پنجاب پولیس کو سلام،کرونا پوری دنیا کیلئے چیلنج

پنجاب پولیس کو سلام،کرونا پوری دنیا کیلئے چیلنج
پنجاب پولیس کو سلام،کرونا پوری دنیا کیلئے چیلنج

  

”کورونا سے ڈرنا نہیں لڑنا ہے“۔ ”کورونا کو بھگانا ہے“۔ ”کورونا کے خلاف جنگ قوم نے مل کر لڑنی ہے“۔ ابے چپ۔ دماغ خراب کردیا۔ کورونا نہ ہوا وہ دشمن ہوگیا جو بے تیغ سپاہیوں سے بھی مرجاتا ہے۔ چند ہزار ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل سٹاف کو حفاظتی کٹس اور ضروری سامان تو دے نہیں سکتے۔ قوم کو لڑوائیں گے اس دشمن سے جو کہیں سے بھی گھس سکتا ہے۔ ایک طرف کہہ رہے ہیں سماجی فاصلہ رکھو دوسری طرف مل کر لڑنے کا عندیہ دے رہے ہیں۔ ملنے ہی میں تو سارے مسئلے ہیں۔ عجب چپکو وائرس ہے، خود ہر چیز اور ہر ایک سے چپک رہا ہے لیکن لو گوں کو ملنے بھی نہیں دے رہا۔ جس کے قریب جاؤ، دور ہی سے اشارہ کردیتا ہے، پرے، پرے۔ سلام ہے پنجاب پولیس کورونا وائرس کے پھیلاؤ کوکم سے کم رکھنے کیلئے اپنی جانوں کو پرواہ کئے بغیر خدمات سر انجام دے رہی ہے جو پولیس فورس کی فرض شناسی اور عوامی خدمت کے بے لوث جذبے کا عکاس ہے۔ کورونا وائرس کے خلاف جدوجہد میں مصروف عمل تمام اداروں کی کاوشیں اور کردار قابل تعریف ہے بالخصوص پنجاب پولیس کی ان خدمات اور قربانیوں کو صدیوں فراموش نہیں کیا جا سکے گا۔آج کے حالات میں جب ملک میں کرونا وائرس کی وبا عام ہے پولیس کے جوان ہر وقت ناکوں پر موجود ہیں،دن اور رات کی تفریق کئے بنا اپنی ڈیوٹی کو عبادت سمجھ کر سرانجام دے رہے ہیں۔پنجاب کے ہر ضلع میں پولیس کے جوان ناقابلِ فراموش خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔لاہور سمیت پنجاب بھرمیں کرونا وائرس کی وبا کو پھیلنے سے روکنے کے لئے ٹریفک پولیس و موٹر وے پولیس سمیت پنجاب پولیس ہراول دستے کے طور پر انتظامیہ کے شانہ بشانہ شریک ہے۔ کرونا وائرس کو روکنے کیلئے لوگوں کا باہمی میل ملاپ کو کم سے کم کرنا پڑتا ہے اور ایسی صورتحال میں لوگوں کو سڑکوں پر آنے سے روکنا از حد ضروری ہے اور یہ ڈیوٹی پولیس کے جوان احسن طور پر سرانجام دے رہے ہیں۔جبکہ آئی جی پولیس پنجاب کی ہدایت پر ”پولیس ریلیف فنڈبرائے کورونا وائرس“ قائم کیا گیاہے جو انتہائی قابل ستائش ہے اس فنڈ میں کانسٹیبل سے لے کر ڈی آئی جی عہدے کے افسران نے رضاکارانہ طور پر حصہ ڈالا ہے۔

اس فنڈ کی مدد سے ضرورت مند شہریوں میں ضروری اشیائے خورد و نوش تقسیم کی جارہی ہیں۔اب تک اس حوالے سے 6کروڑ روپے کے لگ بھگ رقم جمع ہو چکی ہے۔ ہم پاکستانی ان تمام پولیس اور ضلعی افسران، ڈاکٹروں اور دیگر انتظامی اداروں جو بہترین اور متحد ہوکر کرونا وائرس کو شکست دینے کے لیے خدمات سر انجام دے رہے ہیں انھیں سلام اور خراج تحسین پیش کرتے ہیں ان کے پاس اس دشمن کو ختم کرنے یا فنا کرنے کا کوئی باقائدہ ہتھیار نہیں‘یہ بے تیغ سپاہی ہیں۔سب کچھ تو ختم ہورہا ہے، سب دکھاوا ہے، کیا بھرم تھا، جس کا جو دل چاہے وہ کر جاتا، ہر طرف نئے نئے تماشے لگائے جارہے تھے، سب ہی لوگ دنیا کی حقیقت اور آخرت کے سفر کو نظرانداز کیے جارہے تھے مگر اب سب ختم ہوگیا، دکھاوا بھی اپنی منزل پر پہنچ گیا۔ بس اللہ نے ایک ہلکا سا اشارہ کیا، اس شے کو سامنے کردیا جو نظر بھی نہیں آرہی مگر پھر بھی ایٹمی طاقت رکھنے والے اب کبھی اپنے ایٹم بم کو دیکھیں تو کبھی اپنے رعونت انگیز چہروں کو آئینوں میں دیکھیں۔ پھر مرنے کے بعد ایسا بھی کیا ہوسکتا ہے، نہیں نہیں یہ تو تصور بھی نہیں تھا کہ کورونا وائرس کا شکار ہوکر دنیا سے چلے جانے والوں کو قبرستان تک لے جانے والے بھی گنتی کے افراد ہوں گے اور قبر میں عزت و احترام کے ساتھ میت کو اتارا نہیں جائے گا بلکہ رسیوں کی مدد سے پھینک دیا جائے گا۔ توبہ توبہ… اے اللہ تو معاف کردے ہم سب کو تو ہی ہم کو معاف کرسکتا ہے کیوں کہ تو بڑا معاف کرنے والا اور در گزر کرنے والا ہے۔

تو ہی تو زمین سے آسمان تک کے گناہوں کو معاف کردے گا۔ بس ایک تیرا ہی آسرا ہے۔۔۔ مگر دنیا میں لوگوں کے سامنے یہ کیسا تماشا تو دکھارہا ہے۔ صرف یہ سن کر کہ کورونا وائرس نے جکڑ لیا ہے، ہمارے اپنے ہم سے دور ہوجائیں گے اور ہم کو خود ہی اپنے آپ کو مقید کرنے پر مجبور کردیں گے، پھر اللہ تیرے حکم سے ہمیں موت آگئی تو غسل، کفن اور دفن کے مسائل بھی پیدا ہوجائیں گے۔ قرآن پاک میں تو یہ مناظر اللہ تو نے قیامت کے بعد روز حشر کے بیان کیے ہیں، مگر یہ کیا، دنیا میں قیامت سے پہلے قیامت آگئی کیا؟ ابھی تو مسلمان موجود ہیں مگر علماء کہا کرتے تھے کہ جب تک زمین پر ایک بھی مسلمان ہوگا تیرا نام لینے والا ہوگا قیامت نہیں آئے گی۔ تو پھر یہ سب کیا ہے؟ کورونا وائرس تو اسے بھی نظر نہیں آرہا جس سے وہ لپٹ اور چمٹ چکا ہے، ہمارے ایمان و یقین کے دعوے کہاں گئے؟ احتیاط کرنے کے باوجود ہم اللہ تجھ پر توکل کرنے سے گریز کرنے لگے ہیں۔ یہی دباؤ رہا تو اب 24 اپریل سے رمضان المبارک شروع ہوجائیں گے ان شاء اللہ تو کیا اس مقدس ماہ بھی احتیاط کے نام پر مساجد بے رونق رہیں گی؟ اگر یہ سلسلہ خدانخواستہ جاری رہا تو عیدین کے نماز تو کجا حج جیسے فریضہ کو بھی اپنی عقلوں کے استعمال سے روک دیا جائے گا۔

یاد رہے کہ سعودی عرب کے شہروں میں رواں سال ہی وہاں کے حکمرانوں نے نائٹ کلب اور سینما کھولنے کی اجازت دی یقینا یہ غیر شرعی اعمال سے بھی اللہ ناراض ہوا ہے۔آخر میں وزیر اعظم نے اسٹیبلشمنٹ ڈویڑن کو شہزاد ارباب کے حوالے کر دیا ہے پوری وفاقی بیوروکریسی اب چینی اسکینڈل میں ملوث ایک شخص کے رحم و کرم پر ہوگی۔ اس سے عمران خان نیازی کے گڈ گورننس کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ چینی اور گندم سکینڈل کے اہم ترین کرداروں کو عمران خان نیازی نے پہلے ہی کابینہ سے باہر نہیں کیا تھا، بس ان کے قلمدان ادل بدل کردیے تھے۔ شہزاد ارباب اور جہانگیر ترین ہی باقی رہ گئے تھے کہ وہ غیر منتخب ہیں تو شہزاد ارباب کو دوبارہ سے دربار میں شامل کرلیا گیا ہے۔ جہانگیر ترین کو کابینہ میں مجبوری کے تحت شامل نہیں کیا جاسکتا کہ ان کے خلاف عدالت عظمیٰ کا فیصلہ موجود ہے ورنہ اب تک ان کے پاس بھی کوئی اہم قلمدان ہوتا۔علیم خان کی بھی سنی گئی ہے اور وہ بھی جلد حلف اٹھا لیں گے۔

مزید :

رائے -کالم -