رواں برس پاکستان شرح نمو 1952ء کے بعد پہلی بار منفی رہے گی، عالمی بینک، قرضوں میں ریلیف دیا جائے، عمران خان کا اقوام متحدہ سے مطالبہ

  رواں برس پاکستان شرح نمو 1952ء کے بعد پہلی بار منفی رہے گی، عالمی بینک، قرضوں ...

  

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) وزیراعظم عمران خان نے اپنے ایک ویڈیوپیغام میں سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ انتونیو گوتریس اور ترقی یافتہ سے اپیل کی ہے کرونا وائرس پوری دنیا کے لیے چیلنج ہے۔ ترقی پذیر ممالک کے پاس وسائل کم، بھوک اور بیماری سے لڑنے کیلئے پیسہ نہیں ہے اس لئے انہیں قرضون مین ریلیف دیا جائے تاکہ وہ کرونا کیخلاف موثر طریقے سے لر سکین انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں عالمی ادارے اور رہنما صورتحال سے نمٹنے کے لیے لائحہ عمل تشکیل دیں۔وزیراعظم عمران خان کا اپنے ویڈیو پیغام میں کہنا تھا کہ میں عالمی برادری سے کورونا وائرس کے چیلنجز سے متعلق بات کرنا چاہتا ہوں۔ ترقی پذیر ممالک میں کورونا وائرس کے علاوہ معیشت اور بھوک بڑے مسائل ہیں۔ ان ملکوں کو فکر ہے کہ عوام وبا کے علاوہ بھوک سے نہ مریں۔ دوسری جانب ترقی یافتہ ممالک لاک ڈاؤن کے ساتھ معاشی اثرات سے بھی نمٹ رہے ہیں۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ترقی پذیر ممالک اپنے لوگوں کو وبا کیساتھ ساتھ بھوک سے بھی بچا رہے ہیں۔ ہمارے پاس لوگوں کو بھوک سے موثر طور پر بچانے کے لیے وسائل کم ہیں۔ عالمی ادارے اور رہنما صورتحال سے نکلنے کے لیے پروگرام تشکیل دیں۔ان کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس سے متعلق ترقی یافتہ ملکوں کا مختلف ردعمل ہے۔ امریکا نے اپنے عوام کے لیے 2.2 ٹریلین ڈالر کا پیکج دیا جبکہ ترقی پذیر ملکوں کے پاس وسائل کی کمی ہے۔ ہمارے پاس اتنے وسائل نہیں کہ صحت پر زیادہ خرچ کر سکیں۔انہوں نے کہا کہ جاپان اپنے عوام کے لیے ایک ٹریلین ڈالر اور جرمنی یک ٹریلین یورو کا پیکج خرچ کر رہا ہے۔ پاکستان 22 کروڑ لوگوں کا ملک ہے لیکن ہم صرف 8 ارب ڈالر خرچ کر رہے ہیں۔ جو مسئلہ پاکستان کے ساتھ ہے، دنیا کے اکثر ترقی پذیر ملکوں کو درپیش ہے۔ سیکرٹری جنرل یو این اور معاشی ادارے ترقی پذیر ملکوں کو قرض پر ریلیف دیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان سمیت ترقی پذیر ممالک کورونا سے نمٹنے میں مصروف ہیں، اس لیے ان کے قرضے ری شیڈول کیے جائیں کیونکہ ترقی پذیرممالک کی استطاعت نہیں کہ قرض کی ادائیگی اور کورونا کا مقابلہ ایک ساتھ کریں۔خیال رہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے لاک ڈاؤن جاری ہے جس کے باعث معاشی سرگرمیاں بھی مانند پڑگئی ہیں دریں اثنا وزیراعظم کی رہائشگاہ بنی گالہ میں ہونے والی ملاقات میں مشیر خزانہ نے انھیں تاجروں کے لئے حکومت کے اقتصادی پیکج سے متعلق بتایا۔ جاری اعلامیہ کے مطابق مشیر خزانہ حفیظ شیخ کی بنی گالہ سیکرٹریٹ میں وزیراعظم سے ملاقات ہوئی۔ملاقات میں کورونا وائرس کی موجودہ صورتحال اور ملکی معیشت کا جائزہ لیا گیا۔ مشیر خزانہ نے وزیراعظم کو موجودہ صورتحال میں معاشی اعدادو شمار اور مختلف پیکجز پر بھی بریفنگ دی۔وزیراعظم کو حکومت کی جانب سے کاروباری کمیونٹی،ایس ایم ایز اور عوام کو دی جانے والی مراعات اور ریلیف پیکجز سے متعلق عمل درآمد پر بھی بتایا گیا جبکہ احساس کیشن ٹرانسفر پروگرام پر بھی بریفنگ دی گئی۔مشیر خزانہ نے وزیراعظم عمران خان کو تاجروں کے لئے حکومت کے اقتصادی پیکج سے متعلق بھی بتایا۔ پیکج میں موجودہ قرضوں کی موخر ادائیگی اور آسان شرائط پر نئے قرضوں کی فراہمی شامل ہے۔ ملک بھر میں کورونا کی تشخیص کے لیے بہت کم تعداد میں ٹیسٹ ہونے پر رپورٹ وزیراعظم عمران خان کو پیش کردی گئی۔ذرائع کے مطابق نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) اور محکمہ صحت کی جانب سے رپورٹ وزیراعظم عمران خان کو رپورٹ پیش کی گئی ہے جس میں بیالوجیکل ماہرین کی عدم دستیابی ٹیسٹ نہ ہونے کی وجہ قرار دی گئی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ این ڈی ایم اے اور این آئی ایچ ٹیسٹنگ کی استعداد بڑھانے کیلئے متحرک ہیں، ٹیسٹنگ کٹس چاروں صوبوں کے محکمہ صحت کو فراہم کردی گئی ہیں ساتھ ہی پرائیویٹ اور سرکاری لیبارٹریز میں عملے کو خصوصی ٹریننگ دینے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ پاکستان میں کورونا ٹیسٹنگ کی صلاحیت 16 ہزار یومیہ تک پہنچ چکی ہے اور آئندہ چند دنوں میں ٹیسٹنگ کی صلاحیت 25 ہزار یومیہ ہوگی مگر عملہ نہ ہونے کی وجہ سے صرف 2 ہزار سے 2200 ٹیسٹ یومیہ ہو رہے ہیں

وزیر اعظم اپیل

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) عالمی بینک نے پاکستان کی معیشت پر خدشات کا اظہار کرتے ہوئے رپورٹ میں کہا ہے کہ ملکی مجموعی قومی پیداوار 1952 کے بعد پہلی مرتبہ منفی ہونے کا خدشہ ہے۔عالمی بینک نے کورونا وائرس کے باعث پاکستان کی معیشت پر پڑنے والے اثرات کاجائزہ لیتے ہوئے رسک رپورٹ جاری کردی ہے جس میں پاکستان کے لیے معاشی خطرات ظاہر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار 1952 کے بعد پہلی مرتبہ منفی ہونے کا خدشہ ہے اور پاکستان کی معیشت مزید دو سال تک دباؤ کا شکار رہے گی۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ رواں مالی سال پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار کی شرح نمو منفی 1.3 فیصد تک کم ہوسکتی ہے، پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار اس سے قبل 1952 میں تاریخ کی کم ترین سطح منفی 1.80 فیصد رہی تھی۔رپورٹ کے مطابق کورونا وائرس کا پھیلاؤ پاکستان کی معیشت کے لیے خطرات بڑھائے گا،، آئندہ مالی سال مجموعی قومی پیداوار میں ایک فیصد تک اضافہ ہوگا، آئندہ مالی سال میں ترقی کی شرح اعشاریہ 9 فیصد ہونے کا امکان ہے اور کورونا وائرس کے باعث پاکستان کا بجٹ خسارہ 8.7 سے 9.5 تک پہنچا سکتا ہے اور پاکستان کی معیشت میں قرضوں کا حجم بڑھ سکتا ہے، جس کی وجہ سے پاکستان کے لیے بیرونی ادائیگیوں کا دباؤ بڑھ سکتا ہے اور پاکستان کو دوست ملکوں چین، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے قرضے واپس کرنے میں مشکلات پیش آئیں گی۔عالمی بینک کاکہنا ہے کہ کورونا وائرس کی وجہ سے پاکستان میں سرمایہ کاری کا حجم کم ہوسکتا ہے، سرمایہ کاری کا حجم کم ہونے سے ڈالر کی قدر بڑھے گی، ڈالر کی قدر بڑھنے سے پاکستان کا ایکسچینج ریٹ دباؤ میں آجائے گا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومتِ پاکستان کی اولین ترجیح کم آمدنی والے طبقے کا ریلیف ہونا چاہیئے، حکومت پاکستان اصلاحات کے ذریعے سرمایہ کاروں کے لیے پرکشش بن سکتا ہے۔ورلڈ بینک کا کہنا ہے کہ بھارت سمیت جنوبی ایشیاء کے آٹھوں ملکوں میں شرح ترقی40سال کی بدترین پستی پرجانے کاامکان ہے۔رلڈ بینک نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ بھارت کی شرح ترقی ایک اعشاریہ پانچ فیصد سے دو اعشاریہ آٹھ فیصد رہنے کی توقع ہے۔ کورونا وائرس کی وبا سے پہلے بھارت کی شرح ترقی 4 اعشاریہ 8 فیصد سے 5 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی گئی تھی۔ورلڈبینک کی رپورٹ کے مطابق پاکستان، افغانستان اور مالدیپ میں معاشی بحران پیدا ہو سکتا ہے، جبکہ سری لنکا، نیپال، بھوٹان اور بنگلہ دیش کی شرح ترقی میں بڑی کمی ہوگی۔ طویل لاک ڈان کی صورت میں پورے خطے کی معیشت سکڑ سکتی ہے اس لئے خطے کے ملک بیروزگاروں، کاروبار کے لیے مزید مالیاتی اقدامات کا اعلان کریں۔ ورلڈ بینک کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنوبی ایشیا پر اس کے منفی اثرات بڑھتے جارہے ہیں،سیاحتی سرگرمیاں معطل ہیں،زرائع ترسیلات متاثر ہوئے ہیں جبکہ گارمنٹس کی طلب میں کمی واقع ہوئی ہے اور صارفین اور سرمایہ کاروں کونقصان پہنچا ہے۔

عالمی بنک

مزید :

صفحہ اول -