مطالبات تسلیم ورنہ دما دم مست قلندر، چھوٹے تاجروں کا 15اپریل کو لاک ڈاؤن توڑنے کا اعلان

      مطالبات تسلیم ورنہ دما دم مست قلندر، چھوٹے تاجروں کا 15اپریل کو لاک ڈاؤن ...

  

ملتان (نیوز رپورٹر)مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کے صدر کاشف چوہدری نے کہا کرونا وباء کے خاتمے کیلئے پاکستان کا تاجر ریاست پاکستان کے ساتھ ہے مگر ابھی تک وفاقی حکومت خود کنفیوزن اور عدم یکسوئی کا شکار ھے۔وزیراعظم لاک ڈاؤن کے مخالف اور صوبے حامی ھیں۔وزیراعظم کی تقاریر اور میٹنگز کے ثمرات ابھی تک قوم تک نہیں پہنچے،لاک ڈاؤن عبادت گاھوں،تعلیمی اداروں و پبلک(بقیہ نمبر37صفحہ7پر)

ٹرانسپورٹ کی بندش،اور کاروباروں کے بند کرنے تک محدود ھے،عملا پوری قوم سڑکوں پر نکلی ھوئی ھے۔کیا یوٹیلٹی اسٹورز،احساس پروگرام،تقسیم راشن کے مواقع پر سیکٹروں لوگوں کے ہجوم میں ھیلتھ کے ضوابط پر کوئی عملدرآمد نہ ھونا لاک ڈاؤن کا مذاق اڑانے اور کرونا کو پھیلانے کا ذریعہ نہیں؟۔اشیائے خوردونوش سمیت میڈیکل اسٹورز،کلینکس،تمام منڈیاں،منی چینجرز،ورکشاپس،آپٹکس،ایزی پیسہ،لانڈری،ریسٹورنٹس کے ٹیک اوے کھلے ھیں۔ اب وزیراعظم خود 14 اپریل سے کنسٹرکشن انڈسٹری کھولنے کے اعلانات کر رہے ہیں جس کا عملا مطلب رئیل اسٹیٹ دفاتر،سرکاری و پرائیویٹ سوسائٹیز کے ساتھ بین الاضلاعی و لوکل ٹرانسپورٹ، اینٹوں کے بھٹے،کرشنگ پلانٹس،سریا،سیمنٹ،پائپ، سینٹری،ھارڈوئر،الیکٹرک،لکڑی،ماربل،ٹائلز و متصل 45 سے زائد کاروباروں کو کھولنا ھے،اگر حکومت خود 80 فیصد کاروبار کھولنا چاھتی ھے تو پھر کم رش والے چند کپڑے،جوتے،موبائل،کمپیوٹرز،گفٹ آئٹمز،فرنیچر،آٹوز،الیکڑونکس کے کاروبار کو بلاوجہ کیوں بند رکھا جائے،اگر حکومت نے 80 فیصد کاروبار کھولنے کا فیصلہ کیا تو پھر بقیہ 20 فیصد تاجر خود کھول دیں گے۔کاشف چودھری نے کہا حکومت اگر وباء کے خطرات کو محسوس کر رھی ھے تو کیوں متعلقہ اسٹیک ھولڈرز کو اعتماد میں نہیں لیتی۔ھم نے رضاکارانہ طور پر ابھی تک اپنے کاروبار بند رکھ کر وزیراعظم عمران خان،وفاقی وزراء کو خطوط لکھے مگر حکومت کے پاس معیشت کے نمائندگان کے لیے وقت نہیں،1200 ارب کے ریلیف پیکیج کا اعلان تو ھوا مگر کاروبار بچانے و بحالی معیشت کیلئے کوئی پیکیج نہیں بنا چناچہ اب مرکزی تنظیم تاجران پاکستان نے جنرل قمر جاوید باجوہ چیف آف آرمی اسٹاف کو خط لکھ دیا ہے کہ اس قومی مشکل کے وقت افواج پاکستان آگے بڑھ کر قومی حکمت عملی کی تشکیل اور معیشت کو درپیش مسائل کو حل کروائیں۔ہمارا مطالبہ ھے کہ ملکی معیشت کو بچانے کیلئے فوری طور پر معیشت بچاؤ پیکیج کا اعلان کیا جائے۔ ملک بھر کے 5000روپے تک کے بجلی وسوئی گیس اور پانی کے تین ماہ کے بلز معاف کرنے اور اس سے زیادہ رقم کے تین ماہ کے بلز پر تمام قسم کے ٹیکسز اور سر چارج کو ختم کرتے ہوئے انکی وصولی کو موخر کرتے ہوئے اگلے 6ماہ کے اندر قسطوں میں وصول کیا جائے۔حکومت بذریعہ آرڈنینس دوکان،گودام اور گھر کے تمام کرایہ جات معاف کرنے کا فیصلہ کرے۔ جبکہ کرایہ پر گزر اوقات کرنے والے مالکان کو کرایہ جات حکومت ادا کرے۔تاجروں و صنعتکاروں کے سوشل سیکورٹی،اولڈایج بینیفٹ میں رجسٹرڈ ملازمین کی آدھی تنخواہیں یہ ادارے اور آدھی تاجر ادا کریں جبکہ نان رجسٹرڈ ملازمین کی آدھی تنخواہ ریلیف پیکج سے حکومت ادا کرے۔ چھوٹے تاجروں کے مطالبات نہ مانے تو 15 اپریل کو لاک ڈان توڑ کر دکانیں کھولیں گے، اپنے بچوں اور ملازمین کو بھوک سے مرتا نہیں دیکھ سکتے بے شک حکومت لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی پر ہمیں اور ہمارے بچوں کو جیلوں میں ڈال دے وہاں کم از کم 2وقت کا کھانا تو ملے گا۔ ان خیالات کا اظہار قومی تاجر اتحاد پاکستان کے صدر سلطان محمود ملک نے ہنگامی کیا اجلاس میں قومی تاجر اتحاد ملتان سٹی کے صدر ملک اقبال جاوید، شیخ محمد سلیم، ضلع ملتان کے سینئر نائب صدر ملک مقبول کھوکھر، سید محمد آصف شاہ، جنوبی پنجاب کے نائب صدر چوہدری عامر بن طارق اور شیخ محمد عمر نیشرکت کی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سلطان محمود ملک نے کہا لاک ڈا?ن میں مسلسل توسیع سے ہمارے چھوٹے تاجر بھوک سے بلبلا اٹھے حکومت نے 12 ارب کا ریلیف دیا اس ریلیف کا چھوٹے تاجروں سے کوئی واسطہ نہیں، ایک ماہ کے قریب ہونے کو آیا لیکن افسوس بڑے بڑے ایکسپورٹروں، صنعت کاروں کو اربوں روپے کی سبسڈی اور قرضوں میں چھوٹ دے دی گئی لیکن ہم چھوٹے تاجروں کو یکسر نظر انداز کردیا گیا۔ انہوں نے مطالبہ کرتے ہوئے کہا یہ کیسا کرونا وائرس ہے جس میں ملک کے 50 فیصد لوگوں کو کاروبار کرنے کی اجازت دے دی گئی، کیا یہ وائرس ان پر اثرانداز نہیں ہوگا۔ ہمارے 50 لاکھ چھوٹے تاجر ایک ماہ میں اپنی جمع پونجی کھا گئے اب ہمارے گھروں میں بھوک ناچ رہی ہے حکومت فوری طور پر ہم تاجروں کے لئے راشن کا انتظام کرے، جو مال ہمارے دکانوں کے اندر پڑا ہے وہ خراب ہو چکا ہے اس کا کلیم ہمیں دے، ہمارے ملازمین کو 3 ماہ کی تنخواہ ادا کرے، جن کی دکانیں کرائے کی ہیں ان کا کرایہ سرکاری اور نجی طور پر معاف کیا جائے، بجلی گیس سمیت یوٹیلٹی بل معاف کئے جائیں اور 20 لاکھ روپے تک کے بلاسود قرضے 3 سال کے لئے دیئے جائیں۔ ان مطالبات کو فوری پورا کیا جائے اور 15 اپریل سے صبح 11 بجے سے شام 4 بجے تک کاروبار کرنے کی اجازت دی جائے۔ اگر ہمارے مطالبات کو 14 اپریل تک نہ مانا گیا اور حکومت نے ہم سے رابطہ نہ کیا تو ہم اس کو حکومت کی رضامندی سمجھتے ہوئے 15 اپریل کو ملک بھر کے تاجر اپنی 11بجے تا شام4 بجے تک دکانیں کھول دیں گے۔ ملک میں جاری لاک ڈاؤن کے باعث کاروباری حالات خراب ہونے پر پاور لومز مالکان نے ہاتھ کھڑے کر دینے ہیں۔حکومت نے انڈسٹری کو بچانے کے لئے فوری ریلیف کا اعلان نہ کیا تو حالات کی ذمہ داری اٹھانے کے لیے بھی تیار رہے۔ان باتوں کا اظہارآل پاکستان پاور لومز ایسوسی ایشن کے مرکزی صدر عبدالخالق قندیل نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ ملک میں تین ہفتوں سے لاک ڈاؤن جاری ہے اور حکومت لاک ڈاؤن کی مدت میں توسیع بارے بھی سوچ رہی ہے۔ حکومت کو اس بات کی تو فکر ہے کہ کرونا ائرس سے شہری متاثر نہ ہوں لیکن حکومت کو اس بات کی کوئی پروا نہیں کہ تین ہفتوں کی بے روزگاری سے دیہاڑی دار مزدور کے لیے مسائل کتنے گھمبیر ہو چکے ہیں۔مزدور کرونا وائرس سے بچ بھی گئے تو فاقوں سے مر جائیں گے۔ پاور لومز مالکان نے انڈسٹری بند ہونے کے باوجود مزدوروں کو پیشگی اجرت ادا کر دی لیکن اب حالات خراب ہیں اور پاور لومز مالکان بھی قرض لینے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ حکومت جہاں کرونا وائرس سے بچاؤ کے لئے اربوں روپے خرچ کر رہی ہے وہاں دیہاڑی دار مزدور کے روزگار کی جامع اور ٹھوس پالیسی ترتیب دے پاورلومز سے انڈسٹری میں احتیاطی تدابیر اختیار کروا کر اس کو اوپن کیا جائے۔

ردعمل

مزید :

ملتان صفحہ آخر -