قذافی کے قتل میں سابق فرانسیسی صدر نکولس سرکوزی نے کردار ادا کیا، امریکی صحافی کا انکشاف

قذافی کے قتل میں سابق فرانسیسی صدر نکولس سرکوزی نے کردار ادا کیا، امریکی ...
قذافی کے قتل میں سابق فرانسیسی صدر نکولس سرکوزی نے کردار ادا کیا، امریکی صحافی کا انکشاف

  

واشنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکی تحقیقاتی صحافی ایرس ایس مورگولس کا کہنا ہے کہ فرانس کے سابق صدر نکولس سرکوزی لیبیا کے سابق حکمران معمر قذافی کے قتل کی سازش میں شریک تھے اور بہت جلد وہ اس الزام کا سامنا کرنے والے ہیں ۔ نکولس سرکوزی نے اپنے بہترین دوست قذافی کو صرف اس وجہ سے قتل کرایا کیونکہ قذافی نے سرکوزی کو دی گئی خفیہ فنڈنگ کا تذکرہ اپنے بیٹے اور قریبی ساتھیوں کے ساتھ کیا تھا جبکہ فرانس نے اس وجہ سے بھی لیبیا پر حملہ کیا کیونکہ وہ افریقہ میں اپنا اثرورسوخ بحال کرنا اور لیبیا کے بہترین تیل کے کنووں پر قبضہ کرنا چاہتا تھا۔

دنیا نیوز کے مطابق امریکی تحقیقاتی صحافی ایرک ایس مورگولس نے اپنے ایک کالم میں دعویٰ کیا ہے کہ فرانس کے سابق صدر نکولس سرکوزی لیبیا کے سابق حکمران معمر قذافی کے قتل میں ملوث ہیں اور بہت جلد ان پر اس قتل کی سازش کا الزام لگ سکتا ہے۔سابق فرانسیسی صدر نکولس سرکوزی اوران کے سابق چیف آف سٹاف کلاڈ گوئنٹ سے 2007 کی انتخابی مہم کیلئے قذافی سے خفیہ طور پر پانچ کروڑ یورو لینے کے الزام کی تحقیقات ہو رہی ہیں۔ یہ ادائیگی فرانسیسی قانون کے تحت سیاسی عطیات کی قابل اجازت حد کی خلاف ورزی ہے، غیر ملکی فنڈنگ پر پابندی اور امیدوار کا اس طرح کی ادائیگیوں کی رپورٹ نہ کرنا بھی قابل تعزیر ہے۔سرکوزی تیل پیدا کرنیوالی خلیجی ریاستوں سے خفیہ ادائیگیوں کے الزامات پر بھی زیر تفتیش ہیں۔ انتخابی فنڈنگ کی حد کم ہونے پر امریکہ کی طرح فرانس کے سیاسی امیدواروں کو اپنی مہم کے دوران مشکلات کا سامنا رہتا ہے، یہ اس لئے ہے تاکہ کوئی امیدوار بھاری رقم لگا کر الیکشن خرید نہ سکے۔ قذافی اور گوئنٹ پر الزامات کئی سال سے لگ رہے تھے مگر ہمیشہ خاموشی اختیار کی گئی۔

فرانس کو لیبیا کے اعلیٰ معیار کے تیل میں دلچسپی تھی، شمالی افریقہ پر سابق اثرورسوخ کی بحالی کیلئے بھی پیرس لیبیا کو راہداری کے طور پر استعمال کررہا تھا۔ خطے کے ان انتہا پسند باغیوں کے خلاف فرانس اور لیبیا کا خفیہ گٹھ جوڑ بھی چل رہا تھا جو کہ مغربی اور وسطی افریقی ملکوں پر فرانس کے مسلط کردہ کٹھ پتلی حکمرانوں کیخلاف لڑ رہے تھے۔ پھر سرکوزی اچانک قذافی کے خلاف، اور ان کا تختہ الٹنے کی امریکی و برطانوی کوششوں کے حصہ دار بن گئے اور ایسا فرانس نے پہلی مرتبہ نہیں کیا تھا۔2007میں سرکوزی فرانس کے صدر بنے اور وہ اور قذافی بظاہر اچھے دوست تھے، لیبیا کے رہنما نے پیرس کا دورہ کیا تو صدارتی محل کے گراو¿نڈ میں بدوی خیمہ لگایا گیا۔

سرکوزی نے اس وقت کی امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن کے مطالبے کو مان لیا کہ اپنے اتحادی کے خلاف جنگ میں شامل ہو کر تیل کے ذخائر پر قبضہ کر لیں۔ امریکی، فرانسیسی اور برطانوی جنگی طیاروں اور سپیشل فورسز نے لیبیا پر حملہ کیا، جسے ریسکیو مشن کا نام دے کر غلط بیانی کی گئی۔ فرانسیسی طیارے نے قذافی کے کانوائے کو نشانہ بنایا، سپیشل فورسز اور لیبیا کے زر خرید مظاہرین نے قذافی کو پکڑا ، تشدد کیا، پھر گولی مار کر ہلاک کر دیا۔

قذافی سے ایک سنگین غلطی ہوئی تھی، اس نے بڑے بیٹے سیف قذافی اور چند سینئر افسروں کو سرکوزی کو خفیہ ادائیگی کا بتا دیا تھا۔ جب سیف قذافی نے یہ انکشاف کیا، سرکوزی نے فوری لیبیا پر حملے کا حکم دیدیا۔فرانسیسی انٹیلی جنس دشمنوں اور باعث زحمت بننے والوں کو مٹانے کی بہت مہارت رکھتی ہے۔ فرانسیسی محکمہ انصاف قذافی کے قتل اور سرکوزی کے درمیان تعلق کے کمزور سرے تک پہنچ جائے گا مگر سرکوزی کے براہ راست ملوث ہونے کا ٹھوس ثبوت اس کے پاس نہیں ہوگا۔ اگر جارج ڈبلیو بش اور ڈک چینی لاکھوں عراقیوں کی ہلاکت کی ذمہ داری سے صاف بچ سکتے ہیں تو چھوٹی سے حرکت پر سرکوزی کے خلاف کارروائی کیوں کر ہو گی۔

مزید : بین الاقوامی /عرب دنیا