سیاسی ٹارگٹ کلنگ

سیاسی ٹارگٹ کلنگ
سیاسی ٹارگٹ کلنگ

  

چینی آٹا ”مافیاز“ کے بارے میں وفاقی تحقیقاتی رپورٹ 25 اپریل کو شائع ہو گی، لیکن اس کی ہلکی سی جھلک دانستہ طور پر میڈیا میں لیک کر کے جہانگیر ترین کی سیاسی ٹارگٹ کلنگ کرنے کی کوشش ضرور کی گئی ہے۔ یہ بات تو طے ہے کہ سیاست کے سینے میں دِل نہیں ہوتا، اس لئے سیاسی ٹارگٹ کلنگ کوئی نئی بات نہیں کہ بقول شاعر…… ایسا تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں۔ عام طور پر یہ جہانگیر ترین اور وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کی ذاتی مخاصمت کا نتیجہ بتایا جا رہا ہے اور تاثر دیا جا رہا ہے کہ سیکرٹری صاحب نے وزیراعظم کے کان بھر کے انہیں جہانگیر ترین سے بد ظن کر دیا اورموقع ملتے ہی ان کا بوریا بستر گول کروا دیا۔سیاست میں باتیں اتنی سادہ نہیں ہوتیں جتنی نظر آتی ہیں یا بتائی جاتی ہیں۔ سادہ سی بات ہے کہ بہت آؤٹ آف دی وے جا کر ہی یہ سوچا جا سکتا ہے کہ ہمارے بظاہر سادہ مزاج وزیراعظم اتنے سادہ لوح بھی ہیں کہ کسی کے بہکاوے میں آ کر اپنے معتبر ترین ساتھی کو نکال باہر کریں۔آسان الفاظ میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ وزیراعظم کی مرضی اور خواہش کے بغیر کچھ نہیں ہوا۔ وزیراعظم کے لئے اگر جہانگیر ترین کی کوئی اہمیت ابھی باقی ہوتی تو وہ اپنے پرنسپل سیکرٹری کو تبدیل کر دیتے، جن کی مبینہ طور پر جہانگیر ترین کے ساتھ کئی مہینوں سے سرد جنگ جاری تھی،جو لوگ ”نکالے گئے“ یا اِدھر اُدھر کئے گئے ان میں جہانگیر ترین کے سوا کوئی اور کہیں نہیں گیا۔ خسرو بختیار کو فوڈ سیکیورٹی کی وزارت کی بجائے اس سے بھی بہتر وزارت اقتصادی امور کی دے دی گئی۔

پہلے دن یہ تاثر دیا گیا کہ رزاق داؤد کو فارغ کر دیا گیا ہے، لیکن دو دن بعد پتہ چلا کہ فارغ وہ صرف صنعت و پیداوار کی وزارت سے ہوئے ہیں اور ان کے پاس موجود باقی تین وزارتیں یعنی تجارت، ٹیکسٹائل (جسے وزارت تجارت میں ضم کر دیا گیا) اور سرمایہ کاری انہی کے پاس رہیں گی۔ اسٹیبلشمنٹ کے مشیر ارباب شہزاد کو فارغ کیا گیا، لیکن چار دن کے بعد دوبارہ معاون خصوصی کے طور پر پرانی ذمہ داری، یعنی اسٹیبلشمنٹ واپس لوٹا دی گئی اور ان کا وفاقی وزیر کے برابر کا درجہ برقرار رکھا گیا۔ سیکرٹری فوڈ سیکیورٹی ڈاکٹر ہاشم پوپلزئی کو البتہ قربانی کا بکرا ضرور بنایا گیا،لیکن وہ 22 ویں گریڈ کے وفاقی سیکرٹری ہیں اور کچھ ہی دِنوں میں کسی اور وزارت کا چارج سنبھال لیں گے۔ ویسے بھی ان جیسے قابل اور محنتی افسر کی ضرورت ہر حکومت کو ہوتی ہے۔

باقی کی تبدیلیاں بھی معمولی جھاڑ پونچھ اور عارضی ہیں، ہاں البتہ جہانگیر ترین ہی اصل نشانہ تھے اور سیاسی ٹارگٹ کلنگ بھی ان ہی کی ہوئی۔ ویسے بھی سیاسی ٹارگٹ کلنگ کے لئے یہ موقع بہت مناسب تھا۔ کوئی اور وقت ہوتا تو رات دن ٹیلی ویژن مباحثوں، ڈرائنگ روموں اور گلیوں تھڑوں میں ہر طرف یہی ڈسکس ہو رہا ہوتا، لیکن آج کل جب کورونا وائرس کا خوف ہر کسی کے اعصاب پر سوار ہے تو سیاسی ٹارگٹ کلنگ کہاں ڈسکس ہونی ہے۔ آسان ترین الفاط میں کہا جا سکتا ہے کہ جہانگیر ترین سے جان چھڑانے کے لئے پرفیکٹ ترین ٹائمنگ کا انتخاب کیا گیا۔ وہ کام جس پر شدید ردعمل کا اندیشہ ہو، ایسے ہی موقعوں پر کئے جاتے ہیں جب لوگ کسی اور بڑے مسئلہ میں اُلجھے ہوئے ہوں، سو یہ ”نیک“ کام کر لیا گیا۔

جہانگیر ترین نے وفاق اور پنجاب میں پی ٹی آئی کی حکومت بنانے میں سب سے اہم کردار ادا کیا تھا۔ وہ جھولی بھر کر آزاد نو منتخب ممبران اسمبلی کے پاس جاتے جہاں اپنی جھولی خالی کرکے نومنتخب ممبر اسمبلی کو اپنے جہاز میں بٹھا کر بنی گالہ لے آتے اور اس کے گلے میں دو رنگا پٹہ ڈال کر کپتان کے سامنے پیش کر دیتے۔ جب 2018ء الیکشن کا نتیجہ آیا تو مسلم لیگ (ن) کی سیٹیں پی ٹی آئی سے کچھ زیادہ تھیں، لیکن ساتھ ہی تین درجن کے قریب آزاد ممبران بھی منتخب ہوئے تھے۔ جہانگیر ترین نے ایک ایک کرکے تقریباً سارے ہی مشرف بہ بنی گالہ کرکے پی ٹی آئی کے ایم پی ایز کی تعداد 180 تک پہنچا دی، جبکہ مسلم لیگ(ن) کے ممبران کی تعداد 168 تک ہی پہنچ سکی۔ پنجاب میں حکومت بنانے کے لئے 186 ممبران درکار ہوتے ہیں اس لئے یہ کمی مسلم لیگ (ق) کو حکومتی اتحاد میں شامل کرکے پوری کی گئی۔ چودھری برادران سے اتحاد میں بھی جہانگیر ترین نے مرکزی کردار ادا کیا۔

وفاق میں مسلم لیگ (ق) کے علاوہ ایم کیو ایم، سندھ کی جی ڈی اے اور بلوچستان کی دو اہم پارٹیاں ساتھ ملا کر کھینچ تان کر نمبر پورے کئے گئے اور یوں کپتان وزیر اعظم بن گئے اور انہوں نے پنجاب میں بھی اپنی مرضی کا وزیر اعلی لگا دیا۔ یہاں تک جہانگیر ترین کا رول بہت اہم تھا، کیونکہ ان کے بغیر یہ سب کچھ ہونا ممکن نہ تھا۔ ہاں البتہ اس کے بعد جہانگیر ترین ساتھ ہوں یا نہ ہوں، کپتان کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا، کیونکہ اب انہیں نہ جہاز کی ضرورت تھی اور نہ ہی کسی اور چیز کی، جو جہانگیر ترین کے پاس وافر تھی۔ پاکستان کا خزانہ، وسائل اور اختیارات جب پاس ہوں تو کسی ”سیٹھ“ کی کیا ضرورت باقی رہ جاتی ہے۔ جن لوگوں نے چانکیہ کا ارتھ شاستر اور میکاولی کی دی پرنس پڑھ رکھی ہے وہ ان باتوں کو بہت اچھی طرح سمجھتے ہیں اور یہ بھی جانتے ہیں کہ اقتدار حاصل ہو جانے کے بعد وہ کندھے بوجھ لگنا شروع ہو جاتے ہیں جو اپنے کندھوں پر بٹھا کر اقتدار میں لائے ہوتے ہیں۔ کچھ نیا نہیں ہوا، ہزاروں سال سے دُنیا میں ہر مملکت میں ایسا ہی ہو رہا ہے اور جب تک یہ دُنیا باقی ہے، یہی ہوتا رہے گا۔ صرف مقامات اور کردار تبدیل ہوتے رہیں گے۔

کرکٹ میچ میں جب کپتان کسی باؤلر کو ہٹاتا ہے تو لوگ سمجھتے ہیں کہ شائد اسے اٹیک سے ہٹا لیا ہے، لیکن اکثر پتہ چلتا ہے کہ مقصد صرف اس کا ”اینڈ“ تبدیل کرنا تھا اور کپتان نے اسے ”پویلین اینڈ“ کی بجائے ”کالج اینڈ“ سے لگا دیا ہے۔ عمران خان 10 سال پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان رہے ہیں اِس لئے انہیں باؤلروں کا ”اینڈ“ تبدیل کرنا خوب آتا ہے۔ ویسے بھی جب سے وزیراعظم بنے ہیں پاکستان کو کرکٹ ٹیم کی طرح ہی چلانے کی کوشش کر رہے ہیں کیونکہ بہر حال وہ کرکٹ کے کھلاڑی ہیں۔ اس ساری اتھل پتھل کا نتیجہ یہی ہوا ہے کہ باقی تمام باؤلروں کے صرف ”اینڈ“ تبدیل ہوئے ہیں،لیکن وہ بدستور ٹیم کا حصہ ہیں، جبکہ جہانگیر ترین کو کپتان نے ٹیم سے ہی نکال دیا ہے۔ جب عمران خان قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان تھے، اس وقت بھی کھلاڑیوں کو اندر باہر کرنے کے فیصلے خود ہی کرتے لیکن لوگ اسے سلیکشن کمیٹی کے فیصلے سمجھتے تھے۔ اب بھی یہی ہوا ہے۔ ارباب شہزاد کو مشیر کے عہدے سے ہٹانا اس لئے ضروری تھا کہ آئین میں وزیراعظم کو صرف پانچ مشیر رکھنے کی اجازت ہے۔ وزیراعظم چونکہ ڈاکٹر بابر اعوان کو وفاقی مشیر بنانا چاہتے تھے اِس لئے ان کے لئے ارباب شہزاد سے جگہ خالی کروائی اور بعد میں ارباب شہزاد کو معاون خصوصی کے طور پر وہی ذمہ داریاں واپس دے دیں۔

آئین کی رو سے پانچ سے زیادہ مشیر نہیں رکھے جا سکتے، لیکن معاون خصوصی کے بارے میں آئین خاموش ہے اِس لئے ہمارے حکمران اسے موم کی ناک کی طرح استعمال کرتے ہیں کہ چاہے تو طوطے کی ناک بنا لیں یا مگر مچھ کی۔موجودہ وفاقی کابینہ کے کل اراکین کی تعداد 48 ہو گئی ہے، جس میں پانچ مشیر اور چودہ معاون خصوصی ہیں۔ اس طرح وفاقی کابینہ میں منتخب اراکین 29اور پیراشوٹ سے جمپ لگا کر شامل ہونے والے 19 ہیں۔ یہ پاکستان کی پوری تاریخ میں کسی بھی منتخب حکومت میں غیر منتخب افراد کی سب سے بڑی شرح (40 فیصد) ہے۔آئین میں معاون خصوصی رکھنے یا ان کی تعداد پر کوئی قدغن نہیں ہے، لیکن 19 غیر منتخب لوگوں کا وفاقی کابینہ میں ہونا جمہوریت اور پارلیمان کی بنیادی روح کی نفی ضرور ہے۔ ویسے بھی معاون خصوصی کو وفاقی وزیر یا وزیر مملکت کا درجہ دینے کی (جو عام ہے)آئین میں کوئی گنجائش موجود نہیں ہے۔ اگر آئین کی پابندی کی جائے تو انہیں نہ تو وزیر بنایا جا سکتا ہے اور نہ ہی کابینہ کا حصہ۔ اسی طرح انہیں کسی وزارت کی سربراہی دینا بھی غیر آئینی ہے (جو ہمارے یہاں معمول ہے)۔ سپریم کورٹ پہلے ہی زلفی بخاری کو وزیر مملکت کا درجہ دینے کو غیر قانونی اور غیر آئینی قرار دے چکی ہے۔وزیراعظم جس جس مشیر یا معاون خصوصی کو وفاقی وزیر یا وزیر مملکت کا درجہ دیتے ہیں وہ سراسر غیر آئینی ہے اور ہر دفعہ وہ آئین شکنی کے مرتکب ہوتے ہیں۔ معاون خصوصی کو تنخواہ اور مراعات ضرور وزیر مملکت کے برابر دی جا سکتی ہے، لیکن عہدہ نہیں دیا جا سکتا۔

عمران خان نے جہانگیر ترین کی سیاسی ٹارگٹ کلنگ اپنے تئیں تو کر لی ہے، لیکن کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ اب یہ نہیں دیکھنا کہ عمران خان‘ جہانگیر ترین کے ساتھ کیا کرتے ہیں،بلکہ دیکھنا یہ ہے کہ جہانگیر ترین، اب عمران خان کے ساتھ کیا کرتے ہیں۔جہانگیر ترین کا سیاسی سفر 2002ء میں اتفاقی طور پر اس لئے شروع ہوا تھا کہ ان کے برادر نسبتی مخدوم احمد محمود بی اے کی ڈگری نہ ہونے کی وجہ سے الیکشن نہیں لڑ سکتے تھے۔ چنانچہ رحیم یار خان کی نشست سے انہوں نے جہانگیر ترین کو منتخب کروا دیا۔ پچھلے 18 سال میں جہانگیر ترین نے جتنا سیاسی سفر کیا اس میں پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ ان کی مخالفت ہمیشہ دوسری پارٹیوں سے زیادہ اپنی ہی پارٹی میں ہوئی ہے، چاہے وہ پارٹی میں شامل تسنیم نورانی، جسٹس وجیہ الدین یا حامد خان جیسے ٹیکنو کریٹ تھے یا شاہ محمود قریشی جیسے ہیوی ویٹ سیاست دان۔ سیاسی ٹارگٹ کلنگ ہونے کے بعد جہانگیر ترین کے پاس آپشن کم نہیں،بلکہ زیادہ ہوئے ہیں اور یہ محض اتفاق نہیں ہے اس ویک اینڈ پر چوہدری پرویز الٰہی کی خواجہ برادران سے ملاقات ہوئی ہے اور مولانا فضل الرحمان نے آصف علی زرداری سے ”خیریت“ پوچھنے کے لئے رابطہ کر لیا ہے۔میاں شہباز شریف اور مسلم لیگ (ن) بھی متحرک ہو گئے ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں اور حکومت کی اتحادی جماعتوں کے درمیان تیز ہوتے رابطے پیغام دے رہے ہیں کہ پارٹی تو ابھی شروع ہوئی ہے اور اس میں وزیراعظم عمران خان تنہا کھڑے نظر آرہے ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -