نشتر ہسپتال: 13ڈاکٹرز میں کرونا وائرس کی تصدیق‘ خطرے کی نئی گھنٹی

نشتر ہسپتال: 13ڈاکٹرز میں کرونا وائرس کی تصدیق‘ خطرے کی نئی گھنٹی

  

ملتان (نمائندہ خصوصی)نشتر ہسپتال کے 13 ڈاکٹروں میں کورونا کی تصدیق ہونے پر کھلبلی مچ گئی تفصیل کے مطابق پی ایم اے کے صدر ڈاکٹر مسعود ہراج، ڈاکٹر خاور، ڈاکٹر شیخ عبد الخالق، ڈاکٹر ذوالقرنین حیدر، ڈاکٹر امجد باری نے پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے(بقیہ نمبر37صفحہ6پر)

ہوئے کہا کہ نشتر ہسپتال کے ڈاکٹرز، سٹاف اور پیرا میڈکس میں تیزی سے پھیلتے ہوئے کرونا وائرس کی وجوہات اور اسکو روکنے کے حوالے سے عملی اقدامات کا مطالبہ کیا ہے انہوں نے کہا کہ ابتک نشتر ہسپتال کے 13ڈاکٹرز میں ٹیسٹ پازٹیو آگیا ہے اور 36ڈاکٹرز کے ٹیسٹ ہوئے ہیں جن میں سے 12کی رپورٹ پازٹیو آئی ہے مزید سو کے قریب ڈاکٹر ز اور 28نرسز اور سٹاف کے ٹیسٹ رپورٹ آج آئے گی وارڈ نمبر 11، آئی سی یو، برن یونٹ کے ڈاکٹرو سٹاف اس وائرس کی زد میں آئے جسکی وجہ سکرینگ ٹیسٹنگ کا فقدان ہے ہمارا مطالبہ ہے کہ فی الفور تمام ڈاکٹرز و سٹاف جو کہ ان وارڈز اور ایمر جنسی میں ڈیوٹی کرتے رہے اور ہاسٹل میں رہائش پذیر ہیں ان کے ٹیسٹ ہوں اور ڈٓکٹرز کی ٹیسٹنگ علیحدہ کاؤنٹر اور وارڈز مختص کریں اسکے پھیلاو کو مزید روکنے کیلئے تمام ہاسٹلز اور وارڈز میں سپرے کریں اور ان وارڈز کو مکمل fumigation کیا جائے۔ مریضوں کی سکریننگ کے عمل کو موثر بنایا جائے اور جن ڈاکٹرز کے ٹیسٹ پازٹیو آئے ہیں انہیں علاج کی بہترین سہولیات فراہم کی جائیں۔ نشتر ہسپتال میں n-95ماسک googlesاور ppeاور testing ktsکی شدید کمی ہے اس فی الفور پورا کیا جائے۔ چیف جسٹس آف پاکستان کے حکم پر opd کھولنے کا جو فیصلہ کیا گیا ہے اس پر نظر ثانی کی اشد ضرورت ہے کیونکہ ان حالات میں opdمیں کام کرنا ڈاکٹرز اور عوام کیلئے خطرہ کا باعث ہوگا۔ ہم وزیراعلی پنجاب سے بھرپور مطالبہ کرتے ہیں فی الفور نشتر ہسپتال میں ایمر جنسی ڈیکلیئر کی جائے تمام سہولیات کی فراہمی یقینی بنائیء جائے۔ اعلی سطح کی انکوائری کمیٹی تشکیل دی جائے جو نشتر ہسپتال میں وبا کے تیزی سے پھیلاو کی وجوہات اور ڈاکٹرز اور سٹاف کے متاثر ہونے کے ذمہ داروں کا تعین کرے۔ جبکہ ڈاکٹروں کے لئے علیحدہ ہاسٹل قرنطینہ بنایا جائے جبکہ ہسپتال میں سپرے کروایا جائے اور ذمہ داروں کا تعین کرنے کیلئے کمیٹی قائم کی جائے نشتر ہسپتال کے 13 ڈاکٹروں میں کورونا کی تصدیق کے بعد آئی سو لیشن کے چاروں وارڈز میں جگہ کم پڑ چکی ہے جبکہ کورونا پازیٹیو آنے والے ڈاکٹروں کو آئی سو لیٹ کرنے کیلئے رفیدہ گرلز ہاسٹل کو خالی کروایا گیا ہے تاہم اس حوالے سے ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن پنجاب کے چئیر مین ڈاکٹر خضر حیات،ڈاکٹر فاران اسلم نے ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ نشتر انتظامیہ کورونا کے خلاف لڑنے میں بری طرح فیل ہو چکی ہے اور بیشتر ڈاکٹرز، نرسز اور پیرامیڈیکس ایکسپوز ہو چکے ہیں، نشتر کے عملہ میں کورونا کے پھیلاؤ کی زمہ دار نشتر کے وائس چانسلر، پرنسپل اور میڈیکل سپرنٹینڈنٹ کو استعفی دینا چاہیے،جو ڈاکٹر پازیٹو آئے ہیں یہ ملتان اور نشتر انتظامیہ کی زمہ داری ہے کہ انکو نشتر کے گردونواح میں پرائیویٹ ہوٹلز اور پرائیوٹ ہسپتالوں میں آئسؤ لیٹ کیا جائے،نہ کہ ہاسٹل میں گندے بستروں کو لگا کر وہاں بھیجا جائے،جبکہ جو نیگیٹو آئے ہیں انکو بھی چودہ دن کیلئے Quarantine کیا جائے کیونکہ انکا بھی کورونا والے مریض کے ساتھ ایکسپوزر ہے۔اس لیے وہ ہسپتال میں داخل دوسرے مریضوں کیلے خطرہ ہو سکتے ہیں،ایمرجنسی، میڈیکل وارڈر، لیبر روم، پیڈیاٹرک ایمرجنسی کو High Risk area نامزد کیا جائے اور وہاں موجود عملہ کو تمام حفاظتی سامان دیا جائے۔ اگر ڈاکٹرز کو حفاظتی سامان نا دیا گیا تو یہاں بڑے پیمانے پر بیماری پھیلنے کا خدشہ ہے اور مجبوراً ہمیں سخت فیصلہ لینا پڑ سکتا ہے،High Risk area میں کام کرنے والے تمام عملہ کی سکریننگ کی جائے،ڈاکٹرز، نرسز ہاسٹل کیمیکل ادویات کا سپرے کیا جائے تاکہ کورونا کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔،ان کا مزید کہنا تھا کہ رفیدہ ہال کو گندہ کرنے کی بجائے تمام نجی ہسپتالوں کو سرکاری دھارے میں لایا جائے۔اور انکو Quarantine بنایا جائے،ادھر پائینرز یونٹی کے صدر پروفیسر ڈاکٹر شاہد راو،ڈاکٹر ساجد اختر اور ڈاکٹر آصف راو کے بھی کورونا کے تشخیصی ٹیسٹ کے لئے نمونے لیبارٹری بھجوا دئیے گئے ہیں۔

گھنٹی

مزید :

ملتان صفحہ آخر -