زندگی کی رفتار کتنی تیز ہو چکی ہے……(1)

زندگی کی رفتار کتنی تیز ہو چکی ہے……(1)
زندگی کی رفتار کتنی تیز ہو چکی ہے……(1)

  

زندگی کی رفتار کتنی تیز ہو چکی ہے، اس کا اندازہ یا عرفان جو میری نسل کو ہوا، وہ میرے سے پہلی نسل یعنی میرے والدین یا دادا اور نانا کو نہیں ہوا تھا۔ نانا جب فوت ہوئے تو اپنے والدین کے ساتھ ان کی تجہیز و تدفین پر پاک پتن سے قصور پہنچا۔ اس وقت (1950ء کے عشرے میں) ریلوے انجن کوئلے سے چلا کرتے تھے۔ پتھرکا کوئلہ جلا کر بھاپ پیدا کی جاتی اور بھاپ کی طاقت سے سٹیم انجن چلا کرتے تھے۔ میں نے قیامِ پاکستان کے بعد 1950ء ہی کے عشرے کے اوائل میں وہ بس بھی دیکھی جس کا انجن سٹارٹ کرنے کے لئے ہینڈل گھمانا پڑتا تھا۔ نارتھ ویسٹرن ریلوے (NWR) کی زنانہ بوگیوں میں ہم والدہ کے ساتھ سفر کرتے تو کھڑکی سے باہر جھانکنے کی لت سے باز نہ آتے۔ قصور پہنچتے تو 4،5 گھنٹوں کے اس سفر میں آنکھیں سوج کر کپّا ہو جایا کرتیں۔ گاڑی سے اترتے ہی والد کی غضبانک آنکھیں بتا رہی ہوتیں کہ ”ذرا گھر پہنچو، پھر پوچھوں گا کہ سخت تاکید کے باوجود انجن کے دھوئیں میں شراروں کو آنکھوں میں اتارنے کا ارتکاب کیوں کیا تھا“……پھر دیکھتے ہی دیکھتے سٹیم کی جگہ ڈیزل انجن آ گئے اور بعد ازاں لاہور سے براستہ رائیونڈ منٹگمری (ساہیوال) جانے کے لئے بجلی کے انجنوں کو دیکھا…… ہینڈل گھما کر سٹارٹ ہونے والی بسیں سیلف سٹارٹ ہو گئیں، چابی گھمانے کی دیر ہوتی کہ گاڑی رواں دواں نظر آتی۔ پھر کالج اور یونیورسٹی کے زمانے میں پی آئی اے (PIA) کے ذریعے باکمال لوگوں کی لاجواب پرواز میں لاہور سے کراچی تک کا سفر ایک ڈیڑھ گھنٹے میں کٹنے لگا۔…… زندگی کی رفتار کتنی تیز ہو چکی تھی……

پھر 1968ء میں آرمی جوائن کی اور یورپ کی ملٹری ہسٹری میں انتظام و انصرام کے موضوع پر ریل گاڑیوں، ٹرانسپورٹ طیاروں، بحری جنگی جہازوں اور آبدوزوں کی تفصیلات جاننے کا موقع ملا تو ان جدید مواصلاتی ذرائع آمد و رفت کی مزید جانکاری ملی اور یہ بھی معلوم ہوا کہ ہم ایشیا والے مغربی دنیا سے کس قدر پیچھے رہ گئے ہیں۔ 1970ء میں میری پوسٹنگ ایک انفنٹری بریگیڈ ہیڈکوارٹر میں ہوئی جو جیری کَس میں مقیم تھا۔ یہ جگہ میرپور (آزادکشمیر) سے چند میل کے فاصلے پر جاتلی۔بھمبر روڈ پر واقع تھی۔ ہمارا ڈویژنل ہیڈ کوارٹر جہلم میں تھا۔ بریگیڈ کمانڈر نے ڈویژن کمانڈر کے GOCکے ساتھ بات کرنی ہوتی تو کال بک کراتے اور ایکس چینج کو بار بار درخواست کرنی پڑتی کہ ارجنٹ کال ہے، جلدی سے تُھرو کر دیں تو نوازش ہو گی۔ لیکن اس کھینچا تانی میں بھی 25،30منٹ سے زیادہ وقت گزر جاتا حالانکہ جیری کَس سے جہلم کا فاصلہ 50میل سے بھی کم تھا۔ البتہ وائرلیس کمانڈنیٹ کی دنیا ایک الگ دنیا تھی۔ ہم مغربی ممالک کو رشک کی نگاہوں سے دیکھتے کہ وہاں ریڈیو مواصلات کی فرمانروائی عام تھی۔ لیکن 1980ء اور 1990ء کے عشروں میں جب میری پوسٹنگ جی ایچ کیو میں تھی تو براہ راست ٹیلی فون کالوں کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔ اس کے بعد تو اس شعبہ مواصلات میں اتنی تیزی سے ترقی ہوئی کہ ہمیں خود بھی اپنی آنکھوں اور کانوں پر یقین نہ آیا۔

1985ء کا ماہِ رمضان میں نے راولپنڈی کے ائر ڈیفنس میس میں اکیلے گزارا۔ بچے اس دوران کوئٹہ میں رہے کہ ان کے سالانہ امتحانات کا مسئلہ تھا۔ میرا معمول ہوتا تھا کہ سحری کھانے کے بعد جب نیند نہیں آتی تھی تو مولانا مودودی کی تفہیم القرآن کا آدھ پارہ اردو ترجمے اور تفسیر کے ساتھ ختم کر لیا کرتا۔ باقی آدھا تراویح پڑھنے کے بعد کمرے میں آکر ختم کرتا اور پھر سو جاتا۔ اس طرح پورے ماہ رمضان میں تفہیم ختم ہو جاتی۔ اس کے بعد کئی برس ماہ رمضان آتا تو یہی معمول رہتا۔ اس کا فائدہ یہ ہوا کہ تفہیم کے اکثر صفحات پر حواشی بھی قلمبند کرنے کا موقع نصیب ہوا۔ جنرل ضیا کے دور میں پاک آرمی کو اسلام کی ایک نئی جہت سے بارِ دگر آشنائی ہوئی تو آفیسرز کلاس کا ایک بڑا طبقہ ضیاء کی سیاسیاست سے اختلاف کے باوجود اس راہ پر گامزن رہا۔ میرا تعلق کسی خاص اسلامی عقیدے یا فرقے سے نہیں لیکن مذہب کا جو مطالعہ میں نے ان برسوں میں کیا، اس نے مجھے کسی خاص فرقے، عقیدے یا مسلک سے منسلک ہونے سے بچائے رکھا۔

اپنے اس مطالعہ ء قرآن کا ذکر اس لئے کرنا پڑا کہ جب موبائل فون نے مواصلاتی دنیا میں آکر ایک انقلاب برپا کر دیا تو جو قرآن میں پورے ایک ماہ میں پڑھا کرتا تھا اور اس کے لئے باقاعدہ باوضو ہو کر اور میز کرسی پر بیٹھنے کی مجبوری تھی وہ تفہیم القرآن کی App نے ختم کر دی۔ نہ صرف مولانا مودودی بلکہ کئی دوسرے علمائے دین کے تراجم و تفاسیر کی Apps بھی سمارٹ موبائل پر آ گئیں۔ اب ان سے استفادہ کرنے میں پورا مہینہ صرف نہیں ہوتا اور نہ میز کرسی کے ساتھ چپکنے کی مجبوری ہے۔ رات کو سینے پر یہ 6"x4" کا ہلکا سا آلہ ء مواصلات رکھ کر جس پارے اور جس آیہ کی تلاوت مقصود ہو اور جس مترجم و مفسر کی تفسیر کا مطالعہ مطلوب ہو تو کسی کتب خانے کی الماری سے رجوع کرنے کی بجائے موبائل کی سکرین پر ایک انگلی دبانے کی دیر ہوتی ہے اور اگلے ہی لمحے گویا پورا دبستان کھل جاتا ہے…… زندگی کی رفتار کتنی تیز ہو چکی ہے……

پہلے آسمانی صحیفوں میں سات آسمانوں کا ذکر ہوتا تھا اور سات زمینوں کا بھی۔ ہم بچپن میں موسم گرما میں چھت پر سوتے تو آسمان پر کہکشاں کا جال سا بکھرا دیکھتے۔ ثریا، کیسوپیا، گریٹ بیئر اور سمال بیئر وغیرہ نام کے ستاروں کے جھمکے آسمان پر دیکھ دیکھ کر سوچا کرتے کہ قطبی ستارہ کیا چیز ہے اور اس کے ایک ہی جگہ پر ہونے کی وجوہات کیا ہیں۔ اپنے نظام شمسی میں دس یا گیارہ سیاروں کے نام یاد کرنے پڑتے تھے۔ ایک ایک سیارے کے ساتھ کئی کئی چاندوں کا ذکر پڑھ کر حیرت ہوتی کہ کیا یہ سب کچھ سچ ہے اور کیا کواکب وہی کچھ ہیں جو نظر آتے ہیں …… پھر ایک دن (1969ء میں) خبر آئی کہ ایک امریکی چاند پر جا پہنچا ہے۔ اور اس کے بعد تو خلائی اسٹیشنوں اور خلائی شٹلوں کے اسفار اتنے تواتر سے منظر عام پر آئے کہ ان میں حیرت و استعجاب کا عنصر ختم ہو کر گویا ایک معمول (Routine) میں ڈھل گیا۔ انسان اپنے نظامِ شمسی سے نکل کر دوسرے اَن گنت نظام ہائے شمسی کی طرف شٹلیں ارسال کرنے لگا اور ان کے ساتھ خلائی اسٹیشنوں میں بھیجے گئے خلانوردوں سے یوں بات چیت ہونے لگی

جیسے دو دوست ایک میز پر آمنے سامنے بیٹھ کر گفتگو کر رہے ہوں …… زندگی کی رفتار کتنی تیز ہو گئی تھی؟……

اور پھر کچھ زیادہ عرصہ نہ گزرا اور اس رفتار کی دنیا میں ایک اور انقلاب آ گیا۔ آپ کرۂ ارض پر جہاں کہیں بھی بیٹھے ہوں، کسی بھی شخص سے بات چیت کر سکتے ہیں اور اس کی تصویر آپ دیکھ سکتے ہیں اور وہ شخص بھی آپ کی تصویر دیکھ کر ”روبرو“ ہو سکتا ہے۔ بڑی بڑی اور ضخیم کتابیں ای (E) میل پر آنے لگیں اور پڑھی جانے لگیں۔ خط و کتابت کے لکھنے لکھانے اور سپردِ ڈاک کرنے کی جھنجٹ سے نجات ملی۔ ایک ایسی App ایجاد ہوئی جس کا نام Whatsapp ہے۔ آپ روئے زمین پر جس شخص کو چاہیں، وڈیو اور آڈیو پیغامات بھیج سکتے ہیں۔ یعنی ٹیلی فون کا مسئلہ ہی ختم ہو گیا۔ پلک جھپکنے میں سینکڑوں صفحات PDF کے ذریعے کرۂ ارض کے کسی بھی حصے میں پہنچائے اور وہاں سے وصول کئے جا سکتے ہیں اور ہینگ لگے نہ پھٹکڑی…… صرف وائی فائی درکار ہے اور اب تو بہت سے ممالک نے ملک کے طول و عرض میں فائی فائی مفت فراہم کر دی ہے…… زندگی کی رفتار کتنی تیز ہو چکی ہے……

لیکن قارئینِ گرامی! یہ جو گزشتہ چار ماہ سے کرونا وائرس کی وبا پھوٹی ہے اس کے تناظر میں خیال آتا ہے کہ انسان نے اپنی حیاتِ چند روزہ میں جو سفر ریل کے سٹیم انجن، ہینڈل گھما کر سٹارٹ ہونے والی بس، بجلی سے چلنے والی ریل گاڑی، ہوائی جہاز، مواصلاتی سیارے اور خلائی گاڑیوں سے آغاز کیا تھا اس کی انتہا کیا ہے…… کیا واقعی یہ ایک نیا عالمی جہان (New World Order) ہے جو پیدا ہو چکا ہے؟…… کیا یہ وبا اس کی ابتدا ہے؟…… کیا انسان اس پر قابو پا لے گا؟…… کیا کرونا سے پہلے والے ایام لوٹ آئیں گے یا دنیا کو ایک اور طرح کی دنیا دیکھنے کو ملے گی؟…… کیا مشرق و مغرب کے شاعروں اور فلسفیوں نے آنے والے دور کی جن تصویروں کو قیامت، حشر یا روزِ حساب کہا تھا وہ آج اگر لاکھوں انسانی اموات کی صورت میں ”جلوہ گر“ ہیں تو کیا زندگی کا مآل یہی ہے؟…… کیا میری نسل کو سٹیم انجن سے لے کر کرونا وائرس تک دیکھنے اور دکھانے کے لئے ہی پروردگارِ عالم نے پیدا کیا تھا؟……سوچتا ہوں‘ مرا اے کا شکہ مادر نہ زادے!…… میری عمر اس بریکٹ میں ہے جس پر کرونا کا حملہ ہو تو وہ برداشت نہیں کر سکے گی۔ کہا جا رہا ہے کہ یہ وائرس دیکھتے ہی دیکھتے میری جیسے معمر لوگوں کو سب سے پہلے ”خوش آمدید“ کہتا ہے اور جواں سال انسانوں کا ”استقبال“ بعد میں کرتا ہے۔سوچتا ہوں کہ آج جو سطور لکھ کر قارئین کے سامنے رکھ رہا ہوں کل وہ انگلیاں ٹوٹ جائیں گی جو اس کالم کو تحریر کر رہی ہیں؟…… کیا خدا نے اپنی ”بہترین تخلیق“ کو خود اس انجام سے دوچار کیا ہے؟……اس موضوع پر اقبال کی ایک چونکا دینے والی غزل یاد آ رہی ہے…… میں نے مشرق و مغرب کے جن تحریری شاہپاروں کا مطالعہ کیا ہے ان میں حضرتِ اقبال کے اس موضوع کو کسی شاعر یا نثرنگار نے ڈسکس کرنے کی جرات نہیں کی۔ میری معلومات شائد بہت ناتمام اور ادھوری ہوں اس لئے قارئین سے گزارش کروں گا کہ وہ اس غزل میں بیان کے گئے ”حد درجہ گستاخانہ“ پہلوؤں کے ابطال میں میری رہنمائی فرماویں۔ (جاری ہے)

مزید :

رائے -کالم -