کرونا سے مزید2افراد جاں بحق، کراچی، لاہور کے کئی علاقے سیل،امریکی تاریخ میں پہلی بار تمام ریاستیں آفت زدہ قرار ایران، سپین نے لاک ڈاؤ ن میں نرمی کر دی

کرونا سے مزید2افراد جاں بحق، کراچی، لاہور کے کئی علاقے سیل،امریکی تاریخ میں ...

  

لاہور، کراچی، پشاور،اسلام آباد (جنرل،سٹاف رپورٹر ز، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)سندھ میں دو نئی اموات کی تصدیق کے بعد ملک بھر میں کرونا سے اموات کی مجموعی تعداد 88 ہو گئی ہے۔تفصیلات کے مطابق پاکستان میں کرونا وائرس سے مزید دو افراد جاں بحق ہو گئے جس کے بعد ملک میں اموات کی مجموعی 88 ہو گئی، نئے کیسز سامنے آنے کے مریضوں کی تعداد 5170 تک پہنچ گئی ہے، اتوار کو کرونا وائرس کے 134 نئے کیسز رپورٹ ہو ئے، سندھ میں 93، پنجاب میں 39،اسلام آباد اور آزاد کشمیر میں ایک ایک کیس رپورٹ ہوا ہے، نئے کیسز سامنے آنے کے بعد ملک میں متاثرہ افراد کی تعداد 5170 ہو گئی ہے۔ سندھ میں کورونا وائرس کے باعث مزید دو افراد جان کی بازی ہار گئے جس کے بعد صوبے میں جاں بحق افراد کی تعداد 30 ہو گئی ہے، مزید 93 افراد کے کورونا ٹیسٹ مثبت آئے ہیں جس کے بعد صوبے میں متاثرہ افراد کی تعداد 1411 ہو گئی ہے۔وزیراعلیٰ سندھ کے مشیر مرتضیٰ وہاب کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں 2 ہلاکتوں اور 93 کیسز کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا گیا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 18 افراد صحتیاب ہو کر گھروں کو بھی جا چکے ہیں۔ مرتضیٰ وہاب نے بتایا کہ اب تک 389 افراد صحت یاب ہو کر اپنے گھروں کو جا چکے ہیں۔پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر ڈپارٹمنٹ پنجاب کی جانب سے جاری بیان کے مطابق صوبے میں مزید 39 افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جس کے بعد متاثرہ مریضوں کی مجموعی تعداد 2464 ہو گئی ہے۔دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے اپنے سوشل میڈیا بیان کے ذریعے بتایا کہ جہاں پاکستان کورونا وائرس کے خلاف جنگ میں مصروف ہے وہیں ڈی جی خان سے ایک اچھی خبر بھی ہے۔عثمان بزدار نے بتایا کہ 775 زائرین بشمول 175 وہ جن کے ابتدائی ٹیسٹ مثبت آئے تھے مکمل طور پر صحت یاب ہو کر اپنے گھروں کو جا چکے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ڈی جی خان قرنطینہ مرکز میں صرف 74 زائرین باقی رہ گئے ہیں جن کا ہر طرح سے خیال رکھا جا رہا ہے۔اس کے علاوہ پنجاب کے دیگر شہروں میں بھی کورونا وائرس سے متاثرہ 39 افراد صحت یاب ہو چکے ہیں۔آزاد کشمیر میں کورونا وائرس کا ایک کیس سامنے آیا ہے جس کی تصدیق نیشنل کمانڈ سینٹر نے کی ہے۔نیا کیس سامنے آنے کے بعد آزاد کشمیر میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 135 ہو گئی ہے۔گزشتہ روز بھی آزاد کشمیر میں ایک 4 سال کی بچی میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی تھی جس کی تصدیق وزیر صحت نے کی تھی۔گزشتہ روز بلوچستان میں بھی مزید 8 نئے کیسز سامنے آئے جس کے بعد صوبے میں کیسز کی مجموعی تعداد 228 ہوگئی ہے۔ترجمان صوبائی حکومت لیاقت شاہوانی نے بتایا کہ بلوچستان میں اب تک 95 متاثرہ افراد صحت یاب بھی ہوچکے ہیں۔وفاقی دارالحکومت میں اتوار کے روز ایک نیا کیس رپورٹ ہوا ہے جس کے بعد اسلام آباد میں وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 119 ہو گئی ہے۔ جمعے اور ہفتے کو اسلام آباد میں کورونا وائرس کا کوئی نیا کیس سامنے نہیں آیا تھا البتہ جمعرات کو کورونا کے 35 کیسز سامنے آئے تھیسندھ حکومت نے لاک ڈاؤن میں توسیع اورنرمی سے متعلق الگ الگ سفارشات تیار کرلی ہیں۔وزیر اعلی ہاؤس کراچی کے ذرائع کے مطابق طبی ماہرین اور نجی و سرکاری شعبے کے ماہرین صحت لاک ڈاؤن سخت کرنے اور صنعتکار، کراچی چیمبر اور اسمال ٹریڈرز لاک ڈاؤن ختم کرنے کیلیے سندھ حکومت پر مسلسل دباؤ ڈال رہے ہیں۔ جس کے باعث صوبائی حکومت کے لیے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہورہا ہے کہ معیشت کو بچایا جائے یا انسانی جانیں۔طبی ماہرین کے مطابق سندھ میں کورونا کیسز کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے اور اگرلاک ڈاؤن نہ بڑھایاتو کورونا کا پھیلاؤ روکنا مشکل ہوگا، کورونا پھیل گیا تو طبی سہولیات کم پڑجائیں گی۔ اس کے علاوہ میئر کراچی وسیم اختر نے بھی لاک ڈاؤن میں توسیع اور راشن کی تقسیم کو منظم کرنے کی تجویز دی ہے۔وزیر اعلی ہاؤس کے ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے بھی لاک ڈاؤن میں توسیع کی تجویز نہیں۔ وفاقی حکومت نے لاک ڈاؤن کی حمایت نہیں کی تو سندھ حکومت پابندیاں نرم کرے گی، سندھ حکومت نے لاک ڈاؤن میں توسیع اورنرمی سے متعلق الگ الگ سفارشات تیار کرلیں، جن پرغور اور حتمی فیصلہ کابینہ کے اجلاس میں ہوگا،اس سلسلے میں 13 اپریل کو صوبائی کابینہ کا اجلاس ہوسکتا ہے۔دوسری جانب وزیر اعلی سندھ مرادعلی شاہ نے وزیر اعلی بلوچستان جام کمال سے ٹیلی فون پر موجودہ صورت حال پر تبادلہ خیال کیا۔ وزیر اعلی سندھ نے کہا کہ کورونا سے مقابلے کا واحد حل سخت لاک ڈان ہے، مستحقین تک راشن پہنچانے کے نظام کو مزید بہتر بنایا جا سکتا ہے۔کراچی میں کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے متاثرہ یوسیز کے متاثرہ علاقوں کو سیل کرنے کے معاملے پر مختلف مقامات پر ٹرک اور کنٹینرز لگا کر راستے سیل کر دیئے گئے ہیں۔کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے متاثرہ یوسیز کو جزوی طور پر مکمل سیل کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔جوہر موڑ، جوہر چورنگی، راشد منہاس روڈ کو بھی مختلف مقامات پر رکاوٹیں کھڑی کر کے بند کر دیا گیا ہے۔گلستانِ جوہر کے مختلف بلاکس کی تمام گلیاں ٹرک اور کنٹینر لگا کر سیل کردی گئی ہیں، ڈالمیا کے اطراف کے بھی تمام روڈ مکمل بند ہیں۔پہلوان گوٹھ جانے اور آنے والے راستے بھی مکمل سیل کر دیئے گئے ہیں۔دریں اثناکورونا وائرس کے پیش نظر لاہور کے مزید 10 علاقے سیل کر دیئے گئیلاہور کی ضلعی انتظامیہ نے کورونا وائرس کے مشتبہ اور کنفرم مریض سامنے آنے کے بعد متاثرہ علاقے سیل کر دیئے۔ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے سیل کیے گئے علاقوں میں بیگم کوٹ شاہدرہ، رستم پارک گلشن راوی، مغل پورہ، ریلوے کالونی، ملتان روڈ نجی سوسائٹی، رحمٰن پورہ وحدت کالونی، چائنہ اسکیم گجرپورہ، اسمال انڈسٹری ہاؤسنگ سوسائٹی اور ڈیفنس بی کے علاقے شامل ہیں۔ترجمان پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ کیئرپنجاب کے مطابق ان علاقوں میں 66 افراد کورونا وائرس کا شکار ہوئے جب کہ لاہور میں کورونا وائرس کے 402 کنفرم مریض ہیں۔ڈپٹی کمشنر لاہور کے مطابق کورونا کیسز سامنے آنے کے بعد ان علاقوں کو سیل کیا گیا ہے جس کے بعد مجموعی طور پر شہر میں بند کیے گئے علاقوں کی تعداد 14 ہو گئی ہے۔

پاکستان ہلاکتیں

مزید :

صفحہ اول -