تحریک لبیک اور حکومت کے درمیان رات گئے مذاکرات کامیاب، احتجاج ختم

تحریک لبیک اور حکومت کے درمیان رات گئے مذاکرات کامیاب، احتجاج ختم
تحریک لبیک اور حکومت کے درمیان رات گئے مذاکرات کامیاب، احتجاج ختم

  

اسلام آباد، لاہور(ویب ڈیسک) تحریک لبیک یا رسول اللہ ؐ نے رات گئے حکومتی وفد سے کامیاب مذاکرات کے بعد دھرنا ختم کرنے کااعلان کردیا جبکہ فیض آباد دھرنے میں جاں بحق تحریک کے کارکنوں کے قتل کا مقدمہ درج کرلیاگیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق تحریک لبیک اور حکومتی ٹیم میں مذاکرات کامیاب ہوگئے۔ یہ مذاکرات 11 گھنٹے تک جاری رہے جس کے بعد بریفنگ دیتے ہوئے تحریک کی ٹیم نے کہاکہ فیض آباد میں تحریک کے کارکنوں کے جاں بحق ہونے کا مقدمہ درج کرلیاگیا۔

مقدمے میں قتل کی دفعات بھی شامل کی گئی ہیں جبکہ فریقین نے راجہ ظفرالحق رپورٹ شائع کرنے پر بھی اتفاق کرلیاگیا۔ تحریک لبیک کی مذاکراتی ٹیم نے منظور کردہ کردہ مطالبات شوریٰ کے سامنے پیش کردیئے۔ راولپنڈی کے تھانہ صادق آباد میں قتل اقدام قتل وغیرہ کی دفعات کے تحت نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔مقدمہ کے مطابق گولیوں اور شدید پتھرائو کی زد میں آکر حافظ عدیل، زوہیب، جہانزیب، ظہور، نواز اور حافظ عاشرعرفان محمود، اور شیر ولی شہید ہوگئے۔ ایف آئی آر کے اندراج کے بعد کاپی واٹس ایپ پر لاہور منگوائی گئی۔

یاد رہے کہ جاں بحق ہونے والے جماعت اسلامی کے کارکن کے لواحقین کی جانب سے درخواست تھانہ صادق آباد میں پڑی ہے جس میں ایک سابق اور موجودہ وفاقی وزیر سمیت راولپنڈی کے آر پی او، اسوقت کے سی پی او سمیت دیگر پولیس افسران کو نامزد کیا گیا ہے لیکن اس پر تاحال کسی قسم کی کاروائی عمل میں نہیں لائی گئی جبکہ تحریک لبیک کے احتجاج کے بعد مقدمہ نمبر 325درج کیا گیا ہے۔

قبل ازیں تحریک لبیک نے اپنی ڈیڈ لائن ختم ہونے کے بعد گزشتہ روز ملک گیر سطح پر احتجاج کا سلسلہ شروع کردیا، کارکنوں نے صوبے کے مختلف شہروں کے داخلی و خارجی راستوں پر دھرنے دے دیے۔ لاہور میں آزادی فلائی اوور، شاہدرہ چوک، چونگی امرسدھو، ٹھوکر نیاز بیگ، چوہنگ، پکا میل، داروغہ والا، بھاٹی چوک، چوک یتیم خانہ، گرینڈ بیٹری، بابوصابو انٹرچینج، نیا کاہنہ، بتی چوک ،امامیہ کالونی پھاٹک اور دیگر مرکزی شاہرائوں پردھرنا دیاگیا جس سے شہر میں ٹریفک کا نظام مفلوج ہو کر رہ گیا اور شہری خوار ہو گئے، شہر کے بیسیوں مقامات پر تحریک لبیک کے کارکنان نے جمع ہوکرحکومت کیخلاف نعرے بازی کی۔

شاہدرہ، چونگی امرسدھو، بابو صابوکے مقامات پر تحریک لبیک کے کارکنوں نے متعدد لوڈر گاڑیوں کے ٹائروں سے ہوا نکال کر انہیں کہیں جانے کا نہیں چھوڑا، شاہدرہ میں مظاہرین پولیس پارٹی پربھی جھپٹ پڑے تاہم صورتحال قابو میں رہی۔ شاہدرہ، بھاٹی چوک کے مقام پر مظاہرین نے سپیڈو بس سے تمام سواریاں زبردستی اتار کر ان بسوں کوکھڑا کردیا، پرائیویٹ ٹرانسپورٹ کے ذریعے نقل و حرکت کرنیوالے بھی میلوں لمبی ٹریفک کی قطاروں میں پھنسے رہے۔

رپورٹ کے مطابق تحریک لبیک کے سربراہ علامہ خادم حسین رضوی اور پیر افضل قادری کی زیر صدارت شوریٰ کے اجلاس میں ملک بھر میں تحریک لبیک کی تنظیموں کو سڑکیں بلاک کرنے کی ہدایت کی گئی۔ جمعرات کی صبح داتا دربار چوک میںدھرنے کے مقام پر جمع ہونا شروع ہوگئے تھے۔ کارکنوں نے بھاٹی چوک میں ٹائر جلاکر احتجاج کیا جس کے بعد شہر میں سڑکوں کی بندش شروع ہو گئی۔

دھرنوں کی وجہ سے شہر بھر میں ٹریفک جام ہوگئی۔ داخلی اور خارجی راستے بند ہونے سے شہر میں آنے اور شہر سے باہر جانے والے افراد کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، شہری گاڑیوں میں محبوس ہوکر رہ گئے۔ ملتان روڈ، جی ٹی روڈ پر بھی بدترین ٹریفک جام دیکھنے میں آیا، متعدد مقامات پر شہریوں اور مظاہرین میں تلخ کلامی بھی ہوئی۔ ٹریفک پولیس نے مظاہروں کے بعد ٹریفک ایڈوائزری بھی جاری کی۔سی ٹی او لاہور رائے اعجاز احمد کے مطابق کینال روڈ،جیل روڈ، فیروزپور روڈ (چونگی امرسدھو تک) ٹریفک کیلئے کھلی رہی، مال روڈ، مین بلیوارڈگلبرگ روڈ، مولانا شوکت علی روڈاور والٹن روڈ سمیت اہم شاہراہیں ٹریفک کیلئے کھلی ہیں۔ ٹریفک پولیس کی جانب سے شہریوں کو رنگ روڈ کو زیادہ سے زیادہ استعمال کرنے کی تجویز دی گئی۔تحریک لبیک کے احتجاج کے باعث موٹر وے مختلف مقامات پر بند رہی۔قومی شاہراہ پر حسن ابدال، ٹیکسلا، سرائے عالمگیر، گجرات ،کامونکی ، مریدکے، مو ہلنوال، جمبر، پتوکی، ساہیوال اور چیچہ وطنی روڈ احتجاج کی وجہ سے بند رہی۔ موٹروے ایم ٹو شیخوپورہ سے لاہور تمام ٹریفک کیلئے بند رہی۔

ملتان جانے والی ٹر یفک رائے ونڈ کی طرف موڑ دی گئی، ملتان سے لاہور آنے والی ٹریفک مانگا منڈی سے رائے ونڈ کی طرف، پتوکی کے قر یب ٹر یفک چھانگا مانگا سے براستہ چونیاں، ساہیوال کے قر یب ٹریفک پاک پتن چوک سے نور شاہ روڈ اور گیمبر کی طرف سے ساہیوال، چیچہ وطنی کے قر یب ٹریفک بورے والا کی طرف سے ملتان، ملتا ن سے آنے والی ٹریفک کسوال سے پرانی چیچہ وطنی روڈ کی جانب موڑ دی گئی۔

راولپنڈی میں پریس کلب لیاقت باغ کے باہر روڈ بلاک کرکے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا مظاہرین نے رات گئے تک اپنا احتجاج جاری رکھا۔ خانیوال میں میلاد مصطفیٰ چوک میں احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ ساہیوال میں مظاہرین نے ویو موڑ جی ٹی روڈ پر رکاوٹیں کھڑی کر کے سڑک بلاک کر دی۔کئی گھنٹوں سے بند ٹریفک میں ایک ایمبولینس بھی پھنسی رہی۔ مسافر گرمی میں پانی کو ترستے رہے۔

کوٹ رادھا کشن میں کارکنوں نے چھانگا مانگا۔رائیونڈ روڈ کو بلاک کردیا،کئی گھنٹوں بعد بھی راستے بحال نہ ہوسکے۔ جی ٹی روڈ مریدکے اور کالا شاہ کاکوروڈ پر ٹریفک بلاک کر دی گئی، ہزاروں مسافر گاڑیوں میں قید ہو کر رہ گئے۔ مظاہرین نے سروس روڈ کے ذریعے نکلنے والے مسافروں کے ساتھ بھی بداخلاقی کا مظاہرہ کیا۔تحصیل سرائے عالمگیر کے ڈنڈا بردارکارکنوں نے نہر اپر جہلم کے سنگم پر واقع پلوں کو رکاوٹیں کھڑی کرکے مکمل طور پر بند کر دیا۔ نارووال میں ظفروال بائی پاس،کامونے میں سٹی چوک، پتوکی میں ملانوالہ بائی پاس، حافظ آباد میں فوارہ چوک، سیالکوٹ میں چائنہ چوک پر دھرنا دیا گیا۔ سمبڑیال میں پریس کلب کے باہر مظاہرہ ہوا، وزیر آباد،سکھیکی میں بھی دھرنا دیا گیا۔

حیدر آباد کے حیدر چوک پر تحریک لبیک کے کارکنوں نے دھرنا دیکر ٹریفک کی آمدورفت معطل کر دی۔ کراچی سے اسٹاف رپورٹرکے مطابق تحریک لبیک کے قائدین کی اپیل پر کراچی سمیت اندرون سندھ کے مختلف اضلاع میںحکومت کی جانب سے فیض آباد دھرنے کے معاہدے پر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث ہزاروں لوگ ریلیوں کی صورت میں سڑکوں پرنکل آئے۔بہادرآباد میں تحریک لبیک سندھ کے صوبائی امیرمفتی غلام غوث بغدادی نے مرکزی ریلی کے آغاز پر ریلی کے شرکاسے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ نااہل لیگ کی وفاقی حکومت نے معاہدہ فیض آباد کی پاسداری نہ کرکے کراچی سے پشاور تک افراتفری پھیلادی ہے۔ بعد ازاں یہ ریلی نورانی چورنگی نمائش پر پہنچ کر ایک بڑے مرکزی دھرنے میں تبدیل ہوگئی۔

تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے معاہدہ فیض آباد پر عمل کرنے اور مطالبات کے حق کے سلسلے میں احتجاجی ریلی نکالی گئی ریلی کے شرکا نے نمائش چورنگی پر پہنچ کر دھرنا دے دیا۔ اس موقع پر شرکا کا مطالبہ تھا کہ فیض آباد معاہدہ اور دیگر مطالبات منظور کیے جائیں۔

مزید : اہم خبریں /قومی