امریکہ کی شام پر میزائل حملوں کی دھمکی، بشارالاسد نے اس حملے میںمحفوظ رہنے کا کیا طریقہ نکال لیا؟ اس وقت کہاں ہیں؟ جان کر ڈونلڈ ٹرمپ بھی اپنا سرپکڑ لیں گے

امریکہ کی شام پر میزائل حملوں کی دھمکی، بشارالاسد نے اس حملے میںمحفوظ رہنے ...
امریکہ کی شام پر میزائل حملوں کی دھمکی، بشارالاسد نے اس حملے میںمحفوظ رہنے کا کیا طریقہ نکال لیا؟ اس وقت کہاں ہیں؟ جان کر ڈونلڈ ٹرمپ بھی اپنا سرپکڑ لیں گے

  

دمشق (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے شام پر میزائل حملے کی دھمکی سامنے آنے کے بعد پہلے سے پریشان شامی عوام مزید خوفزدہ ہو گئے ہیں لیکن اسی دوران شام کے صدر بشارالاسد کے بارے میں پتا چلا ہے کہ انہوں نے روسی فوج کے ایک محفوظ بنکر میں پناہ لے لی ہے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق اس محفوظ بنکر کے آہنی دروازے بند کر دئیے گئے ہیں اور حفاظتی نقطہ نظر سے اس بات کو بھی یقینی بنایا گیا ہے کہ بنکر سے موبائل فون کے ذریعے باہر کی دنیا سے کوئی رابطہ نا ہو۔ شامی حکومت کو خدشہ ہے کہ اہم فوجی اڈے، انٹیلی جنس اداروں کے ہیڈکوارٹر اور دفاتر، اور بشارالاسد اور ان کی قریبی شخصیات کے پرتعیش گھر بھی امریکی حملے کا نشانہ بن سکتے ہیں۔

یوٹیوب چینل سبسکرائب کرنے کیلئے یہاں کلک کریں

شامی دارلحکومت کے قریب دوما کے علاقے میں صدر بشارالاسد کی فوج کی جانب سے کئے جانے والے مبینہ کیمیائی حملے کے بعد امریکی صدر نے میزائل حملے کی دھمکی دی تھی، جبکہ ان کے اتحادی ممالک بھی اس متوقع حملے کے پیش نظر اپنی افواج کو حرکت میں لاچکے ہیں۔ ابتدائی طور پر یہ کہا جارہا تھا کہ کیمیکل ہتھیار تیار کرنے والی فیکٹریاں امریکی حملے کا نشانہ بن سکتی ہیں لیکن اب یہ اطلاعات بھی سامنے آ رہی ہیں کہ اہم فوجی اڈوں سے لے کر شامی صدر کے محل اور ان کے قریبی رفقاءکے گھر بھی امریکی اہداف بن سکتے ہیں۔

دی مرر کے مطابق گزشتہ رات یہ اطلاع سامنے آئی کہ صدر بشارالاسد نے دارالحکومت دمشق چھوڑ دیا ہے اور وہ ایک روسی فوجی قافلے کی حفاطت میں ایک محفوظ بنکر میں منتقل ہوچکے ہیں۔ دی بغداد پوسٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر بشارالاسد کی تازہ ترین تصویر بھی حاصل ہو چکی ہیں جو روس کے زیر انتظام خمیمیم ائیربیس میں واقع بنکر میں بنائی گئی ہیں۔ یہ ائیربیس شام کے مغربی ساحل کے قریب واقع ہے اور اس کی حفاظت کی ذمہ داری روسی افواج کے پاس ہے۔بتایا جاتا ہے کہ صدر بشارالاسد کی دارالحکومت دمشق سے روانگی کے بعد سے ریاست کا انتظام و انصرام عملی طور پر ان کے ایرانی اور روسی اتحادیوں کے ہاتھ میں ہے۔

مزید : بین الاقوامی