کرونا اور سیاست ساتھ ساتھ

کرونا اور سیاست ساتھ ساتھ
کرونا اور سیاست ساتھ ساتھ

  

کووڈ 19 ہے کہ پھیلتا ہی جا رہا ہے،رکنے کا نام ہی نہیں لے رہا اور ہماری ملکی سیاست،گھری ہوئی ہے طوائف تماش بینوں میں۔ کورونا کے وار صرف پاکستان نہیں دنیا بھر میں تیز ہو رہے ہیں متاثرین اور ہلاکتوں کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے،ایسے میں ضرورت ہے متحد ہو کر اس جان لیوا وائرس کو شکست دینے کی مگر، مرے وطن کی سیاست کا حال مت پوچھو ،ان حالات میں بھی سب پوائنٹ سکورنگ میں مصروف ہیں۔ چند ایک کو چھوڑ کر ہماری سیاسی قیادت سیلف آئیسو لیشن میں ہے لیکن وہاں بھی اسے چین نہیں بلکہ اپنے اپنے مفادات، اقتدار و اختیار کے حصول کیلئے سازشی تھیوری پر عمل پیرا ہے۔ایسے نازک مواقع پر عموماً قومی سیاستدان قوم کے صدمہ کو کم کرنے اور مشکلات کے خاتمہ کیلئے اپنا اپنا کردار ادا کرتے ہیں اختلافات پس پشت ڈال کر یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہیں، جیسا کہ چودھری پرویز الہی نے پنجاب اسمبلی میں کیا مگر دو بڑی سیاسی جماعتوں نے کیا کیا؟ دکھ جھیلے بی فاختہ اور کوے انڈے کھا ئیں،ملک کی بڑی سیاسی جماعتیں ہونے کی دعویدار دونوں جماعتوں کی مرکزی قیادت نے کورونا فنڈ میں اپنا حصہ ڈالا،پاک فوج کے افسروں،جوانوں،پولیس اہلکاروں،اور سرکاری ملازمین نے اس فنڈ میں حصہ بقدر جثہ ڈالا ہے،جو انتہائی قابل توصیف عمل ہے،مگر ماضی میں اس قوم کے وسائل پر عیش اور لوٹ مار کرنے والوں نے اب تک مصیبت زدہ دکھی ہم وطنوں کیلئے کوئی کارنامہ انجام نہیں دیا،جو ایک قابل شرم و مذمت بات ہے۔

میاں شہباز شریف اس دعویٰ کیساتھ وطن آئے کہ اس آفت کے دوران وہ قوم کو اکیلا نہیں چھوڑ سکتے،مگر وطن آکر گوشہ نشین ہو گئے،آن لائن سیاسی اجلاس تو کرتے رہے مگر یہ جاننے کی کوشش نہ کی کہ قوم کس حال میں ہے قوم کو چھوڑیں انہوں نے اپنے کارکنوں کی بھی خبر نہ لی، آصف زرداری بھی بیماری کے باعث گوشہ عافیت میں چلے گئے،صدر ن لیگ وطن آنے کے بعد پہلی مرتبہ گھر سے نکلے تو جیل سے رہائی پانے والے خواجہ برادران کے گھر مبارک دینے گئے،مگر یہ دورہ نہ تو خیر سگالی تھا اور نہ مقصد یکجہتی تھا،جس کا ثبوت یہ ہے کہ شہباز شریف کی آمد کے اگلے روز سعد رفیق اور سلمان رفیق اچانک ملاقت کیلئے چودھری برادران کے گھر جا پہنچے،چودھری پرویز الہٰی سے ملاقات کی، چودھری خاندان کا خواجہ خاندان سے دیرینہ مشفقانہ رویہ رہا،بھٹو دور میں جب ان کے والد خواجہ رفیق کو قتل کیا گیا تو چودھری ظہور الٰہی شہید نے ان کی والدہ بیگم فرحت رفیق کی بھر پور مدد کی،ہر طرح سے تعاون فراہم کیا،تب سعد رفیق اور سلمان رفیق دونوں ابھی لڑکے بالے تھے،سعد رفیق نے مگر چودھریوں کے صلہ رحمی کا بدلہ سیاست سے دیا اور شریف برادران کو خوش کرنے کیلئے چودھری برادران کیخلاف ہمیشہ زہر اگلتے اور انگارے برساتے رہے،بعض اندرون خانہ حالات سے واقف کاروں کا کہنا ہے کہ شریف برادران اور

چودھری برادران میں اختلا فات کو بھی سعد رفیق نے ہوا دی،کہا جاتا ہے کہ جب ذوالفقار کھوسہ پنجاب ن لیگ کے صدر تھے تو سعد رفیق سیکرٹری جنرل،تب سردار کھوسہ اور نواز شریف میں اختلافات کی آگ بھی سعد رفیق نے بھڑکائی تھی۔

شہباز شریف سے ملاقات کے بعد خواجہ برادران کی چودھری ہاؤس آمد بلا وجہ نہیں،واقفان حال کا دعویٰ ہے کہ چودھریوں سے تعاون مانگا گیا ،یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ تحریک انصاف حکومت کو گرانے کیلئے معاملات بڑھانے کی بات کی گئی۔اگر چہ مرکز اور پنجاب میں تحریک انصاف حکومت کے قیام میں چودھری پرویز الٰہی کا کردار انتہائی واضح اور اہم ہے،حکومت کے قیام سے قبل گرینڈ اپوزیشن کا قیام عمل میں آچکا تھا،اس موقع پر چودھری شجاعت اپنی جادوگری نہ دکھاتے مصالحت کا رویہ نہ اپناتے اور مخالفین کو رام نہ کرتے تو حکومت بیشک قائم رہتی مگر ڈانواں ڈول ہی رہتی،فضل الر حمٰن جو بہت طمطراق سے اس یقین کیساتھ اسلام آباد آئے اور دھرنا دیاکہ دھرنے کے سیلاب میں وہ حکومت کو بہا لے جائیں گے،اس آڑے اور کڑے وقت میں بھی چودھری شجاعت اور پرویز الٰہی کا سیای تجربہ اور رابطے کام آئے اور مولانا کو گھر کی راہ لینا پڑی،نواز شریف اور شہباز شریف تو حکومت کے ابتدائی دنوں سے ہی اسے گرانے کی کوشش میں مصروف ہو گئے تھے،مگر چودھری خاندان نے اپنی سیاسی روایات کے مطابق پیٹھ میں چھرا گھونپا نہ حکومت کو کمزور ہو نے دیا،اگر چہ وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے سپیکر پرویز الٰہی اور ق لیگ کے وزراء اور ارکان کو عضو معطل بنانے کی بھر پور کوشش کی،طارق بشیر چیمہ کے حکومت بارے تحفظات کچھ بے معنی نہ تھے،مگر اس موقع پر تحریک انصاف کے اکابرین نے اہم کردار ادا کیا۔

عثمان بزدار نے پرویز الٰہی کو پنجاب اسمبلی میں بھی صرف حکومتی”سپیکر“بنانے کی بھر پور کوشش کی مگر اس کے باوجود چودھری پرویز الٰہی نے حکومت کو اسمبلی میں چاروں خانے چت ہونے سے بچائے رکھا،اس مخلصانہ خدمت کا عوضانہ انہیں وہ بھی نہ ملا جو حکومتی اتحاد تشکیل دیتے وعدہ کیا گیا تھا،نواز شریف نے بھی چودھری خاندان سے ابتداء میں مخاصمت برقرار رکھی اور اپنی طبیعت کے مطابق چودھریوں کی مضبوط اور اہم حیثیت کے باوجود انہیں قریب نہ آنے دیا،مگر فضل الرحمٰن کی ناکامی،پنجاب میں عدم اعتماد کی تحریک نہ لا سکنے،حکومتی اتحادیوں کی ہارس ٹریڈنگ کی کوشش میں منہ کی کھانے کے بعد ان کو نہیں مگر شہباز شریف کو ان کی اہمیت کا احساس ہو گیا اور انہوں نے ان سے رابطوں کا ڈول ڈال دیا،دیکھنا اب یہ ہے کہ شریف برادران کی بر آتی ہے کہ نہیں،روائت ان کی بھی بیوفائی اور سیاسی بد عہدی کی ہے،لیکن دوسری طرف صورتحال یہ ہے کہ عثمان بزدار بھی قابل اعتماد ثابت نہیں ہو رہے اور پرویز الٰہی کی مصالحت کیش پالیسی کو جانے کیا نام دے رہے ہیں کہ ان کی پوری کوشش ان کو بے وقعت کرنے کی ہے،جبکہ دشمن بھی اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں کہ اگر چودھری خاندان عثمان بزدار کا ساتھ نہ دیتے تو وہ چند ہفتے بھی وزارت اعلیٰ کے عہدے پر فائز نہ رہ سکتے تھے،مگر اس کے باوجود ان کا سارا انحصار دھیان اور فنڈز جنوبی پنجاب کیلئے مختص ہیں،وسطی اور شمالی پنجاب کی ان کی نگاہ میں شائد کوئی اہمیت نہیں،شائد وہ نہیں جانتے کہ اگر پنجاب میں تحریک انصاف کی حکومت مشکل میں آئی تو مرکز میں تحریک انصاف کی حکومت کا وجود بھی خطرے میں پڑ جائے گا،اس لئے اتحادیوں خاص طور پر ق لیگ کی اہمیت کو ماننا ضروری ہے۔اور اگر شریف برادران کی سازشی تھیوری کامیاب ہو گئی تو پھر کسی کو اشک بہانے کا بھی موقع نہیں ملے گا۔

اس وقت پوری تحریک انصاف میں عثمان بزدار کو صرف وزیر اعظم کی حمائت حاصل ہے،ورنہ پارٹی میں آغاز سے ہی سامنے آنے والی دھڑے بندی کے بعد بزدار کو اپنا وجود برقرار رکھنا مشکل نہیں ناممکن ہو جاتا،ایسے میں چودھری پرویز الٰہی کو پنجاب میں وہ کردار دینا پڑے گا جو وقت کی ضرورت ہے۔یہ کردار کیا ہے یہ بھی سب کو معلوم ہے اس لئے اب دیر نہیں ہونی چاہئے ورنہ کورونا کے ساتھ اگر سیاست کا سازشی وائرس بھی شامل ہو گیا تو تباہی در تباہی ہو گی۔

مزید :

رائے -کالم -