ضلع ملاکنڈ کی تمام سیاسی جماعتوں کا اجلاس‘ عوامی مسائل پر بحث

ضلع ملاکنڈ کی تمام سیاسی جماعتوں کا اجلاس‘ عوامی مسائل پر بحث

  

سخاکوٹ(نمائندہ پاکستان) ضلع ملاکنڈ کے تمام سیاسی جماعتوں کے ضلعی اور تحصیل صدور اور جنرل سیکرٹریز،سابقہ اراکین پارلیمنٹ، تاجر برادری، صحا فیو ں،بار ا یسو سی ایشن اوردیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے مشران کی آل پارٹیز کانفرنس بدرگہ میں سابق ایم پی اے سید محمد علی شاہ باچہ کے رہائش گاہ پر پی پی پی کے ضلعی صدر سید احمد علی شاہ کے زیر صدارت منعقد ہوا جس کے دوران کرونا وائرس او رلاک ڈاؤن کی وجہ سے ضلع ملاکنڈ کے عوام کو درپیش مسائل اور حکومت کے ناقص اقدامات پر تفصیلی بحث کی گئی۔ کانفرنس سے جمعیت علماء اسلام کے سابقہ سینیٹر صاحبزادہ خالد جان، پی پی پی کے ضلعی صدر سید احمد علی شاہ باچہ، جنرل سیکرٹری صدیق خان،جماعت اسلامی کے سابقہ امیدوار مولانا جمال الدین،حاجی رضوان اللہ،عوامی نیشنل پارٹی کے ضلعی جنرل سیکرٹری محمد ارشاد خان مہمند،سابق تحصیل ناظم شفیع اللہ خان، جمعیت علماء اسلام کے ضلعی امیر مفتی کفایت اللہ، جنرل سیکرٹری مولانا سلمان تاثیر خان،مسلم لیگ کے صوبائی نائب صدر حاجی محمد ایصال خان، ضلعی جنرل سیکرٹری گل زمان خان، قومی وطن پارٹی کے سیال احمد ایڈوکیٹ، متحدہ ٹریڈ یونین سخاکوٹ کے صدر حمید خان لالا درگئی بازار کے جنرل سیکرٹری غلام حسن، گرینڈ اصلاحی جرگہ ملاکنڈ کے صدرحاجی اکرم خان، درگئی بار ایسو سی ایشن کے صدر محمد ریاض ایڈوکیٹ، محمد رازق ایڈوکیٹ، محمد یونس اور ظاہر شاہ خان نے خطاب کیا۔مقررین نے کہا کہ ضلع ملاکنڈ میں کرونا وائرس سے متعلق حکومتی اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں اور حکومت احساس پروگرام میں ناموں کا اندراج، زکواۃ کی رقم اور سرکاری ریٹ پرآٹا کی فراہمی خالصتاً سیاسی بنیادوں پر کر رہی ہے جس میں حقداروں کی بجائے اپنے ورکرز کو نوازا جارہا ہے جبکہ سابق اسسٹنٹ کمشنر ڈاکٹر سہیل الرحمان کو سیاسی بنیادوں پر تبدیل کر کے انتظامیہ اور محکمہ فوڈ کو بھی سیاسی دباؤاور انتقامی کارروائی کا پیغام دیاگیاہے جسے بدقسمتی سے انتظامیہ نے قبول کر کے اپنے اپ کو سٹیٹ اور پبلک کے ملازمین ہونے کی بجائے پی ٹی آئی کاملازمین ثابت کیا جسے ہم کسی صورت تسلیم نہیں کریں گے اور انتظامیہ کے اسی یکطرفہ رویہ کے خلاف تمام سیاسی پارٹیاں سڑکو ں پر نکل کر دفاتر کی تالہ بندی سے بھی دریغ نہیں کریں گے۔مقررین نے ضلع ملاکنڈ میں حکومتی ریلیف کے عدم فراہمی، سیاسی بنیادوں پر سرکاری آٹے اور زکواۃ کی تقسیم اور ملاکنڈ انتظامیہ کی بے بسی اور یک طرفہ اقدامات پرافسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ حکومت کی طرف سے ٹائیگر فورس کا قیام سرکاری اداروں پر کھلم کھلا عدم اعتماد ہے جسے پوری قوم مسترد کر رہی ہے۔اس دوران تمام سیاسی پارٹیوں کی مشترکہ کمیٹی بھی بنائی گئی جو حالات کو دیکھ کر ائندہ کا لائحہ عمل تیار کریگی۔ آل پارٹیز کانفرنس کے اختتام پر تمام قائدین کے مشاورت کے بعد سابقہ ایم پی اے سید محمد علی شاہ باچہ نے اعلامیہ جاری کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ احساس پروگرام،زکواۃ اور خوراک کے سامان میں پی ٹی آئی کا سیاسی سکورنگ اور مداخلت بند کیا جائے۔ انتظامیہ اور محکمہ خوراک کو سیاسی دباؤ سے آزاد کرکے میرٹ کے بنیاد پر آشیاء فراہم کیا جائے۔بے روزگار عوام کوبجلی اور گیس بلز معاف کئے جائیں اور ملاکنڈ کے ہسپتالوں کو وینٹی لیٹر فراہم اورمحکمہ صحت اورلیویز اہلکاروں کو اضافی تنخواہ اور حفاظتی سامان دیا جائے اور کرونا وائرس کے علاوہ معمول کے مریضوں کے لئے او پی ڈی کھول دیئے جائیں۔اعلامیہ میں مطالبہ کیاگیاکہ ضلع ملاکنڈ میں کارورباری طبقہ کو کاروبار کے لئے مخصوص وقت اوربازاروں میں سینیٹائزر واک تھرو گیٹ نصب کئے جائیں،مستحق لوگوں اور گھروں میں قرنطین شدہ افراد کو فی الفور راشن فراہم کیا جائے اور اصل مستحقین کے لئے امدادی پیکجز اور راشن فراہمی آسان بنایا جائے تاکہ لاک ڈاؤن اور کرونا سے متاثرہ خاندانوں کو مذید مشکلات کا سامنا نہ ہوں۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -