حکومت جماعت اسلامی سے ہی کچھ سیکھ لے

حکومت جماعت اسلامی سے ہی کچھ سیکھ لے
حکومت جماعت اسلامی سے ہی کچھ سیکھ لے

  

میرے گھر کام کرنے والا مالی محمد سجاد کئی دنوں کے بعد کل کام کرنے آیا، تو پریشان تھا کہ لاک ڈاؤن لمبا ہو گیا ہے، اب تو گھروں میں کام کرنے والی خواتین کو بھی بڑی کالونیوں میں داخلے سے روک دیا گیا ہے، جس سے بیوائیں اور مزدور پیشہ عورتیں بہت متاثر ہوئی ہیں۔ پھر اس نے اپنے علاقے محمد پور گھوٹہ قاسم بیلہ ملتان کی مثال دی، جہاں مزدور اور دیہاڑی دار افراد رہتے ہیں۔ باتوں باتوں میں اس نے پوچھا ”سنا ہے جماعت اسلامی بڑی امیر جماعت ہے میں نے کہا نہیں، صرف اس کے سربراہ کو امیر کہتے ہیں۔ پھر اس نے بتایا کہ ہماری بستی میں صرف جماعت اسلامی والوں نے راشن پہنچایا ہے۔ وہ کہنے لگا ان کا طریقہئ کار بہت اچھا ہے، پہلے ایک ٹیم آتی ہے، جو گھروں کا سروے کرتی ہے، افراد خانہ کی تعداد اور مالی حالات کا پتہ کرتی ہے، اس کے بعد ایک دوسری ٹیم خاموشی سے سامان لے کر آتی اور مستحق گھروں میں امداد تقسیم کر کے چلی جاتی ہے۔ اس نے بتایا کہ میری ایک بہن جو بیوہ ہے اور کچھ عرصہ پہلے اس کا جوان بیٹا قتل کر دیا گیا۔ جماعت اسلامی کی طرف سے اسے دوبارہ راشن دیا گیا ہے۔

میں نے پوچھا کہ کیا احساس پروگرام کے تحت اس کی بیوہ بہن کو بارہ ہزار روپے ملے ہیں، اس نے بتایا کہ ایس ایم ایس تو بھیجا تھا، ابھی تک کوئی جواب نہیں آیا۔ اتفاق سے اسی دن مجھے لاہور سے جماعت اسلامی کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل اور جماعت اسلامی کی امدادی مہم کے فوکل پرسن اظہر اقبال حسن کا فون آیا۔ وہ جماعت اسلامی کی امدادی سرگرمیوں کے بارے میں میرے لکھے گئے کالم پر شکریہ ادا کرنا چاہتے تھے۔ میں نے کہا اس وقت جو بھی کوئی اچھا کام کر رہا ہے، اس کی تعریف ہونی چاہئے۔ پھر میں نے انہیں بتایا کہ مجھے آج میرے مالی نے ایک ایسی شہادت دی ہے، جس سے میں قائل ہو گیا ہوں کہ جماعت اسلامی بڑے منظم انداز میں آج کل کرونا اور لاک ڈاؤن سے متاثرہ لوگوں میں راشن اور احتیاطی تدابیر کا سامان پہنچا رہی ہے۔ جماعت اسلامی کے سیکرٹری اطلاعات قیصر شریف اور جنوبی پنجاب کے سیکرٹری اطلاعات کنور محمد صدیق بھی مجھے گاہے بہ گاہے جماعت اسلامی کے فلاحی کاموں کی تفصیل سے آگاہ کرتے رہتے ہیں جس منظم طریقے سے جماعت اسلامی ان بحرانی دنوں میں کام کر رہی ہے، اس میں حکومت کے لئے بھی کئی سبق موجود ہیں۔

جس نے بھی وزیر اعظم عمران خان کو یہ مشورہ دیا کہ وہ احساس پروگرام کے تحت 12 ہزار روپے فی گھرانہ تقسیم کرنے کے لئے موجودہ طریقہ کار اختیار کریں وہ کوڑھ ذوق ہی نہیں کند ذہن بھی ہے۔ شائد مشورہ دینے والوں نے یہ سوچا ہوگا کہ اس طرح سب کو نظر آئے گا کہ حکومت لاکھوں لوگوں کو امداد دے رہی ہے، وگرنہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی طرح اگر سب کے اکاؤنٹس میں یہ رقم منتقل ہو گئی تو جنگل میں مور ناچا کس نے دیکھا جیسی صورتِ حال ہو گی، لیکن یہ کسی نے نہیں سوچا کہ اس طرح لمبی قطاریں لگوانے اور سینکڑوں خواتین کو تنگ جگہوں پر کھڑے کرنے سے کرونا وبا کے پھیلاؤ کا جو خطرہ مول لیا جائے گا، اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہو گی۔ پھر تین دنوں میں کیسے کیسے مناظر سامنے آ چکے ہیں کیا یہ ضروری تھا کہ ہم دنیا کو دکھائیں کہ ہم ایک گداگر قوم ہیں کیا یہ کام خاموشی سے ٹیکنالوجی کی مدد کے ذریعے نہیں کیا جا سکتا تھا جماعت اسلامی اب تک 63 کروڑ روپے کا امدادی سامان تقسیم کر چکی مگر آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ اس نے مختلف شہروں میں مجمع لگا کر یہ سامان تقسیم کیا۔ مجھے اظہر اقبال حسن نے جماعت اسلامی کی اب تک کی جانے والی امدادی سرگرمیوں کے اعداد و شمار فراہم کئے ہیں تین لاکھ گھرانوں کو راشن اور 8 لاکھ گھرانوں کو پکا ہوا کھانا فراہم کیا جا چکا ہے۔ فیلڈ میں اس وقت ایک لاکھ سے زائد ورکرز جن میں خواتین بھی شامل ہیں، یہ امدادی کام کر رہے ہیں۔ میرا خیال ہے وزیر اعظم عمران خان جو ٹائیگر فورس بنا رہے ہیں، اسے جماعت اسلامی سے ٹریننگ دلوائیں تاکہ انہیں علم ہو سکے کہ منظم انداز میں بے غرضی و بے لوثی کے ساتھ کام کیسے کیا جاتا ہے۔

اس وقت سب سے بڑا مسئلہ جس کا حکومتوں اور عوام دونوں کو سامنا ہے۔ وہ لاک ڈاؤن کے دوران لوگوں کو خوراک کی فراہمی ہے، حکومتی اقدامات اور اعداد و شمار سے صاف نظر آ رہا ہے کہ کرونا وائرس کے پھیلاؤ کی صورتِ حال سنگین تر ہوتی جا رہی ہے۔ ڈبلیو ایچ او بار بار خبردار کر رہا ہے کہ لاک ڈاؤن ختم کرنے میں جلد بازی نہ کی جائے۔ ملک کے دو بڑے شہروں کراچی اور لاہور میں یکدم کرونا کیسوں کی تعداد بڑھ گئی ہے، کئی کئی آبادیاں اور محلے اس کی زد میں آ گئے ہیں، جنہیں سیل کیا جا رہا ہے، ایسے میں اگر حکومت دباؤ کا شکار ہو کر لاک ڈاؤن میں نرمی کر دیتی ہے، تو خدانخواسطہ ہم کسی بڑی تباہی سے دو چار ہو سکتے ہیں۔ مثالیں ہمارے سامنے موجود ہیں، بروقت اقدامات نہ اٹھانے والے ممالک اس وقت روزانہ لاشوں کو سنبھالنے میں لگے ہوئے ہیں۔ اس وقت سب سے اہم ضرورت اس بات کی ہے، کہ لوگوں کو ہر قیمت پر گھروں تک محدود رکھا جائے۔ ظاہر ہے اس کے لئے ان کے راشن پانی کا انتظام کرنا ضروری ہے۔

حکومت شروع دن سے ون مین شو کے انداز میں اس معاملے سے نمٹنے کی کوشش جاری رکھے ہوئے ہے، حالانکہ ایسے مواقع پر سب کو ساتھ ملا کر چلنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر اس موقع پر حکومت جماعت اسلامی کی تنظیمی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھائے اور سبق سیکھے تو اس کی امدادی سرگرمیوں میں ایک تحرک پیدا ہو سکتا ہے۔ سندھ میں پیپلزپارٹی کہیں متحرک نظر نہیں آتی، سندھ حکومت نے امدادی سامان پہنچانے کے دعوے تو بہت کئے عملاً ان کے شواہد نظر نہیں آ رہے۔ بات صرف کراچی یا حیدر آباد کی نہیں اندرون سندھ کی بھی ہے۔ جہاں صرف جماعت اسلامی کی ٹیمیں ہی اب تک پہنچی ہیں۔ شیخ کنور محمد صدیق نے جنرل (ر) حمید گل مرحوم سے منسوب ایک واقعہ سنایا۔ انہوں نے کہا جب حمید گل فوج سے ریٹائر ہوئے تو انہیں جماعت اسلامی میں شمولیت کی دعوت دی گئی۔ انہوں نے یہ کہہ کر شمولیت سے انکار کر دیا کہ ایک فوج سے نکل کر وہ دوسری فوج میں نہیں جانا چاہتے۔ یہ بات انہوں نے جماعت اسلامی کے ڈسپلن کو سامنے رکھ کر کہی تھی۔

وزیر اعظم عمران خان جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق کو اپنے ساتھ بٹھائیں اور ان کے مشوروں نیز جماعت اسلامی کی تنظیمی مہارت سے فائدہ اٹھائیں۔ اس وقت جنگی حالات ہیں اور ان سے نمٹنے کے لئے اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے۔ جماعت اسلامی چونکہ اس وقت عملاً فیلڈ میں ہے، اس لئے اس کے مشورے اور مہارت حکومت کے لئے اس دورِ ابتلا میں امرت دھارا ثابت ہو سکتی ہے۔

مزید :

رائے -کالم -