پہلی شکست

پہلی شکست
پہلی شکست

  

کچھ عرصے قبل ایک صاحب نے مجھے بتایا کہ ان کی شادی ایک دوسرے خاندان میں ہوئی۔ شادی کے دوران میں ان کی ساس کو ان کے گھر والوں سے کچھ شکایات پیدا ہوئیں ۔ جس کا اظہار ان کے تلخ رویے سے ہوا۔مگر اس کے جواب میں ان کے گھر والوں نے بہت صبر اور تحمل سے کام لیا۔ ان کی بیٹی کے ساتھ کوئی برا سلوک نہیں کیا بلکہ ان کی توقعات سے اچھا سلوک کیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ کچھ ہی عرصے میں لڑکی کے گھر والوں کو اپنی غلطی کا احساس ہو گیا۔ا نہوں نے اپنے سابقہ رویے کی معافی مانگ لی۔ یوں جس کہانی کا انجام ہمارے معاشرے کے عام رویے کے مطابق طلاق اور زندگی بھر کی گھریلو ناچاقیوں پر ہونا چاہیے تھا، وہ معاملہ ایک بہت اچھے انداز میں طے ہو گیا۔

انسانی زندگی کا اصول ہے کہ جب برائی کا جواب برائی سے دیا جاتا ہے تو شر بڑھتا چلا جاتا ہے ۔ خاص کر رشتے ناتوں  میں اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کی کوشش میں آخر کار اینٹ و پتھر اور رشتہ و ناطہ سب  ٹوٹ جاتے ہیں اور تمام فریق ایک تکلیف دہ صورتحال سے گزرتے ہیں ۔

اس کے برعکس اگر  ابتد اہی میں اعراض اور درگزرکا راستہ اختیار کیا جائے تو تھوڑی تکلیف  اٹھا کر نہ صرف  ایک تباہ کن صورتحال سے محفوظ رہا جا سکتا ہے بلکہ دوسرے فریق کو بھی اس کی غلطی کا احساس دلایا جا سکتا ہے ۔تاہم ایسا کرنا کوئی آسان کام نہیں ۔ اس کے لیے انسان کو اپنی انا کو کچلنا پڑتا ہے ۔ انتقام لینے کی قدرت کے باوجود معاف کرنا ہوتا ہے ۔ دوسرے کی برائی پر صبر کر کے اسے allowance دینا ہوتا ہے ۔اپنی پہلی شکست کو حوصلے سے جھیلنا ہوتا ہے ۔

یہ کام مشکل ہے ، مگر اسی کے بعد انسان دنیا وآخرت میں بہترین نتیجہ دیکھتا ہے ۔ دنیا میں لوگوں کی نگاہ میں بڑا مقام پا کر اور آخرت میں خدا کی رحمت  حاصل کر کے ۔ 

۔

 نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