’’کافر ملک بمقابلہ اسلامی ملک‘‘

’’کافر ملک بمقابلہ اسلامی ملک‘‘
’’کافر ملک بمقابلہ اسلامی ملک‘‘

  

ہالینڈ کے متعلق تازہ ترین خبر یہ ہے کہ وہاں کی حکومت نے سنجیدگی سے جیلیں بند کرنے پر غور شروع کر دیا ہے۔وجہ یہ بنی ہے کہ جیلیں مکمل طور پر خالی ہو گئی ہیں اور وہاں ایسا کوئی مجرم نہیں بچا، جس کو جیل میں ڈالا جائے۔ایسی کوئی بات نہیں ہوئی کہ سب مجرموں کوپھانسی دے دی گئی ہے یا پھر اس ملک کی آبادی چند سو نفوس پر مشتمل ہے۔

اس ملک کی آبادی ایک کروڑ،71لاکھ اور32 ہزار سے زائد ہے۔ 2013ء میں یہاں صرف19 قیدی تھے، لیکن 2018 ء میں کوئی قیدی نہ بچا اور جیلیں مکمل طور پر خالی ہو گئیں۔ یہ صورت ابھی تک برقرار ہے،اس وجہ سے جیلیں بند کرنے پر غور ہو رہا ہے۔

البتہ ایک مسئلہ سر اٹھا رہا ہے کہ جیلیں بند ہونے کی صورت میں محکمہ جیل خانہ جات کے دو ہزار ملازمین بے روزگار ہو جائیں گے۔ہمارے جیسے ’’اہل ایمان‘‘ کے لئے افسوس کی بات بس صرف اتنی ہے کہ یہ ایک کافر ملک ہے۔ ادھر ہمارا اسلامی ملک پاکستان ہے، جہاں لاکھوں پولیس فورس، ہزاروں مبلغین، درجنوں اسلامی جماعتوں کے باوجودجرائم کا ریکارڈ مسلسل اوپر ہی اوپر جا رہا ہے۔

کسی بھی دن کا اخبار اُٹھا کر دیکھ لیں، اسٹریٹ جرائم کی خبروں سے بھرا پڑا ہوگا۔ ایک خبر ایسی ہوگی کہ فلاں گروپ گدھے ذبح کرتے پکڑا گیا۔ کھال سمگل کرنی تھی اور گوشت ہوٹلوں کو سپلائی کرنا تھا۔ کسی ٹارگٹ کلر کی خبر لگی ہو گی کہ موصوف نے ستر سے زائد قتل کئے۔کسی ڈکیت گروپ کی گرفتاری کی خبر کے ساتھ یہ اطلاع بھی ہوگی کہ یہ گروپ پہلے بھی دس مرتبہ گرفتار ہوچکا ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ یہ گروپ اس بار نہیں چھوٹے گا۔جس فارمولے سے یہ پہلے دس مرتبہ چھوٹ چکا ہے ، وہی اس مرتبہ ’’اپلائی‘‘ کیوں نہیں ہو گا۔’’گدھے کے سر سے سینگ غائب ہونا‘‘ محاورہ تو سنتے ہیں،لیکن ذبح کرنے والے بھی پکڑے جانے کے بعدحوالات سے سینگوں کی طرح غائب ہو جاتے ہیں، کیونکہ مقدمے اور سزا کی خبر کبھی نہیں آتی، البتہ گدھے چوری کرکے ذبح کرنے والے آئے دن پکڑے جانے کی خبر ضرور لگی ہوتی ہے ۔

اس کا مطلب ہے کہ چند مخصوص گروپ یہ دھندا کررہے ہیں ،پکڑے جاتے ہیں اور پولیس سے سودے بازی کرکے چھوٹ جاتے ہیں، پھر وہی کام شروع کردیتے ہیں۔ آئے دن جعلی دودھ بنانے والے پکڑے جاتے ہیں لیکن ان کے متعلق بھی کبھی خبر نہیں سنی کہ ان کو بھی سزا ہوئی ہو،چنانچہ یہ دھندا بھی چلتا رہتا ہے۔ ہر روز موبائل پر بے نظیر انکم سپورٹ یا ’’جیتو پاکستان‘‘ کے نام سے انعام کی خوشخبری کے نام پر لوٹا جا رہا ہے۔

