مساجد سے ذکر و اذکار اور اللہ اکبر کی صدائیں قیامت تک بلند ہو تی رہیں گی: نور الحق قادری

  مساجد سے ذکر و اذکار اور اللہ اکبر کی صدائیں قیامت تک بلند ہو تی رہیں گی: نور ...

  

کرمانوالہ (این این آئی) وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نورالحق قادری نے کہا ہے کہ رمضان المبار ک میں نماز تراویح مساجد میں یا گھروں میں پڑھنے کے بارے میں رمضان سے پہلے پہلے فیصلہ کرلیا جائیگا، اس بارے میں تمام مکاتب فکر کے علماء کرام و مفتیان کرام اسلامی نظریاتی کونسل و محکمہ اوقاف دیگر سے مکمل مشاورت اور دنیاو عالمی حالات کومدنظر رکھ کر فیصلہ کریں گے۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے میڈیا سے گفتگو کے دوران کیا۔انہوں نے کہا کہ انسانی جانوں کی حفاظت ہماری اولین ترجیح ہے انشاء اللہ مساجد کے میناروں سے اللہ اکبر کی صدائیں اور ذکرواذکارہمیشہ اور قیامت تک بلند ہوتے رہیں گے۔اس وقت پوری دنیائے انسانیت قدرتی عتاب میں ہے۔کرونا وائرس جیسے مہلک امراض کی وجہ سے احتیاط انتہائی ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان قوم کو ایک باپ کی طرح کرونا کے بارے میں سمجھا رہے ہیں اس لئے کرونا سے بچاؤ کے لئے حکومتی احتیاتی تدابیر پرعمل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے حکومت تمام تر دستیاب وسائل قوم کے لئے استعمال کر رہی ہے۔پیر نورالحق قادری نے کہا کہ حکومت ایک کروڑ بیس لاکھ خاندانوں میں اربوں روپے کے فنڈز تقسیم کر رہی ہے تا کہ مستحقین کی اشیاء خورد ونوش میں آسانی پیدا ہو۔انہوں نے مخیر حضرات سے اپیل کی ہے کہ وہ بھی ضرورت مندوں بے سہارا اور مستحق افراد کی مدد کریں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی کی طلب کی جائے پوری انسانیت اس وقت کرونا وائرس کے کرب میں مبتلا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے کہا کہ 15 رمضان المبار ک تک حج بیت اللہ پر امسال جانے یا نہ جانے کا فیصلہ ہو جائیگا۔انہوں نے کہا کہ سعودی حکومت سے ہمارا مسلسل رابطہ ہے سعودی حکومت نے کہا ہے کہ ابھی پاکستان ٹرانسپورٹ ائر لائنز ٹکٹنگ اور رہائشوں کے بارے میں کسی سے کوئی معاہدہ نہ کرے۔انہوں نے کہا کہ تاریخ میں چالیس سے زائد مرتبہ حج جزوی یا مکمل طور پر نہ ہوسکا ہے اس لئے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں یہ سب اللہ کے فیصلے ہیں انسان قدرت کے فیصلوں کے سامنے بے بس اور بے اختیار ہے اللہ انسانوں کے لئے بہتر ہی کرے گا۔پیر نورالحق نے کہا کہ ہمیں اپنے گناہوں سے توبہ کرنی چاہیئے اللہ بہت بڑے غفورو رحیم ہیں۔

نور الحق قادری

مزید :

صفحہ آخر -