رمضان المبارک سے قبل مساجد پر لگی پابندیاں نرم کی جائیں‘ حافظ حسین احمد

  رمضان المبارک سے قبل مساجد پر لگی پابندیاں نرم کی جائیں‘ حافظ حسین احمد

  

ڈیرہ غازیخان (سٹی رپورٹر): حکومت تعمیراتی کام اور فیکٹریاں کھولنے کے ساتھ ساتھ فوری طور پر مساجد اور خطباء پر لگی پابندی بھی فوراً ہٹا ئیں تاکہ رمضان المبارک میں عوام کو تراویح، افطار، اعتکاف اور عید الفطر کے بابرکت اعمال میں شرکت کاموقع فراہم ہوسکے اور مسلمان اپنے رب کو راضی کرکے کورونا جیسے آفات اور بلاؤں کے خاتمے کے لیے دعا کرسکیں ان (بقیہ نمبر31صفحہ6پر)

خیالات کا اظہار جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی ترجمان اور ممتاز پارلیمنٹرین حافظ حسین احمد نے ڈی جی خان کے صحافیوں سے ٹیلیفونک گفتگو میں کیا حافظ حسین احمد نے کہا کہ حکومت دیہاڑی دار مزدوروں کے حوالے سے فیکٹریاں اور تعمیراتی کام کے حوالے سے نرمی کررہی ہے تو رمضان المبارک کی آمد سے پہلے مساجد پر لگی پابندیاں بھی نرم کی جائیں اور جس طرح سبزی منڈیوں میں اور دیگر مقامات پر حفاظتی سینیٹائیزر گیٹ اور دیگر احتیاطی تدابیر اختیار کی گئی ہیں اس طرح تمام بڑی مساجد میں یہی انتظامات کئے جائیں، صاحب استطاعت اس کا بوجھ اٹھائیں گے ورنہ دوسری صورت میں حکومت کو یہ خدمات سرانجام دینی چاہئیں، حافظ حسین احمد نے کہا کہ دیگر مکاتب فکر کے علماء اورزعماء کرام کے ساتھ تمام سیاسی جماعتوں کے منتخب ارکان پارلیمنٹ سینٹ، قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں سے درخواست ہے کہ وہ رمضان المبارک کے حوالے سے مسلمانوں کے جذبات کی ترجمانی کریں اور حکومت کو اس بات پر آمادہ کریں کہ وہ حفاظتی تدابیر، سینیٹائیزر گیٹ، ماسک اور دیگر وہ تمام اقدامات عوام کو فراہم کریں جو ریاست کی ذمہ داری بنتی ہے۔ انہوں نے اس حوالے سے مخیر حضرات اور تنظیموں سے بھی اپیل کی کہ وہ بھی اپنے علاقے کی مساجد میں سینیٹائیزر گیٹ، ماسک اور دیگر تمام حفاظتی اقدامات مہیا کریں اور ذرائع ابلاغ سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ عوام کی رہنمائی کرتے ہوئے گھروں سے باوضوہوکر مسجدوں میں پہنچنے کے حوالے سے آگاہی مہم چلائیں۔ حافظ حسین احمد نے توقع کی ہے کہ رمضان المبارک کی آمد سے پہلے ہی علماء کرام، مفتیان کرام، حکومتی ذمہ داران اور انتظامیہ سر جوڑ کر ایسی راہ نکالنے میں کامیاب ہونگے جس میں حفاظتی تدابیر کے ساتھ ساتھ اللہ رب العزت کو راضی کرنے کے مواقعے عوام کو فراہم کئے جائیں گے۔

حافظ حسین احمد

مزید :

ملتان صفحہ آخر -