بھارت نے شہریت ترمیمی قانون اقلیتوں کو کچلنے کیلئے بنایا، منسوخ کرے

  بھارت نے شہریت ترمیمی قانون اقلیتوں کو کچلنے کیلئے بنایا، منسوخ کرے

  

واشنگٹن(آن لائن) ایک معروف بین الاقوامی نگران تنظیم نے بھارت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس امتیازی سلوک کے حامل شہریت ترمیمی قانون اور پالیسیوں کو منسوخ کرے جس سے لاکھوں بھارتی مسلمانوں کے حقوق کو خطرہ ہے اور ملک کے سب سے بڑے اقلیتی گروہ اور دیگر برادریوں میں خوف و ہراس پھیل رہا ہے۔82 صفحات پر مشتمل رپورٹ میں ہیومن رائٹس واچ (ایچ آر ڈبلیو) نے کہا کہ متنازع شہریت ترمیمی قانون کے تحت غیرقانونی تارکین وطن کی شناخت کے نام پر لاکھوں بھارتی مسلمانوں کے شہریت کیلئے خطرہ پیدا کردیا گیا۔ وزیر داخلہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے دیگر رہنماؤں کے بیانات سے یہ خدشہ پیدا ہوا کہ لاکھوں بھارتی مسلمان، جن میں بہت سارے خاندان کئی نسلوں سے ملک میں رہ چکے ہیں، ان سے ان کی شہریت کا حق چھین لیا جائیگا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ پولیس پالیسی کے ناقدین کو گرفتار کرنے اور ان کے پرامن مظاہروں کو منتشر کرنے میں ضرورت سے زیادہ اور مہلک طاقت کا استعمال کررہی ہے۔ ایچ آر ڈبلیو ساؤتھ ایشیا کے ڈائریکٹر میناکشی گنگولی نے کہا کہ حکومتی پالیسیوں نے تشدد کا راستہ کھول دیا ہے اور پولیس کی عدم فعالیت نے پورے ملک میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتی برادریوں میں خوف کو جنم دیا۔ بی جے پی کے زیر اقتدار ریاستوں خاص طور پر اتر پردیش میں مظاہروں کے دوران کم از کم 30 افراد جاں بحق ہوئے جو زیادہ تر مسلمان تھے۔ غیر ملکی ٹریبونلز جو آسام میں شہریت کا فیصلہ کرتا ہے مسلمانوں کو نشانہ بنا رہا ہے اور ہندوؤں کے مقابلے میں غیرمعمولی تعداد میں مسلمانوں کو غیر ملکی قرار دیا گیا۔ایچ آر ڈبلیو نے بھارتی حکومت پر زور دیا کہ وہ ترمیم کو منسوخ کرے اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ آئندہ کسی بھی قومی، سیاسی پناہ اور پناہ گزین کی پالیسی سے متعلق امتیازی سلوک نہ کرے۔

ہیومن رائٹس واچ

مزید :

صفحہ آخر -