امریکہ میں تجرباتی دوا”ریمڈیسی ور“ سے دوتہائی شدید بیمار صحت یاب

امریکہ میں تجرباتی دوا”ریمڈیسی ور“ سے دوتہائی شدید بیمار صحت یاب

  

واشنگٹن (اظہر زمان، بیورو چیف) کرونا وائرس کی روک تھام کیلئے ویکسین کی تیاری کیلئے انسانوں پر تجربات کا کام تیزی سے جاری ہے تاہم اس پر کم از کم ایک سال لگے گاجبکہ اس دوران ممکنہ علاج کیلئے بھی مسلسل تجربے ہو رہے ہیں۔ امریکی ریاست میساچیوسیٹس کے صدر مقام بوسٹن سے چھپنے والے جریدے کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق امریکہ، یورپ اور کینیڈا میں کرونا کے 53 مریضوں کو ”ریمڈیسی ور“ نامی دوا استعمال کرائی گئی۔ ان تمام مریضوں کو تنفس کی بحالی میں مدد کی ضرورت تھی جن میں سے آدھے ونٹی لیٹرز جبکہ چار مریض دل اور پھیپھڑوں کی بائی پاس مشین استعمال کر رہے تھے۔ تمام مریضوں کو یہ دوا دس دن کیلئے دی گئی جس کی ابھی باقاعدہ منظوری نہیں ہوئی لیکن ان کی زندگی بچانے کیلئے کوئی اور طریقہ نہیں تھا اس لئے انسانی ہمدردی کی بناء پر یہ استعمال کرائی گئی۔18 دن بعد 68فیصد مریض بہتر ہوگئے جس کا مطلب یہ ہوا کہ 30 میں سے 17 مریضوں کا وینٹی لیٹر ہٹا دیا گیا۔ آخر میں تقریباً آدھے مریض شفایاب ہو کر گھر چلے گئے۔ یہ دوا لاس اینجلس میں واقع ایک کمپنی نے فراہم کی ہے جس سے تعلق رکھنے والے اس رپورٹ کے مشترک نصف جوناتھن گرن نے لکھا ہے کہ ابھی ہم اس سے کوئی حتمی نتیجہ نہیں نکال سکتے لیکن یہ تجربات یقیناً حوصلہ افزا ہیں۔ یاد رہے کہ ”ریمڈیسی ور“ سمیت مختلف ادویات اور طریقوں پر وسیع پیمانے پر تجربات کا سلسلہ جاری ہے۔ ان میں ملیریا کیلئے استعمال ہونے والی دوا ”ہائیڈرو کسی کلوروکوئین“ کے علاوہ صحت یافتہ مریضوں کے خون سے حاصل کردہ پلازما شامل ہے۔ صدر ٹرمپ ”ہائیڈروکسی کلورو کوئین“ سے بہت امیدیں وابستہ کئے ہوئے ہیں جس کے تجربات کے نتائج کا انتظار کیا جارہا ہے۔

نئی دوا

مزید :

صفحہ اول -