قصوری ویلفیئر ٹرسٹ کا کرونا بحران میں 60ملین روپے دینے کا فیصلہ

قصوری ویلفیئر ٹرسٹ کا کرونا بحران میں 60ملین روپے دینے کا فیصلہ

  

اسلام آباد (این این آئی)قصوری خاندان اور محمود علی قصوری ویلفیئر ٹرسٹ کی جانب سے ملک کو درپیش کرونا وائرس (Covid-19) بحران میں 60ملین 6)کروڑ(روپے دینے کا فیصلہ کیا گیا۔اس مد میں 40ملین روپے کے فنڈ میں سے 20ملین روپے ٹرسٹ اور 20ملین روپے قصوری خاندان کی جانب سے دیئے گئے جس سے کرونا سے متاثرہ مستحق افراد کی امداد کی جائیگی اورمزید 20ملین روپے وزیر اعظم کرونا ریلیف فنڈ میں جمع کروائے جائیں گے۔40ملین (4کروڑ) روپے کا فنڈ مستحقین تک خاص طور پر دیہاڑی دار طبقے تک ضروری کھانے پینے کی اشیاء "راشن پیکس "کی صورت میں پہنچایا جائے گا۔ ان راشن پیکس میں موجود کھانے پینے کی اشیاء سے بشمول 5افراد کا گھرانہ ایک ماہ تک اپنے کھانے پینے کی ضروریات پوری کرسکتا ہے۔یہ سرگرمی کراچی، لاہور،اسلام آباد اور قصورمیں 13اپریل2020سے شروع کی جائے گی۔ محمود علی قصوری ویلفیئر ٹرسٹ کے چیئرمین میاں خورشید محمود قصوری اور شریک چیئرمین جناب ناصر قصوری نے کہا کہ: " 1994سے، ٹرسٹ،بغیر کسی تشہیر کے پسماندہ لوگوں کی فلاح و بہبود اور تعلیم کے مختلف منصوبوں پر نہایت محتاط طریقے سے کام کررہا ہے "۔ مشکل کی اس گھڑی میں دیہاڑی دار طبقے کی مدد کرنے کیلئے ہم "ہرقدم پاکستان کے ساتھ"کے نام سے اپنی مہم کا آغاز کرنے جارہے ہیں۔ ہم یہ بھی امید رکھتے ہیں کہ وزیر اعظم فنڈ میں جمع کروائی گئی ہماری یہ رقم، حکومت کی اس وبا کے خلاف کی جانے والی لڑائی میں اپنا چھوٹا سا حصہ ڈالے گی۔محمود علی قصوری ویلفیئر ٹرسٹ، نہایت باوقار اخوت آرگنائزیشن کے ساتھ اپنی شراکت داری ہونے پر انتہائی خوشی محسوس کر رہا ہے۔ اور ہم لاہور، کراچی اور اسلام آباد میں ان کے وسیع ترین نیٹ ورک کو استعمال کر کے اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ راشن صرف مستحق اور ضرورت مند گھرانوں تک پہنچایا جائے۔ جبکہ قصور میں محمود علی قصوری ویلفیئر ٹرسٹ خود راشن کی تقسیم کا انتظام کرے گا۔ تقسیم سے پہلے تمام سپلائی کو بیکن ہاؤس اور کنکورڈیا کالجز(Concordia Colleges) کے مخصوص کیمپسز میں رکھا جائیگا۔ محمود علی قصوری ویلفیئر ٹرسٹ کی سرپرست اور بیکن ہاؤس کی بانی مسز نصرین قصوری نے کہا کہ "بیکن ہاؤس (جو کہ ٹرسٹ کا ایک بنیادی ڈونر بھی ہے) میں سماجی ذمہ داری کو لے کر نہایت ہی پختہ کلچر موجودہے، اقدامات کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ "، اس وقت ہم سب کو چاہیے کہ مل کر حکومت کی جانب سے کی گئی کوششوں میں ان کا ساتھ دیں اور میں شکریہ ادا کرنا چاہوں گی تمام نجی اداروں اور لوگوں کا جنہوں نے اس مقصد کیلئے اقدام کیے ہیں۔بیکن ہاؤس کی طرف سے میں، ہمارے ڈاکٹرز، ہیلتھ کیئر ورکرز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا شکریہ ادا کرنا چاہوں گی جو اس جنگ میں سب سے آگے کھڑے ہیں۔مسز قصوری نے مزید کہا کہ: پہلی کھیپ نجی مالی اعانت پر مشتمل ہے ،ہمارے بہت سے امپلائز اور طالبعلموں نے بھی اس معاملے میں اپنا کردار ادا کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے مگر ابھی وہ ان تک ضروری اشیاء کی فراہمی اور تقسیم کو خود ممکن نہیں بنا سکتے۔ اگلے مرحلے میں ہماری کوشش ہے کہ بیکن ہاؤس کمیونٹی اور دوسرے لوگوں کیلئے ایسا طریقہ کار بنایا جائے کہ جس کے ذریعے وہ اس اقدام میں رضاکارانہ طور پر شامل ہو سکیں۔ یہ ٹرسٹ کو اس قابل بنائے گا کہ وہ اپنے بنیادی معاہدے میں توسیع کر کے زیادہ سے زیادہ لوگوں تک فائدہ پہنچانے میں کامیاب ہو سکے۔ واضح رہے کہ محمود علی قصوری ویلفیئر ٹرسٹ، 1994میں قائم ہوا،جو کہ ایک آزاد اور غیر منافع بخش تنظیم ہے جس نے ہمیشہ پسماندہ لوگوں کی ترقی اور بہتری کیلئے بہت کام کیا۔ ٹرسٹ اور اس کے بنیادی ڈونرز، بیکن ہاؤس، قصوری خاندان اور بیکن ہاؤس کے امپلائز نے ہمیشہ تمام قومی بحران، 2005کے زلزلے جس نے پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں بہت تباہی پھیلائی تھی، 2009میں آئی ڈی پی بحران اور 2010اور2014میں بڑے پیمانے پر آنے والے سیلاب میں بھی بہت زیادہ امداد فراہم کی تھی۔ ابھی حال ہی میں محمود علی قصوری ویلفیئر ٹرسٹ نے ضلع گوجرانوالہ میں 48سرکاری پرائمری سکولوں میں طالبعلموں کیلئے باتھ رومز اور کلاسرومز کی تعمیر کیلئے 22ملین روپے کی امداد کی تھی۔

قصوری خاندان

مزید :

صفحہ آخر -