حکومتی ادارہ ’’پی ٹی اے‘‘ کبھی کبھار ہوشیار، خبردار کا اشتہار دے کر بتا دیتا ہے کہ بس اس کا کام، فرض اور اختیار اتنا ہی ہے۔ حیرت ہے کہ ایسے میسج بھیجنے والے اپنا موبائل نمبر بھی ساتھ دیتے ہیں، پھر بھی کوئی انہیں نہیں پکڑتا۔ اخبارات میں کبھی کبھی ایسی خبر بھی پڑھنے کو ملتی ہے کہ فلاں صاحب یا وفد کو فلاں ملک مطالعاتی دورے پر بھیجا جا رہا ہے ۔

اس مطالعاتی دورے کی کارگزاری کوئی پندرہ سال بعد اس وقت پتہ چلتی ہے جب مطالعاتی دورہ پر جانے والے صاحب اپنا پانچ روزہ ’’سفر نامہ‘‘لکھتے ہیں جس کا خلاصہ یہ ہوتا ہے کہ بڑی پیاری اور معصوم سی حسینہ نے ائرپورٹ پر خوبصورت گلدستے اور بڑی پیاری ’’چوں چاں پی پاں‘‘ٹائپ بولی کے ساتھ ان کا استقبال کیا۔ ان کو کھانا کھلایا اور ہوٹل چھوڑا۔

دوسرے دن انہوں نے دوسرے ممالک سے آئے وفود کے اجلاس میں پہلے سے لکھی ہوئی تقریر کی اور دوسروں کی تقاریر کے دوران تھکاوٹ کے باعث ان کو پہلے اونگھ اور پھر گہری نیند آگئی۔ ان کو اس وقت پتہ چلا جب مس ’’چوں چاں پی پاں‘‘ نے خالی ہال میں آکر ان کا کندھا ہلایا۔تیسرے دن وہ بازاروں میں گھومے اوربیگم کے لئے کریمیں خریدیں۔

چوتھے دن انہوں نے پہاڑوں کی سیر کی اور آخری دن انہوں نے سفیر سے ملاقات کی اور ملکی مسائل پر تشویش کا اظہار کیا۔اس کے بعد مس ’’چوں چاں پی پاں‘‘نے انہیں ائر پورٹ چھوڑا اور بڑی دلنشیں مسکراہٹ سے انہیں الوداع کہا اور جناب بڑی خوشگوار یادوں اور ’’زیرو کارکردگی‘‘ کے ساتھ وطن لوٹے۔۔۔ حکومت سے گزارش ہے (جس کی امید صفر پرسنٹ ہے) کہ کوئی سنجیدہ قسم کا وفد ( ہوسکے تو ہم کو بھی اس میں شامل کرلیں) مطالعاتی دورے پر نیدر لینڈ بھیجے تاکہ معلوم ہو کہ ان کے پاس کون سی ایسی ’’گیڈر سنگھی‘‘ ہے کہ وہاں جرائم نہیں ہوتے۔ اگر یہ ممکن نہ ہو تو کوشش کرکے چند ’’مقرر شعلہ بیان‘‘ قسم کے مبلغین قانونی یا غیر قانونی طور پر نیدر لینڈ ’’ایکسپورٹ‘‘ کرنے کا بندوبست کیا جائے۔

یہ پہلے مرحلے پر وہاں تبلیغ کرکے نیدر لینڈ والوں کو مسلمان کریں گے۔ دوسرا مرحلہ ان کو شیعہ، سنی، وہابی،دیوبندی،بریلوی بنانے کا ہو گا۔اس کے بعددھرنے اور پھر ’ ’تک دھنا دھن‘‘۔۔۔ اس سارے عمل کے تین فائدے ہوں گے۔ ایک تونیدر لینڈ والے ’’مشرف بہ اسلام‘‘ ہو جائیں گے۔ دوسرے وہاں کے محکمہ جیل خانہ جات کے دو ہزار ملازمین بے روزگار ہونے سے بچ جائیں گے اور یہ بڑے’’پن‘��ۂیعنی نیکی کا کام ہوگا۔ تیسرے ہم جو نیدرلینڈ کے پُرسکون اور خوشحال ماحول سے جل جل کر کباب ہو رہے ہیں ، اس سے ہمارے سینے کی جلن اور تپش میں بھی خاطر خواہ کمی ہوگی۔

مزید :

رائے -کالم -