کرونا سے مزید 5افراد جاں بحق، کراچی، لاہور کے کئی علاقے سیل،امریکی تاریخ میں پہلی بار تمام ریاستیں آفت زدہ قرار ایران، سپین نے لاک ڈاؤ ن میں نرمی کر دی

کرونا سے مزید 5افراد جاں بحق، کراچی، لاہور کے کئی علاقے سیل،امریکی تاریخ میں ...

  

لاہور، کراچی، پشاور،اسلام آباد (جنرل،سٹاف رپورٹر ز، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)ملک بھر میں اتوار کو کرونا سے مزید 5 افراد جاں بحق ہوگئے جس کے بعد ہلاکتیں 91 اور متاثرہ مریضوں کی تعداد 5232 ہو گئی۔خیبرپختونخوا میں 3 اور سندھ میں 2 افراد مہلک وائرس کے باعث جان کی بازی ہارگئے،جبکہ ملک بھر میں 196 نئے کیسز رپورٹ ہوئے اتوار کو ملک میں مہلک وائرس سے خیبرپختونخوا اور سندھ میں ہلاکتیں ریکارڈ ہوئیں۔خیبرپختونخوا کی وزارت صحت نے گزشتہ 24 گھنٹوں میں مزید 3 افراد کی مہلک وائرس سے انتقال کی تصدیق کی۔ وزارت صحت کے مطابق صوبے میں ہلاکتیں مردان، پشاور اور صوابی میں ہوئیں جن کی عمریں 80، 65 اور 52 سال تھیں جبکہ تمام افراد کی تبلیغی جماعت کے ساتھ کی ٹریول ہسٹری موجود ہے۔صوبائی محکمہ صحت نے بتایا کہ مزید 3 افراد کی ہلاکت کے بعد صوبے بھر میں اموات کی مجموعی تعداد 34 تک جاپہنچی ہے۔صوبہ سندھ میں گزشتہ روز مزید 2 افراد جاں بحق ہوئے جس کے بعد صوبے میں ہلاکتوں کی تعداد 30 تک جاپہنچی ہے۔ملک میں کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 91 ہوگئی ہے جن میں سے خیبرپختونخوا میں 34، سندھ میں 30 اور پنجاب میں 21 اموات رپورٹ ہو چکی ہیں۔اس کے علاوہ گلگت بلتستان میں 3، بلوچستان 2 اور اسلام ا?باد میں ایک ہلاکت ہوئی ہے۔اتوار کو 196 نئے کیسز رپورٹ ہو ئے ہیں جن میں سے سندھ میں 93، خیبرپختونخوا میں 47، پنجاب میں 39، گلگت بلتستان میں 8، ٓزاد کشمیر میں 6، بلوچستان میں 2 اور اسلام آباد میں ایک کیس سامنے آیا۔نئے کیسز سامنے آنے کے بعد ملک میں متاثرہ افراد کی تعداد 5232 ہو گئی ہے۔ سندھ میں کرونا وائرس کے باعث مزید دو افراد جان کی بازی ہار گئے جس کے بعد صوبے میں جاں بحق افراد کی تعداد 30 ہو گئی ہے جب کہ مزید 93 افراد کے کورونا ٹیسٹ مثبت آئے ہیں جس کے بعد صوبے میں متاثرہ افراد کی تعداد 1411 ہو گئی ہے۔وزیراعلیٰ سندھ کے مشیر مرتضیٰ وہاب کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں 2 ہلاکتوں اور 93 کیسز کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا گیا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 18 افراد صحتیاب ہو کر گھروں کو بھی جا چکے ہیں۔ مرتضیٰ وہاب نے بتایا کہ اب تک 389 افراد صحت یاب ہو کر اپنے گھروں کو جا چکے ہیں۔پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر ڈپارٹمنٹ پنجاب کی جانب سے جاری بیان کے مطابق صوبے میں مزید 39 افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جس کے بعد متاثرہ مریضوں کی مجموعی تعداد 2464 ہو گئی ہے۔دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے اپنے سوشل میڈیا بیان کے ذریعے بتایا کہ جہاں پاکستان کورونا وائرس کے خلاف جنگ میں مصروف ہے وہیں ڈی جی خان سے ایک اچھی خبر بھی ہے۔عثمان بزدار نے بتایا کہ 775 زائرین بشمول 175 وہ جن کے ابتدائی ٹیسٹ مثبت آئے تھے مکمل طور پر صحت یاب ہو کر اپنے گھروں کو جا چکے ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ ڈی جی خان قرنطینہ مرکز میں صرف 74 زائرین باقی رہ گئے ہیں جن کا ہر طرح سے خیال رکھا جا رہا ہے۔اس کے علاوہ پنجاب کے دیگر شہروں میں بھی کورونا وائرس سے متاثرہ 39 افراد صحت یاب ہو چکے ہیں۔آزاد کشمیر میں گزشتہ روزکورونا وائرس کے مزید 6 کیسز سامنے آئے جس کے بعد متاثرہ مریضوں کی تعداد 40 ہو گئی ہے۔گزشتہ روز بھی آزاد کشمیر میں ایک 4 سال کی بچی میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی تھی جس کی تصدیق وزیر صحت نے کی تھی۔خیبرپختونخوا کی وزارت صحت نے گزشتہ 24 گھنٹوں میں مزید 47 مریضوں کی تصدیق ہوئی جس کے بعد متاثرہ مریضوں کی تعداد 744 تک پہنچ چکی ہے۔صوبائی محکمہ صحت نے بتایا کہ صوبے میں مزید 3 افراد صحتیاب ہوچکے ہیں جس کے بعد مہلک وائرس سے جنگ جیتنے والے افراد کی تعداد 145 ہوچکی ہے۔بلوچستان میں بھیمزید 2 نئے کیسز سامنے آئے جس کے بعد صوبے میں کیسز کی مجموعی تعداد 230 ہوگئی ہے۔ترجمان صوبائی حکومت لیاقت شاہوانی نے بتایا کہ نئے کیسز کی تصدیق کے بعد مقامی سطح پر کورونا سے متاثرہ افراد کی تعداد 82 ہوگئی۔وفاقی دارالحکومت میں اتوار کے روز ایک نیا کیس رپورٹ ہوا ہے جس کے بعد اسلام آباد میں وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 119 ہو گئی ہے۔ گلگت بلتستان میں اتوار کو مزید 8 کیسز سامنےٓئے جس کے بعد علاقے میں کیسز کی مجموعی تعداد 224 ہو گئی ہے۔سندھ حکومت نے لاک ڈاؤن میں توسیع اورنرمی سے متعلق الگ الگ سفارشات تیار کرلی ہیں۔وزیر اعلی ہاؤس کراچی کے ذرائع کے مطابق طبی ماہرین اور نجی و سرکاری شعبے کے ماہرین صحت لاک ڈاؤن سخت کرنے اور صنعتکار، کراچی چیمبر اور اسمال ٹریڈرز لاک ڈاؤن ختم کرنے کیلیے سندھ حکومت پر مسلسل دباؤ ڈال رہے ہیں۔ جس کے باعث صوبائی حکومت کے لیے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہورہا ہے کہ معیشت کو بچایا جائے یا انسانی جانیں۔طبی ماہرین کے مطابق سندھ میں کورونا کیسز کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے اور اگرلاک ڈاؤن نہ بڑھایاتو کورونا کا پھیلاؤ روکنا مشکل ہوگا، کورونا پھیل گیا تو طبی سہولیات کم پڑجائیں گی۔ اس کے علاوہ میئر کراچی وسیم اختر نے بھی لاک ڈاؤن میں توسیع اور راشن کی تقسیم کو منظم کرنے کی تجویز دی ہے۔وزیر اعلی ہاؤس کے ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے بھی لاک ڈاؤن میں توسیع کی تجویز نہیں۔ وفاقی حکومت نے لاک ڈاؤن کی حمایت نہیں کی تو سندھ حکومت پابندیاں نرم کرے گی، سندھ حکومت نے لاک ڈاؤن میں توسیع اورنرمی سے متعلق الگ الگ سفارشات تیار کرلیں، جن پرغور اور حتمی فیصلہ کابینہ کے اجلاس میں ہوگا،اس سلسلے میں 13 اپریل کو صوبائی کابینہ کا اجلاس ہوسکتا ہے۔دوسری جانب وزیر اعلی سندھ مرادعلی شاہ نے وزیر اعلی بلوچستان جام کمال سے ٹیلی فون پر موجودہ صورت حال پر تبادلہ خیال کیا۔ وزیر اعلی سندھ نے کہا کہ کورونا سے مقابلے کا واحد حل سخت لاک ڈان ہے، مستحقین تک راشن پہنچانے کے نظام کو مزید بہتر بنایا جا سکتا ہے۔کراچی میں کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے متاثرہ یوسیز کے متاثرہ علاقوں کو سیل کرنے کے معاملے پر مختلف مقامات پر ٹرک اور کنٹینرز لگا کر راستے سیل کر دیئے گئے ہیں۔کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے متاثرہ یوسیز کو جزوی طور پر مکمل سیل کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔جوہر موڑ، جوہر چورنگی، راشد منہاس روڈ کو بھی مختلف مقامات پر رکاوٹیں کھڑی کر کے بند کر دیا گیا ہے۔گلستانِ جوہر کے مختلف بلاکس کی تمام گلیاں ٹرک اور کنٹینر لگا کر سیل کردی گئی ہیں، ڈالمیا کے اطراف کے بھی تمام روڈ مکمل بند ہیں۔پہلوان گوٹھ جانے اور آنے والے راستے بھی مکمل سیل کر دیئے گئے ہیں۔دریں اثناکورونا وائرس کے پیش نظر لاہور کے مزید 10 علاقے سیل کر دیئے گئیلاہور کی ضلعی انتظامیہ نے کورونا وائرس کے مشتبہ اور کنفرم مریض سامنے آنے کے بعد متاثرہ علاقے سیل کر دیئے۔ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے سیل کیے گئے علاقوں میں بیگم کوٹ شاہدرہ، رستم پارک گلشن راوی، مغل پورہ، ریلوے کالونی، ملتان روڈ نجی سوسائٹی، رحمٰن پورہ وحدت کالونی، چائنہ اسکیم گجرپورہ، اسمال انڈسٹری ہاؤسنگ سوسائٹی اور ڈیفنس بی کے علاقے شامل ہیں۔ترجمان پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ کیئرپنجاب کے مطابق ان علاقوں میں 66 افراد کورونا وائرس کا شکار ہوئے جب کہ لاہور میں کورونا وائرس کے 402 کنفرم مریض ہیں۔ڈپٹی کمشنر لاہور کے مطابق کورونا کیسز سامنے آنے کے بعد ان علاقوں کو سیل کیا گیا ہے جس کے بعد مجموعی طور پر شہر میں بند کیے گئے علاقوں کی تعداد 14 ہو گئی ہے۔

پاکستان ہلاکتیں

واشنگٹن، نیو یارک، ریاض، انقرہ،نئی دیلی، تہران (مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)امریکی ریاست ویومنگ وہ آخری ریاست بن چکی ہے جسے صدر ٹرمپ کی جانب سے آفت زدہ قرار دیا جا چکا ہے۔ اس کے تحت اب ریاستوں کے پاس کورونا وائرس کی عالمی وبا سے نمٹنے کے لیے وفاقی فنڈز بھی موجود ہوں گے۔امریکی ٹی وی کے مطابق ایسا امریکہ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ تمام ریاستوں کو آفت زدہ قرار دے دیا گیا ہو۔واشنگٹن ڈی سی، پوئرٹو ریکو اور گوام جیسی ریاستوں کو پہلے ہی آفت زدہ قرار دیا جا چکا ہے۔دوسری طرف کورونا وائرس نے دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے، دنیا بھر میں کورونا وائرس کے متاثرین اور ہلاکتوں میں اضافہ ہوا ہے اور اب تک وائرس سے کم از کم ایک لاکھ 10ہزار افراد ہلاک اور تقریباً 18لاکھ افراد متاثر ہو چکے ہیں۔کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتی جا رہی ہے اور اب تک تقریباً 18لاکھ افراد وائرس کی زد میں آ چکے ہیں جبکہ مرنے والوں کی تعداد بھی ایک لاکھ 10ہزار تک پہنچ گئی ہے۔سپین میں کورونا وائرس سے مرنے والوں کی تعداد میں کمی آئی تھی لیکن اب ایک مرتبہ پھر اس میں اضافہ ہوا ہے اور مزید 619اموات کے بعد ملک میں مرنے والوں کی مجموعی تعداد 16ہزار 972تک پہنچ چکی ہے۔گزشتہ روز اسپین میں 510اموات ہوئی تھیں جو گزشتہ دو ہفتوں کے دوران مرنے والوں کی سب سے کم تعداد تھی۔سپین میں گزشتہ 24گھنٹوں میں کم از کم 5ہزار افراد وائرس کا شکار ہوئے جس کے ساتھ ہی ملک میں وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد ایک لاکھ 66 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔امریکا دنیا بھر میں وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک بن گیا ہے اور جان ہوپکنز یورسٹی کے اعدادوشمار کے مطابق امریکا میں 20ہزار سے زائد اموات ہو چکی ہیں۔امریکا میں ناصرف دنیا بھر میں سب سے زیادہ اموات ہوئی ہیں بلکہ وائرس سے سب سے زیادہ 5لاکھ 30ہزار افراد بھی امریکا میں ہی متاثر ہوئے ہیں۔وائرس سے امریکی ریاست نیویارک سب سے زیادہ متاثرہ ہوئی ہے جہاں 24گھنٹوں میں مزید 783اموات ہو چکی ہیں جبکہ اب تک مجموعی طور پر ایک لاکھ 80ہزار افراد زد میں آ چکے ہیں۔برطانیہ میں 24گھنٹے میں مزید 917افراد ہلاک ہوئے جس سے مرنے والوں کی مجموعی تعداد 9ہزار 875 ہوگئی ہے۔اٹلی اور فرانس میں مرنے والوں کی تعداد میں نسبتاً کمی آئی ہے جبکہ آئی سی یو میں موجود مریضوں کی تعداد میں بھی کمی ہوئی ہے۔اٹلی میں اب تک 19ہزار 468افراد وائرس کی وجہ سے موت کے موت میں جا چکے ہیں جبکہ فرانس میں 13ہزار 832افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔نیدرلینڈز میں بھی وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 25ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔ملک میں ایک دن میں مزید 94افراد لقمہ اجل بن گئے ہیں جس کے ساتھ ہی وائرس سے ہلاک افراد کی تعداد 2ہزار 737 ہو گئی ہے۔نیدرلینڈز کے نیشنل انسٹیٹیوٹ فار ہیلتھ کے مطابق گزشتہ 24گھنٹوں کے دوران ایک ہزار 188 نئے کیسز رپورٹ ہونے کے بعد وائرس سے متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 25ہزار 587 ہو گئی ہے۔ادھرجہاں دنیا بھر کے عوام اس موقع پر احتیاط سے کام لے رہے ہیں ہانک کانگ کے عوام لاک ڈاؤن اور پابندیوں کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے ساحل سمندر اور سڑکوں پر گھومتے نظر آئے۔ہانک کانگ میں چار سے زائد افراد کے ایک جگہ جمع ہونے پر پابندی ہے لیکن اس کے باوجود ہجوم کی شکل میں عوام سڑکوں اور ساحل سمندر پر ساحل پر گھومتے ہوئے نظر آئے۔۔ادھر پرتگال کے کھلاڑیوں نے وائرس کے سبب کھیلوں کی سرگرمیاں بند ہونے اور معاشی بھران کے سبب اپنی 40فیصد تنخواہ کٹوانے کا اعلان کیا ہے۔دوسری جانب ایران میں بھی مستقل ہلاکتوں کا سلسلہ جاری ہے اور مزید 100 سے زائد افراد کی ہلاکت کے بعد مرنے والوں کی تعداد 4ہزار 474 ہو گئی ہیملائشیا میں بھی مزید 153نئے کیسز رپورٹ ہونے کے بعد وائرس کے متاثرین کی تعداد 4ہزار 683 ہو گئی ہے جبکہ ملک میں مزید تین اموات کے بعد ملک میں رنے والوں کی تعداد 76ہو گئی ہے۔فلپائن میں مرنے والے کی تعداد میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے اور ایک دن میں 50افراد لقمہ اجل بن گئے۔فلپائن میں اب تک کورونا وائرس سے 297 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ وزارت صحت کے مطابق ملک میں 220نئے کیسز کے بعد متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 4ہزار 648 ہو گئی ہے۔چین کے شمال مشرقی شہر ہاربن میں بیرون ملک سے آئے کیسز تیزی سے رپورٹ ہونے کے بعد 'ہاربن شہر' کو 28دن کے لیے قرنطینہ کردیا گیا ہے۔حکومت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ روس کی سرحد سے متصل شہر میں ابتدائی طور پر 14دن لاک ڈاؤن رہے گا جس کے بعد لوگوں کو مزید 14دن گھروں میں رہنا ہوگا۔ادھر چین کے دارالحکومت بیجنگ میں ایک عرصے کے بعد سینئر اسکول کو کھول دیا جائے گا۔سینئر ہائی اسکول کے طلبا 27اپریل سے اسکول جائیں گے جبکہ مڈل اسکول کے سینئر طلبہ 11مئی سے جا سکیں گے۔متحدہ عرب امارات میں کرونا وائرس کے کیسوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ 376 نئے کیسوں کی تصدیق ہوئی ہے اور ملک میں اب کل کیسوں کی تعداد 3736 ہوگئی ہیسعودی عرب میں گذشتہ 24 گھنٹے میں کرونا وائرس کا شکار پانچ افراد جان کی بازی ہار گئے۔سعودی وزارت صحت نے مزید 382 نئے کیسوں کی تصدیق کی ہے اور اب مملکت میں کل کیسوں کی تعداد 4033 ہوگئی ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق سعودی وزارتِ صحت نے ایک ٹویٹ میں بتایا کہ مکہ مکرمہ میں کرونا وائرس کے سب سے زیادہ کیس ریکارڈ کیے گئے ہیں۔ان کی تعداد 131 ہے۔اس کے بعد مدینہ منورہ میں 95، دارالحکومت الریاض میں 76 اور جدہ میں 50 کیسوں کی تصدیق کی گئی ہے۔الدمام میں 15، ینبع میں پانچ، سبت العلایہ اور الہفوف میں تین، تین نئے کیسوں کا اندراج کیا گیا ہے۔وزارت صحت کے مطابق سعودی عرب میں اب تک کرونا وائرس کا شکار 720 افراد تن درست ہوچکے ہیں سعودی بادشاہ شاہ سلمان نے سعودی عرب میں کیسز میں تیزی سے ہونے والے اضافے کے باعث کرفیو میں غیر معینہ مدت تک توسیع کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ کرونا وائرس کی وجہ سے ترکی کے بیشتر صوبوں میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ترک وزارت داخلہ نے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہاکہ ترکی کے تقریبا 31 صوبوں میں کورونا وائرس کے پھیلا ؤکو روکنے کے لیے کرفیو نافذ کیا گیا ہے اور اس دوران کسی بھی شخص کو باہر نکلنے کی اجازت نہیں ہو گی۔امریکی اقتصادی پابندیوں کے نتیجے میں تباہ حال معیشت کو سہارا دینے کی خاطر، ایران میں معاشی سرگرمیاں جزوی طور پر بحال کردی گئیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق دارالحکومت تہران کے علاوہ بیشتر صوبوں میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری ادارے کھل گئے اور سڑکوں پر خاصارش اورٹریفک یکھی گئی۔ عوام میں اس حکومتی فیصلے پر ملا جلا رد عمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ایران مشرق وسطی میں کورونا وائرس کی وبا سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے۔ وہاں اب تک ستر ہزار سے زیادہ افراد میں کووڈ انیس کی تشخیص ہو چکی ہے جبکہ ساڑھے چار ہزار کے قریب افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔کورونا وائرس کی وبا کے پھیلا ؤمیں واضح کمی نہ ہونے کی وجہ سے جہاں چند ممالک نے لاک ڈاؤن میں اضافہ کرنے سمیت اسے مزید سخت کرنے کا اعلان کیا ہے، وہیں کچھ ممالک نے اس میں نرمی کرنے کا اعلان کرکے سب کو حیران کردیا۔کورونا وائرس کے باعث لاک ڈان میں اضافہ کرنے والے ممالک میں پاکستان، بھارت اور سعودی عرب سمیت کئی ممالک شامل ہیں، تاہم اس میں نرمی کا فیصلہ کرنے والے ممالک میں وبا سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک اسپین بھی شامل ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق اسپین کی حکومت نے اعلان کیا کہ 13 اپریل سے ملک میں لاک ڈان میں نرمی کردی جائے گی جب کہ اس سے قبل ایران جیسے ملک نے بھی لاک ڈاؤن میں نرمی کا اعلان کیا تھا۔ عالمی ادارہ صحت کی جانب سے لاک ڈاؤن میں نرمی کرنے میں جلدی نہ کرنے کی ہدایات کے باوجود اسپین نے 13 اپریل سے کچھ نرمیوں کا اعلان کردیا

کرونا عالمی ہلاکتیں

مزید :

صفحہ اول -