والدین بچوں کو کرونا سے محفوظ رکھنے کیلئے گھروں میں رکھیں: ڈاکٹر ناصر رانا

والدین بچوں کو کرونا سے محفوظ رکھنے کیلئے گھروں میں رکھیں: ڈاکٹر ناصر رانا

  

لاہور(جنرل رپورٹر) بچوں کے ممتاز معالج اور چلڈرن ہسپتال کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر ناصر رانا نے کہا ہے کہ کرونا کی اس وبا سے بچوں کو محفوظ اور صحت مند رکھنے کے لئے گھروں سے باہر نہ نکلنے دیں۔ معمولی نزلہ زکام، کھانسی اور بخار پر کرونا کا ٹیسٹ کروانے نہ دوڑ پڑیں۔ بچوں کی صحت و صفائی کا خاص خیال رکھیں۔ بچوں کو وقت پر جگائیں اور ڈائٹ و ورزش کا خاص خیال رکھیں۔ کمسن بچوں کی صحت کے لئے دو سال تک ماں کا دودھ انتہائی ضروری ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ”پاکستان“ سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کرونا کی اس وبا میں معمولی کھانسی، بخار یا نزلہ زکام ہونے پر والدین نفسیاتی طور پر پریشان نہ ہوں۔ اس پر فوری طورپر کرونا کے ٹیسٹ کروانے کے لئے نہ دوڑ پڑیں۔ انہوں نے کہا کہ کرونا وائرس کی علامات کے لئے ٹریولنگ ہسٹری یا کرونا کی علامات کا ہونا ضروری ہے اور اگر والدین میں ٹریولنگ ہسٹری کے دوران کرونا علامات پائی گئی ہیں تو بچے کا ٹیسٹ کروائیں وگرنہ پریشان نہ ہوں۔ والدین گھروں میں واپس آنے پر کپڑے تبدیل کردیں اور ہینڈ سینی ٹائزر کا استعمال کریں۔ اس میں دیکھنے کی یہ بات ہے کہ کہیں بچے کی والدہ کی ٹریولنگ ہسٹری تو نہیں ہے۔ اگر ایسی صورتحال نہیں تو والدین ہرگز پریشان نہ ہوں اور موسمی بیماریوں کھانسی نزلہ زکان کا علاج کروائیں۔ ان تینوں علامتوں سے بچوں کو بخار ہو جاتا ہے جس سے معمولی کھانسی بھی ہونے پر ہم سمجھتے ہیں کہ بچے کرونا ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ کرونا سب سے زیادہ بوڑھے افراد اور دل، پھیپھڑوں اور شوگر کے پرانے مریضوں کو زیادہ متاثر کر سکتا ہے۔ اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ ان مریضوں سے والدین بچوں کو دور رکھیں۔ والدین بچوں کی خود حفاظت کریں۔ کھانسی نزلہ زکان اور معمولی بخار پر نفسیاتی مریض بننے اور پریشان ہونے کے بجائے ڈاکٹرز کو چیک کرائیں اور اس کا فوری طو رپر کرونا ٹیسٹ کروانے کے لئے ہسپتالوں کا رخ نہ کریں۔ بچوں کی حفاظت، صحت و صفائی کی اچھے طریقے سے دیکھ بھال ہی کرونا سمیت تمام موسمی بیماریوں سے بچوں کو بچایا جا سکتا ہے جس کے لئے والدین کو خود اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -