پبلک سروس کمیشن،خلاف میرٹ تقرری کی سفارش پر حکم امتناعی جاری

پبلک سروس کمیشن،خلاف میرٹ تقرری کی سفارش پر حکم امتناعی جاری

مظفرآباد (بیورورپورٹ)پبلک سروس کمیشن کی طر ف سے خلاف میرٹ تقرری کی سفارش پر چیف جسٹس عدالت عالیہ ایم تبسم آفتاب علوی نے حکم امتناعی جاری کر دیا۔ موجودہ پی ایس سی پرانی پی ایس سی کی روش پر عوام میں تشویش گڈگورننس کے دعوے سوالیہ نشان ممبر اسمبلی حلقہ 6 کی ذاتی خواہش پر جعلی تقرری کی سفارش کی گی تفصیل کے مطابق پی ایس سی نے محکمہ تعلیم میں مقابلے کے امتحان کے لیے 21 فروری 2015 کو ایک اشتہار جاری کیا جس کی درخواستیں جمع کرنے کی آخری تاریخ 25 مارچ 2015 تھی ۔ 28جنوری 2018 کو تحریری امتحان ہوئے جس میں معذور کوٹہ کی اوپن میرٹ کی آسامی پر مسما صداقت عباسی زوجہ لیاقت قیوم عباسی نے آزادکشمیر بھر میں ٹاپ کیا مگر پی ایس سی نے ثنا لطیف کیخلاف میرٹ تقرری کی سفارش کر دی جس پر عدالت عالیہ نے 11اپریل 2018 کو حکم امتناعی جاری کیا ۔ ثنا لطیف ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفسیر جہلم ویلی پروین لطیف کی حقیقی بہن ہیں جس نے سیاسی اور محکمانہ اثر ورسوخ سے اپنی تقرری کروانے کی کوشش کی ۔ ثنا لطیف جونئیر معلمہ کی آسامی پر 27جنوری 2018 کو زیر نمبر 423-25مڈل سکول موجی لیپہ کرناہ میں حاضر ہوئی جب کہ اسی تاریخ کو ہیڈ مسٹرس کے ٹیسٹ کے لیے پی ایس سی میں حاضر ہوتی ہیں اس صورت حال سے ثابت ہوتا ہے کہ ثنا لطیف کی جعلی حاضری ہوئی یا ان کا پی ایس سی کا ٹیسٹ جعلی تھا ایک خاتون ایک ہی وقت میں دو جگہ کیسے حاضر ہوسکتی ہے ۔موجی لیپہ کرناہ سے ریشیاں تک پیدل نصف دن کا سفر ہے اس لیے کہ جنوری میں لیپہ کرناہ میں 8سے 10فٹ برف ہوتی ہے ویل چیئر پر معذور ثنا لطیف ریشیاں سے موجی اور موجی سے ریشیاں اور پھر ریشیاں سے مظفرآباد سفر کر کے ٹیسٹ کے لیے کیسے پہنچی ہیں پی ایس سی میں جو اشتہار جاری ہوا س کی درخواستیں جمع کروانے کی آخری تاریخ 25مارچ2015 تھی جب کہ ثنا لطیف نے 2ماہ 18دن بعد معذوری کا سرٹفیکیٹ حاصل کیا اور اسے بعد ازاں پی ایس سی میں جمع کروایا۔ واضح رہے کہ مسما صداقت عباسی نے 56 جب کہ مدمقابل ثنا لطیف نے 52نمبر حاصل کیے ۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پی ایس سی کے کچھ ممبران ثنا لطیف کی حمایت کر رہے ہیں۔اس کے نامکمل کاغذات پر اس کی درخواست کیسے وصول کی گی ۔ثنا لطیف نے ایک ہی سیشن میں بی ایڈ اور ایم ایس سی کیا یہ کیسے ممکن ہوا پی ایس سی کے عملہ کی جانبداری ایک اور معاملہ سے ثابت ہوتی ہے کہ پی ایس سی کی جانب سے درخواست فارم میں مسما صداقت عباسی نے تصدیق شدہ اسناد کی جو کاپیاں شامل تھی ان میں اکتوبر 2012 کو جاری ہونی والی ایم ایس سی کی ڈگری غائب کر دی گی ۔دوران ٹیسٹ مسما صداقت عباسی کو پی ایس سی نے قانونی حق ہونے کے باوجود رائٹر کی سہولیت فراہم نہیں کی اس کے باوجود روشنائی کی معذوری کا شکار مسما صداقت عباسی مقابلے کے امتحان میں آزادکشمیر بھر سے ٹاپ کیا مگر بااثر حکومتی اور محکمانہ سفارش کی حامل خاتون کی جعلی تقرری کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر