پنجاب میں 130،کے پی کے میں صرف 55وینٹی لیٹرز کا انکشاف

پنجاب میں 130،کے پی کے میں صرف 55وینٹی لیٹرز کا انکشاف

  

اسلام آباد (ماینٹرنگ ڈیسک)پاکستان کے سب سے زیادہ آبادی والے صوبہ پنجاب کے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز ہسپتالوں میں صرف 130 وینٹی لیٹرز ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔کرونا ازخود نوٹس کیس میں پنجاب حکومت نے رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرادی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز ہسپتالوں میں صرف 130 وینٹی لیٹرز ہیں، مزید 100 وینٹی لیٹرز جلد پہنچ جائیں گے جبکہ تمام ہسپتالوں میں او پی ڈیز فعال ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ صوبے میں 7 لیبارٹریز کی روزانہ 3100 ٹیسٹ کرنے کی صلاحیت ہے، راولپنڈی، بہاولپور، وزیرآباد، فیصل آباد اور ڈی جی خان میں بھی لیبارٹریاں قائم کی جا رہی ہیں۔ جیلوں میں آنے والے نئے قیدیوں کو 2 ہفتے قرنطینہ میں رکھا جاتا ہے جبکہ تمام ڈپٹی کمشنرز کو سب جیل کیلئے مناسب جگہ کے تعین کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ صوبے بھر کے جیل ہسپتالوں میں آئسولیشن وارڈز بنا دئیے۔ احساس پروگرام کے ذریعے کرونا کے باعث بیروزگار ہونے والوں کو امداد دی جارہی ہے۔دوسری جانب خیبرپختونخوا حکومت کی رپورٹ میں صوبے بھرکے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرزہسپتالوں میں صرف 55 وینٹی لیٹرز کا انکشاف ہوا ہے۔رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا میں 1225 افراد کیلئے قرنطینہ سینٹرز بنائے گئے ہیں۔ صوبے میں ہر فرد کیلئے الگ کمرے اور واش روم کی سہولت کیساتھ 300 کمرے موجود ہیں جبکہ قرنطینہ سینٹرز میں 50 کے وی کے جنریٹرز بھی رکھے گئے ہیں۔ طور خم بارڈر سے قرنطینہ سینٹرز تک پاکستانی شہریوں کی آمدورفت پروٹوکول والی گاڑیوں میں کی جارہی ہے۔ صوبے بھر کی لیبارٹریز میں روزانہ کی بنیاد پر 734 ٹیسٹ کیے جاتے ہیں جبکہ مزید 4 لیبارٹریز بناکر روزانہ کی بنیاد پر ٹیسٹ کی تعداد کو 2000 تک لے جایا جائے گا۔ وفاقی حکومت نے بھی ازخود نوٹس پر اپنا جواب جمع کرادیا ہے جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ کرونا وائرس سے بچاؤ کے اقدامات کیے جا رہے ہیں اور مہلک وائرس سے تحفظ کیلئے متفقہ فیصلے اور اقدامات کیے گئے ہیں۔

وینٹی لیٹرز

مزید :

صفحہ اول -