اوران ممبران نے تین تین جگہ ووٹ فروخت کرنے کا سودا کیا ،انہوں نے آصف علی زردای کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آصف علی زرداری کسی پر بھاری ہو یا نہ ہو لیکن عمران خان پر بھاری ثابت ہوئے ،عمران خان پہلے آصف علی زرداری کو ملک کا سب سے بڑا بیماری کہہ رہے تھے اب وہی آصف علی زرداری عمران خان کیلئے سب سے بڑی دوائی بن گئی ، انہوں نے کہا کہ عمران خان دعوی کرتا ہے کہ میں نے پاکستان کی سیاست سے گند اور کرپشن ختم کی ہے اگر ان میں ہمت ہے تو سب سے پہلے اپنے گھر سے گند صاف کیلئے اپنے وزیراعلیٰ اور وزاء کے خلاف کاروائی شروع کریں ، انہوں نے کہا کہ صوبے میں بیروزگاری گدھے بیچنے اور چوہے مارنے سے ختم نہیں ہوگی بلکہ ہم اقتدار میں آکر نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے کیلئے میرٹ اور قرعہ اندازی کے ذریعے دس دس لاکھ روپے دینگے ،بجلی سمیت چوبیس بڑے منصوبوں پر کام شروع کرکے خیبرپختونخوا اور پاکستان کو تحفہ دینگے ،انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے نئے منصوبوں پر کام شروع کرنے اوراس منصوبوں پر تختیاں لگانے پر جو پابندی عائد کردی ہے اسلئے میرا یہ مطالبہ ہے کہ کسی سیاسی ورکر کے منصوبے پر اور کوئی ورکر کے نام کی تختی لگانے پر بھی پابندی لگادیں ،انہوں نے کہا کہ اب ہم اور باچاخان بابا کے پیروکار میدان نکل کر مورچے میں کھڑے ہیں اب پختونوں میں بے اتفاقی اور اختلافات کی کسی صورت گنجائش نہیں ہے اسے ختم کرنا ہوگا ،اور اس حوالے سے سازش کرنے والوں سے بھرپور مقابلہ کرینگے ، اے این پی باچاخان بابا خدائی خدمتگاروں اور ان کے ورثاء کی تحریک اور جدوجہد کی تسلسل ہیں ، اس امانت کا بھرپور خیال رکھیں گے ،ایک نہیں اگر دس سپیکرز بھی آجائیں تو اس تحریک کو ختم نہیں کرسکے گا ،اے این پی جعلی تبدیلی ،کنٹینرز پر ناچ گانے والوں اور جعلی لوگوں کی پارٹی نہیں بلکہ پختونوں کی تحریک اور بھائی بندی کی جماعت ہے ،انہوں نے کہا کہ میں بطور جرگہ ہر ضلع جاکر برملا اعلان کرتاہوں جب پنجاب کی ترقی کیلئے پنجاب کی قیادت اور سندھ کے عوام سندھ کی قیادت کے ساتھ کھڑے ہیں اور یہی قیادت ہمیشہ پختونوں کو اپنا حقوق اور اختیارات نہیں دیتی اسلئے آج پختون قوم کو لاڑکانہ ،لاہور اور بنی گالہ قیادت کی بجائے پختون قیادت کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا ،اگر موقع ملا تو اقتدار میں آنے پر وفاق سے صوبے کیلئے نیا این ایف سی ایوارڈ لانے کے علاوہ بجلی اور تمباکو کی آمدن صوبے لانے اور ہر ضلع میں یونیورسٹیاں بنائیں گے

مزید :

پشاورصفحہ آخر -