ٹانک‘ تحصیلداروں کی غیر قانونی تقرری پر اختلافات پیدا ہو گئے

      ٹانک‘ تحصیلداروں کی غیر قانونی تقرری پر اختلافات پیدا ہو گئے

  

ٹانک(نمائندہ خصوصی)ممبر قومی اسمبلی اور ڈپٹی کمیشنر جنوبی وزیرستان کے مابین ریٹایرڈ نائب تحصیل داروں کی غیر قانونی انتطامی پوسٹ پر برقرار رکھنے کے باعث شدید اختلافات پیدا ھوگئے تفصیلات کے مطابق جنوبی وزیرستان تحصیل سراروغہ کے نائب تحصیل دار فضل الر حمان گنڈہ پور 5فروری 2020 کو 60سالہ کی عمر پوری ھونے کے بعد پنشن پر جاکر ریٹائرڈ ھوگئے ہے جبکہ تحصیلدار طفیل آرائیں جوکہ اس وقت پشاور میں ٹریننگ میں بھی مصروف ہے جبکہ دوسری جانب جنوبی وزیرستان انتظامیہ میں اکاونٹنٹ اور راشننگ اسسٹنٹ دو کماو پوسٹوں پر براجمان ہے، اس سلسلے میں مقامی قبائلیوں کی شکایات پر گذشتہ روز ممبر قومی اسمبلی مولانا جمال الدین نے ڈپٹی کمیشنر حمیداللہ خٹک سے ان کے دفتر میں ملاقات کی اور کہا کہ اپ نے کہ ایک ریٹائرڈ نائب تحصیل دار فضل گنڈہ پور اور طفیل آرائیں کو کس قانون کے تحت جنوبی وزیرستان کے لوگوں پر مسلط کیا ہے اس کو فوری طور پر ضلعی انتظامیہ کے کمپاؤنڈ سے نکالا جائے جس پر ڈی سی حمید اللہ خٹک نے ایم این اے جمال الدین کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ مذکورہ دو افراد نے جنوبی وزیرستان کے عوام کیلئے بہت زیادہ خدمات سرانجام دیئے ہیں اس لئے اس کو یہاں رکھنا ضروری ہے جس پر ایم این اے نے ڈی سی کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ ان دونوں تحصیلداروں نے عوام کی خدمت نہیں کی بلکہ ان کا خون چوسا ہے اور لوگوں کوگالیاں دے کر عوام کی زندگی اجیرن بنا ڈالی ہے ڈی سی کے انکار کیبعد مولانا جمال الدین نے ڈی پر واضح کیا کہ آپ کے غیر قانونی کام اور اختیارات کی ناجائز استعمال سے متعلق قومی اسمبلی کے فورم پر اٹھا کر تحریک استحکاک جمع کرونگا اسکے بعد ممبر قومی اسمبلی غصے کی عالم میں ڈی سی کے آفس سے نکل گئے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -