3دن میں لوڈشیڈنگ ختم نہ ہوئی تو کراچی بند کر دیا جائے گا:حافظ نعیم الرحمٰن

3دن میں لوڈشیڈنگ ختم نہ ہوئی تو کراچی بند کر دیا جائے گا:حافظ نعیم الرحمٰن

کراچی(این این آئی)جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے 3دن کا الٹی میٹم دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اذیت ناک لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ اور کراچی کے شہریوں کو ریلیف نہیں ملا تو ریڈ زون میں دھر نے اور پورا شہر بند کرنے کا اعلان کیا جائے گا ، جمعہ 13اپریل کو شہر میں 50سے زائد مقامات پر احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے ، بجلی تقسیم کار کمپنی کو عوام پر ظلم ڈھانے اور لوٹ مار کر کے بھاگنے نہیں دیا جائے گا ، کراچی پاکستان کا شہر ہے ، اسلام آباد کی طرف سے اسے نظر انداز کیے جانے کا عمل ختم کیا جائے ،وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کراچی کے عوام کولوڈشیڈنگ سے نجات دلائیں ۔ گورنر سندھ وفاق کے نمائندے ہیں ، ہم نے ان پر اعتماد اور اعتبا رکیا لیکن افسوس کہ گورنر صاحب نے ہمارے 17نکاتی مطالبات منظور کرانے کے بجائے اسے نظر انداز کردیا ۔ چیف جسٹس آف پاکستان سے درخواست کرتے ہیں کہ کراچی میں بدترین لوڈ شیڈنگ کا نوٹس لے کر کراچی کے شہریوں کو ریلیف دلوایا جائے۔ ۔ان خیالات کا اظہا ر انہوں نے اذیت ناک لوڈ شیڈنگ کے خلاف کے گذری میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر نائب امیر کراچی برجیس احمد ، سکریٹری کراچی عبد الوہاب، ڈپٹی سکریٹری و پبلک ایڈ کمیٹی جماعت اسلامی کراچی کے صدر سیف الدین ایڈوکیٹ ، ڈپٹی سکریٹری عبد الواحد شیخ ، عمران شاہد ، سکریٹری اطلاعات زاہد عسکری، امیر جماعت اسلامی ضلع جنوبی عبد الرشید ، سکریٹری ضلع سفیان دلاور اور دیگر بھی موجود تھے۔ حافظ نعیم الرحمن نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ اصل حقائق عوام کے سامنے آنے چاہیئے اور عوا م پر ظلم کرنے اور لوٹ مار کے عمل سے باز رکھنے کے لیے عملی اور ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے ، جماعت اسلامی کی عوامی جدوجہد کے باعث ہی ٹیرف میں اضافہ نہیں کیا جاسکا ہے ، دیگر پارٹیوں کو بھی اب زبانی جمع خرچ سے آگے بڑھ کر عملی طور پر کچھ کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ گیس کی کمی صرف بہانہ ہے ،انہوں اپنے پلانٹس کی استعدادی گنجائش سے پیدا کردہ اور NTDC اور IPPs سے حاصل کردہ بجلی 3200میگاواٹ سے زیاد ہ ہے جبکہ حالیہ موسم گرما کی انتہائی طلب 2600 میگاواٹ ہے ، جوکہ دستیاب بجلی سی کم ہے ۔انہوں نے کہا کہ آج پھر کراچی میں بد ترین لوڈ شیڈنگ سے شہری اور تاجر طبقہ شدید پریشانی کا شکار ہے ، تاجر کاروبار نہیں کرسکتے اور صنعتی اداروں پر کام بند ہوگیا ہے ، طالب علم امتحان دینے اور تیاری کرنے میں مشکلات کا شکا ر ہیں۔ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ اس حوالے سے مختلف طبقات اور اسٹیک ہولڈر سے بھی رابطے اور مشاورت کی جائے گی تاکہ مؤثر تحریک چلائی جاسکے۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر