بلیک ہولز . . .

بلیک ہولز . . .
بلیک ہولز . . .

  

انسان ہمیشہ ہی سے قدرت اور کائنات کے پر اسرار رازوں سے فائدہ اٹھانے کی جستجو میں ہے۔تجسّس اور جستجو کے اس سفر میں لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں لوگوں نے اپنی زندگیاں وقف کر دیں۔یہ وہ لوگ تھے کہ جنہوں نے اپنی خودی کا ادراک کیا۔کہیں کسی انسان نے عیش و عیاشی کی زندگی چھوڑ کر،جنگلوں کا رخ کیا،کسی نے پرندوں کی طرح اڑنے کی جستجو میں اپنے ہاتھ پاؤں توڑ دیے۔قدرت اور کائنات کے سر بستہ رازوں سے پردہ اٹھانے کیلئے ہزاروں نے صوفیانہ روپ دھارا۔کسی نے مذہب جیسی فصیل کو اپنا رہبر بنایا۔جستجو کے اس سفر میں انسان نے صحراؤں کی خاک چھان ماری،پہاڑوں کی چوٹیوں کو سر کیا،دریاؤں اور سمندروں کے سینے چاک کر کے اس میں سے ہیرے جواہرات نکالے۔دنیا کے چپے چپے میں انسان نے اپنی فتوحات کے جھنڈے گاڑھے،مگر انسان کی جستجو کا سفر ختم نہ ہوا۔

بیسویں صدی میں جیسے ہی انسانیت نئے دور میں داخل ہوئی،تو اس نے زمین سے باہر کی دنیا میں بھی تحقیق کے دروازے کھول دیے۔تب ،انسان کو پتہ چلا کہ اس کائنات میں زمین،چاند،تاروں،شہاب ثاقب کے علاوہ ہزاروں ایسے اجرام فلکی بھی ہیں کہ جو ہبل دوربین جیسی دیو ہیکل دور بین سے بھی نظر نہیں آتے بلکہ ان کو دیکھنے کیلئے انسان کو کئی برس محنت کرنا ہو گی۔ایسے ہی ایک اجرام فلکی کو بلیک ہول کہا جاتا ہے۔ دن پہلے امریکی سائنس و ٹیکنالوجی کے ادارے ناسا نے بالآخر بلیک ہول کی تصویر کھینچ ہی لی۔اس تصویر کو سب سے حقیقی اور مستند تصویر کے طور پر مانا جا رہا ہے۔

بیسویں صدی نے جہاں قدرتی سائنس کے ایک بڑے میدان طبیعات یعنی فزکس میں بہت ترقی کی وہیں اس نے سائنسدانوں کے دماغوں کو اس قدر کھولا کہ انھوں نے سائنس کے میدان میں اس قدر انقلاب برپا کئے کہ جس کا تخیل بھی حضرت انسان نہ کر سکتا تھا۔

ضرور پڑھیں: اسد عمر کی چھٹی

۱۹۱۶ء میں ایک عظیم سائنسدان نے دنیا کو ایک نئی ٹرم بلیک ہول کے نام سے متعارف کروایا۔آغاز میں لوگوں کے اذہان میں بلیک ہولز کے بارے میں بہت سے شکوک شبہات تھے۔بلیک ہول کے بارے میں سائنسدان دو بڑے طبقات میں بٹے ہوئے تھے۔ایک طبقہ کے مطابق بلیک ہولز کائنات میں کئی بھی موجود نہیں ۔دوسرے طبقہ کے مطابق بلیک ہولز کائنات کا ایک بہت ہی لازمی جزو ہیں۔

آسٹرو فزکس اور بلیک ہول فزکس کے بڑے سائنسدان سٹیفن ہاکنگ نے بلیک ہولز پر زبردست کام کیا۔

بلیک ہول کیا ہے؟یہ کیسے بنا؟یہ کائنات میں کدھر موجود ہیں؟

بلیک ہولز کائنات کا بہت ہی ضروری جزو ہیں۔دراصل یہ کثیف اور بھاری کمیت رکھنے والے بھاری اجسام ہیں کہ جن میں کمیت یعنی ماس تو پایا جاتا ہے،مگر اس میں عام مادے کے ایٹم اور مالیکیولز وغیرہ نہیں پائے جاتے۔بلیک ہولز قوت کشش رکھنے والے ایسے بھاری اجسام ہیں کہ جو اردگرد کی تمام اشیاء کو اپنے اندر ہڑپ کر لیتے ہیں۔اور جو چیز بھی بلیک ہولز میں چلی جائے،وہ ان سے باہر نہیں نکل سکتی۔حتیٰ کہ اگر ان کے اندر روشنی بھی چلی جائے تو ان سے باہر نہیں نکل پاتی۔

یہ کیسے بنے؟یہ کب بنتے ہیں؟کن اجرام فلکی سے ان کا ظہور ہوتا ہے؟

ان کے بننے کے بارے میں سائنسدانوں کا خیال ہیکہ جب کوئی ستارہ ،مرنے کے بعد قریب ہوتا ہے ،تو اس کا حجم بڑھتا چلا جاتا ہے،اور پھر وہ ستارہ پھٹ جاتا ہے،جس سے بلیک ہول وجو میں آتا ہے۔

ایک اور نظریہ کے مطابق جب کوئی بھاری بھر کم کمیت رکھنے والا ستارہ اپنا سارا ایندھن خرچ کر لیتا ہے تو اسکا کور پھٹ کر ایک کثیف جسم بنا لیتا ہے اور بقیہ شدہ گیسوں کو سپر نووا یونٹ میں تبدیل کر کے باہر کی طرف بھیج دیتا ہے۔

سٹیلر کے مطابق بلیک ہولز تب بنتے ہیں جب بھاری کمیت رکھنے والے ستارے اپنی زندگی کے چکر کو پورا کر کے پھٹ جاتے ہیں۔

بلیک ہولز کی بھی درجنوں اقسام ہیں۔ان میں سے کچھ بہت روشن۔کچھ قدرے کم روشن۔کچھ بڑے اور کچھ چھوٹے ہوتے ہیں۔

دلچسپ بات یہ کہ بلیک ہولز کے بارے میں آئین سٹائن اور سٹیفن ہاکنگ کے نظریات میں بہت بڑا فرق ہے۔آئن سٹائن کے مطابق بلیک ہول سے کوئی بھی شے نہیں نکل سکتی۔جبکہ سٹیفن ہاکنگ کے مطابق خوردبینی دنیا کے کوانٹم اثرات بلیک ہولز کو لیک کر دیگی،اور بلیک ہول پھٹ جائیں گے۔

بلیک ہولز کا مادہ:

اس کا مواد ایسے پر اسرار مادے سے بنا ہوا ہے کہ جو زماں و مکاں یعنی ٹائم و سپیس کو ہی یکجا کر دے۔نظریہ اضافت یعنی تھیوری آف ریلیٹیویٹی کے مطابق کثیف کمیت رکھنے والا بھاری بھر کم جسم

زماں و مکاں کو توڑ پھوڑ کر بلیک ہول بن جاتا ہے۔

بلیک ہول اور کائنات:

اکژ سائنسدانوں کے خیال میں ہماری کائنات ایک بڑے بلیک ہول کے پھٹنے سے وجود میں آئی۔اور یہ کائنات اپنی عمر مکمل کونے کے بعد ایک اور کائنات میں تبدیل ہو جائیگی۔

ناسا کی تازہ ترین تصویر:

حالیہ دنوں میں ناسا نے کہ جو دنیا میں خلاء اور اجرام فلکی کو مطالعہ کرنے والا سب سے بڑا ادارہ ہے،نے حال ہی میں بلیک ہولز کی بہت ہی واضح تصویر کھنچی ہے کہ جس سے بلیک ہولز کے بارے میں اور بھی راز کھلیں گے۔

ناسا کی پرانی تحقیقات کے مطابق کائنات میں ہزاروں بلیک ہولز موجود ہیں۔اکثر کے مطابق کہکشاہاں بلیک ہولز کے گرد موجود ہیں ۔اکژ کے مطابق کہکشاؤں کے درمیان بھی بلیک ہولز کے حصے موجود ہیں۔

افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ایک دنیا سائنسی علوم کی اس جدت اور عروج پر پہنچ چکی ہے کہ بلیک ہولز کا بھی اپنے کیمروں میں محفوظ کر لیا،اور ہم تیسری دنیا میں بیٹھے ہوئے لوگ بلیک ہولز کے نام سے واقف نہیں ۔ہماری سائنس کے علوم نے ہمیں کتنا محقق اور سائنسدان بنایا اس کا فیصلہ عوام بہتر کر سکتی ہے۔

۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

۔

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’dailypak1k@gmail.com‘ پر بھیج دیں۔

مزید : بلاگ