ڈی ایچ ایس کا اہم اجلاس، بارڈر پر پھنسے پاکستانیوں کی واپسی کیلئے لائحہ عمل طے

ڈی ایچ ایس کا اہم اجلاس، بارڈر پر پھنسے پاکستانیوں کی واپسی کیلئے لائحہ عمل ...

  

خیبر (بیورو رپورٹ)ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز کی قیادت میں ایک اہم اجلاس ہوا۔جس میں افغانستان سے طورخم کے راستے پھنسے پاکستانیوں کو لانے کے لئے سٹریٹیجی بنائی گئی۔اجلاس میں متعدد محکموں کے ذمہ داروں نے شرکت کی۔ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز نیاز افریدی کے علا وہ اسسٹنٹ کمشنر لنڈ ی کو تل محمد عمران خان، خیبر پختون خواہ سرحدات کے داخلی پوائنٹس کے فوکل پرسن ڈاکٹر قاسم افریدی،ضلعی ہیڈ کوارٹر اسپتال لنڈ ی وک تل کے ایم ایس نیک داد افریدی، ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر لنڈ ی کو تل شمس الاسلام، سرکل پولیس افیسر، پبلک ہیلتھ اور شہری دفاع کے حکام نے بھی شرکت کی۔اس موقع پر ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز نیاز افریدی نے کہا کہ حکومت پاکستان، افغانستان میں پھنسے پاکستانیوں کو لانے میں سنجیدہ ہے جس کے لئے اٹھانے جانے والے اقدامات کو جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ تمام تر سہولیات کا معائنہ لیا جا سکے انہوں نے کہا کہ اجلاس کا مقصد قرنطین سنٹروں کو مہیا کئے گئے سہولیات اور عملہ کا صورتحال معلوم کرنے کے لئے ایک طائرانہ جائزہ لینا ہے تاکہ انے والوں کے لئے ایک بہترین انتظام مرتب کیا جائے انہوں نے مزید کہا کہ اس موزی وائرس سے بچنے کے لئے پھنسے پاکستانیوں کو لانے کے دوران احتیاطی تدابیر اور اقدمات پر بہت زور دیا جائے گا تاکہ علاقے میں مزید یہ وائرس پھیل نہ جائے۔اجلاس میں ڈائریکٹر نے کہا کہ عملہ کی کمی کے باوجود تما قرنطین سنٹروں میں ہیلتھ سٹاف کو تعینات کیا گیا ہے تاکہ وہاں پر کسی قسم کا مسئلہ نہ ہو ا اور مشتبہ مریضوں کو مناسب طریقے سے ڈیل کیا جا سکے۔فوکل پرسن ڈاکٹر قاسم افریدی نے کہا کہ انٹری منصوبے کے مطابق طورخم کے راستے پاکستانیوں کو مرحلہ وار لا یا جا ئے گا اور ہر مرحلہ میں ایک ایک ہزار لوگ شامل ہو ں گے انہوں نے کہا کہ قرنطین سنٹروں میں افغانستان سے ہر انے والے سے ٹسٹ کے لئے نمونے لئے جائیں گے ریزلٹ انے کے بعد فیصلہ کیا جائے گا کہ انہیں کہاں رکھنا ہوں گے یہ فیصلہ ریزلٹ کی بنیا دپر کیا جا ئے گا۔ اے سی لنڈ ی کو تل محمد عمران نے اس موقع پر اس پورے عمل کی سٹریٹیجک منصوبے سے اگاہ کیا اور پورے لائحہ عمل کا جائزہ پیش کیا اخر میں اجلاس کے شرکاء نے قرنطین سنٹروں کا دورہ بھی کیا انتظامیہ معلومات کے مطابق اب تک 787مشتبہ مریضوں کو قرنطین سنٹروں کو بھیجے جا چکے ہیں۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -