امریکہ کی شکست اور بلبلاہٹ 

13 اپریل 2018 (16:28)

صابر ابو مریم

شام سمیت عراق اور یمن ، بالخصوص فلسطینیوں کی استقامت و مزاحمت کے سامنے امریکہ کے یکے بعد دیگر تمام منصوبے ناکامیوں کا شکار ہو چکے ہیں۔ امریکی حکومت نے شام اور عراق میں دہشت گرد گروہوں کی حمایت اور داعش کو اس لئے پروان چڑھایا تھا کہ دونوں ممالک کو تقسیم کیا جاسکے اور گریٹر اسرائیل کے منصوبہ پر نئی طرز سے عمل درآمد کیا جائے جس کے نتیجہ میں مشرق وسطیٰ کے متعدد ممالک کو چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں تقسیم کر کے براہ راست امریکی وصیہونی تسلط میں لانا تھا۔ بہر حال کئی سال کی خون ریزی انجام دینے کے بعد امریکی حکومت کو شکست کا سامنا اس وقت کرنا پڑا جب پورے کا پورا عراق وہاں کی اعلیٰ مذہبی قیادت آیت اللہ سیستانی کے ایک فتوے کے بعد متحد ہو گیا اور داعش سمیت امریکی منصوبوں کو ناکام کر دیا۔ اب امریکہ کے لئے عراقیوں کا اتحاد درد سر بنا ہوا ہے، ۔
شام کی بات کریں تو یہاں بھی شامی عوام کا اتحاد اور افواج کی پائیدار استقامت نے نہ صرف شام کا دفاع کیا بلکہ شام میں موجود ستر ممالک سے لائے گئے دہشت گرد گروہوں سے ڈٹ کر مقابلہ بھی کیا۔دراصل شام و عراق کے عوام اور فورسز نے نہ صرف امریکہ کا مقابلہ کیا بلکہ امریکی بلاک میں موجود خطے کی تمام ریاستوں بشمول صیہونی غاصب ریاست اسرائیل اور قطر وترکی سمیت سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک کا مقابلہ بھی کیا ہے کیونکہ شام اور عراق میں موجود دہشت گرد گروہوں کا تعلق امریکہ و اسرائیل سمیت خطے کی ان عرب و خلیجی ریاستوں کے ساتھ تھا جن کو باقاعدہ مالی و مسلح معاونت دی جا رہی تھی۔
امریکہ نے شام و عرا ق میں جہاں ایک طرف دہشت گرد گروہوں کی مالی و مسلح معاونت کی وہاں چند ایک مسلمان ممالک میں اسلام کے لبادے میں چھپے گروہوں کو بھی مالی وسائل سے نواز کر شام و عرا ق کے مسائل کو فرقہ وارانہ بنیادوں پر بھڑکانے کا ٹھیکہ بھی دیاتھا۔
قارئین کو یاد ہو گا کہ گزشتہ ماہ شامی دارالحکومت کے نزدیکی علاقہ مشرقی غوطہ کے بارے میں خبریں آ رہی تھیں کہ جس کی حقیقت یوں تھی کہ چند ایک دہشت گرد گروہوں نے علاقے کی بڑی آبادی کو انسانی ڈھال بنا رکھا تھا اور حکومت سے جاری مذاکرات کے عمل کو بھی سبوتاژ کیا تھا جس کے بعد شامی افواج نے بڑے پیمانے پر کارروائی کی اور اب تازہ اطلاعات کے مطابق ان تمام علاقوں سے دسیوں ہزار لوگوں کو کہ جن کو ڈھال بنایا گیا تھا آزاد کروایا گیا ہے اور بڑی تعداد میں دہشت گرد مارے گئے ہیں ۔جو باقی بچے ہیں انہوں نے معافی کی اپیل کی ہے جس پر شرائط کے ساتھ حکومت معافی کے عمل پر کام کر رہی ہے۔
ہمیشہ کی طرح اس مرتبہ بھی امریکہ اپنی اس بدترین شکست کو تسلیم کرنے سے قاصر ہے۔ایک طرف امریکہ کا منصوبہ ناکام ہواہے تو دوسری طرف فلسطین میں فلسطینی عوام نے امریکی فیصلہ برائے سفارتخانہ کی منتقلی کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج کئے ہیں اور ان کا حالیہ احتجاج جو کہ یوم الارض فلسطین کے دن سے شروع ہو اہے اور تاحال جاری ہے جس کو روکنے کے لئے امریکی ایماء پر صیہونی ریاست نے پینتیس فلسطینیوں کو شہید جبکہ دوہزار کے قریب زخمی کیاہے، بہر حال یہ احتجاج گریٹ ریٹرن مارچ کی صورت میں پندرہ مئی یوم نکبہ تک جاری رہے گا 
امریکی منصوبوں کی ناکامی کے بعد ہمیشہ کی طرح امریکہ نے ایک مرتبہ پھر نت نئے ڈراموں کے ساتھ خطے میں خون ریزی کو جاری رکھنا چاہتا ہے۔دراصل امریکہ ایک بد مست ہاتھی ہے اور جب چاروں شانہ چت ہو جاتا ہے تو پھر بلبلاہٹ میں کبھی ادھر سر مارنا اور کبھی اْ دھر سر پٹختے رہنا ہی اس کا کام ہے۔حالیہ دنوں امریکہ نے شام میں ایک نیا ڈرامہ رچایا ہے ، بلکہ پرانا ہی ہے جیسا کہ پہلے شام میں کیمیائی حملوں کا الزام شامی حکومت پر عائد کیا گیا تھا بعد ازاں تحقیقات میں ثابت ہو اتھا کہ امریکی اداروں نے ہی خطر ناک زہریلی گیس دہشت گرد گروہوں تک پہنچانے میں اپنا کردار ادا کیا تھا جسے استعمال کیا گیا تھا لیکن اس مرتبہ دوما نامی علاقے میں من گھڑت قسم کا کیمیائی حملہ کیا گیا ہے جس پر روس نے علی الاعلان کہا ہے کہ عالمی برادری روس کی ضمانت میں اس علاقے میں آ کر تحقیقات کرے جبکہ قریب ترین کسی ایک بھی اسپتال میں ابھی تک ایک متاثرہ شخص بھی رپورٹ نہیں ہو الیکن امریکی حکومت نے برطانوی استعمار اور یورپی ممالک کے ساتھ گٹھ جوڑ کر کے فیصلہ کر لیا ہے کہ یہاں پر کیمیائی ہتھیار استعمال ہوئے ہیں اور امریکی حکومت بضد ہے کہ شام پر حملہ کرے۔
در اصل امریکہ شام پر حملہ کیوں کرنا چاہتا ہے جبکہ امریکہ پہلے ہی کئی ایک فوجی اڈے شام میں قائم کر چکا ہے ، اور ہمیشہ کی طرح جیسا کہ عرا ق پر حملہ کے وقت دنیا کو بے وقوف بنایا گیا تھا آج ایک مرتبہ پھر شام کے معاملے پر بھی دنیا کو جھوٹ بیان کرکے اپنے ناپاک عزائم کو پورا کرنا چاہتا ہے۔ 
خلاصہ یہ ہے کہ امریکہ و اسرائیل کی پریشانی بڑھتی چلی جا رہی ہے اور اب شام میں کیمیائی حملوں کا راگ الاپ کر امریکہ کوشش میں ہے کہ شام کے علاقوں پر حملے کرے اور پورے شام کو تقسیم کرنے کے منصوبہ کو عملی جامہ پہنایا جائے لیکن دوسری طرف شامی اتحاد کہ جس میں روس اور ایران بھی شامل ہیں ، دونوں نے امریکی حملوں کا جواب سختی سے دینے کا اعلان کیا ہے اور کسی صورت حملوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔حیرت اس بات کی ہے کہ شام کا درد رکھنے والے اسلامی لبادے میں چھپے سوشل میڈیا کے جہادی اب امریکہ کے شام پر حملہ کی خبریں سن کر نہیں تلملا رہے لیکن جب دہشت گردوں کے خلاف شامی افواج کاروائی کرتی ہیں تو یہ تلملا اٹھتے ہیں تو بس ثابت ہوتا ہے کہ ان کے تانے بانے بھی امریکی سرکار ہی ہلا رہی ہے۔ بہر حال امریکی حکومت اس وقت شدید کرب کے عالم سے گزر رہی ہے اور ان شاء اللہ امریکی و صیہونی غاصب حکومت کا یہ کرب ان کی بربادی و اسرائیل کی نابودی اور فلسطین و القدس کی آزادی پر ہی ختم ہو گا۔

۔

 نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزیدخبریں