تیرہ اپریل ۔ ۔ ۔

تیرہ اپریل ۔ ۔ ۔
تیرہ اپریل ۔ ۔ ۔

  

وہ رات کروٹوں میں نکل گئی۔نیند تھی کہ کسی کروٹ نہیں آتی تھی۔کبھی پنکھا بند کرتا کبھی چلا دیتا۔پنکھا بند کرتا تو پسینے آتے،جسم شرابور ہو جاتا۔پنکھا چلاتے ہی ٹھنڈ محسوس ہوتی۔عجیب سی ایک بے چینی بے کلی اور بے قراری تھی۔

فون ان دنوں خال خال تھے۔رابطوں میں اتنی برق رفتاری نہیں تھی کہ پل پل کی خبر ادھر سے ادھر اور ادھر سے ادھر آ جا رہی ہے۔دو دن پہلے ابو راولپنڈی گئے تھے۔جگر کا عارضہ انہیں عرصہ دراز سے لاحق تھا کبھی طبیعت بگڑتی کبھی سنبھل جاتی۔جب سے میں نے ہوش سنبھالا دواؤں کا ایک انبار مستقل ان کے ساتھ رہتا۔کبھی گولیاں پھانک رہے ہیں تو کبھی کوئی شربت حلق میں انڈیل رہے ہیں۔کھانا ان کے لیے پرہیزی پکتا۔ایک بار میں دوسری جماعت میں تھا۔ابو کے پیروں پہ بہت زیادہ ورم آ گئی سوج کہ یہ اتے اتے موٹے ہو گئے کہ دو قدم چلنا دو بھر ہو گیا۔پیٹ میں پانی پڑ گیا۔سانس دھونکنی کی طرح چلتی تھی۔اٹھنا بیٹھنا دشوار تھا۔ان دنوں نانا نواز امی کے تایا ہمارے پاس آن رہے۔انہوں نے ابو کی بہت خدمت کی۔دوا دارو دیتے۔کپڑے بدلواتے۔ حاجت ہوتی توسہارا دے کے لیٹرین تک لے جاتے۔ایک دن تو ابو پہ غشی سی طاری ہو گئی۔ارد گرد کا کوئی ہوش نا رہا۔نہ بات سنتے نا سمجھتے۔کچھ بہکی بہکی باتیں کچھ دیر تک کرتے رہے جن کی سمجھ کسی کو نہ آئی۔سورج نصف النہار تک پہنچا تو مکمل بے ہوشی کی کیفیت طاری ہو گئی۔

گھر میں کہرام سا مچ گیا۔امی اور دادی لگی رونے اور بین کرنے ۔خیر نانا نواز نے مندو کا تانگہ منگوایا۔نوکروں کو ساتھ لگا کے ابو کو تانگے میں ڈال ہسپتال لے گئے۔وہاں داخل کروا دیا۔کچھ ڈاکٹروں کی دوائیں اور کچھ امی اور دادی کی دعائیں رنگ لائیں ابو نے تیسرے دن آنکھ کھولی۔دس دن کے بعد اپنے پیروں پہ چلتے گھر کو واپس آئے۔اس دوران گاؤں کا کوئی شخص ایسا نہ ہو گا جس نے ان کی صحت کے لیے گڑگڑا کر خدا کے حضور دست دعا دراز نہ کیا ہو۔ابو کی ہستی ہی ایسی تھی۔پیار،محبت،اخلاص،رواداری،ہمدردی،رحمدلی ان سب کے آمیزے سے ان کی روح کا خمیر اٹھا تھا۔کسی کو درد میں نہیں دیکھ سکتے تھے۔آنکھ ایک کھاتے پیتے زمیندار گھرانے میں کھولی۔ہر طرف خوشحالی کا دور دورہ تھا۔بچپن سے کسی چیز کی کمی نہ تھی۔ نہ معاش کی فکر نہ مستقبل کی پرواہ حال مست آدمی تھے،حال میں زندگی جیتے تھے اور خوب جیتے تھے، سو کسی قسم کا لالچ ان کی سرشت میں نہیں تھا۔ اگر آمدن روپیہ تھی تو خرچ دس روپے کر دیتے۔کوئی ضرورت مند آ جاتاتو جب تک اس کی مشکل حل نہ کر لیتے انہیں چین نہیں آتا تھا۔جیب میں جو ہے اس کے ہاتھ پہ رکھ دیتے نہیں ہے تو مانگ تانگ کر ادھار پکڑ کے جو کچھ جہاں کہیں سے دستیاب ہوتا ضرورت مند کی نذر کرتے۔خوش لباس انتہا درجے کے تھے۔

کپڑا انتہائی نفیس اور مہنگا ،عمدہ تراش خراش کا زیب تن کرتے۔جوتے بہت قیمتی اور ڈھونڈ ڈھونڈ کے چن چن کے خرید کر لاتے اور خوب انہیں چمکا چمکا کر پہنتے۔ملازم دستیاب ہوتا تو ٹھیک نہیں تو خود ہی شو برش اور پالش لے کر بیٹھ جاتے۔کبھی نوکرانی کو دیر سویر ہو جاتی اور امی مصروف ہوتیں تو کپڑوں پہ خود ہی استری کرنے لگ جاتے۔کپڑوں میں شکن انہیں گوارا نہیں تھی۔صاف ستھرا اجلا لباس پہنتے۔چلتے بہت متانت سے تھے۔دوستوں میں غریب لوگوں کو ترجیح دیتے۔پستولو فقیر تک سے ان کی یاری تھی۔جب کبھی وہ لنگڑاتا ہوا گلی میں بھیک مانگتا مل جاتا اسے ساتھ لے کر عباس نائی کے حمام پر بیٹھ جاتے۔پھر تو باتوں کی وہ پٹاری کھل جاتی کہ سمیٹنے میں نہ آتی۔ چٹکلے چل رہے ہیں۔قہقہے پہ قہقہے چھوٹ رہے ہیں۔چائے پہ چائے کا دور چل رہا ہے۔ کھانا بہت کم کھاتے مگر بہت عمدہ کھاتے۔بکرے کا گوشت تقریبا روزانہ پکتا،کھاتے تو بس دیسی گھی میں پکا سالن،ڈالڈا،تیل وغیرہ شجر ممنوع تھے۔صحت اکثر ڈانوا ڈول رہتی۔پڑھائی کی تکمیل ابو کر نہ سکے کہ انگریزی زبان میں۔ ہاتھ ذرا تنگ تھا۔سو کئی سالوں تک تگ و دو کے بعد میڑک کر ہی لیا۔آگے ہاتھ کھڑے کر دیے۔خوش نویس بہت تھے۔اردو یوں لکھتے جیسے کتابت کر رہے ہوں۔کتابوں اور رسالوں کا مطالعہ بہت کرتے تھے۔چارپائی کے ساتھ ایک میز دھری رہتی جس پہ کتابوں کا انبار لگا ہے۔رات دیر تک کتابیں پڑھتے رہتے اور پڑھتے پڑھتے ہی سو جاتے۔سنیوں کی مسجد میں کبھی کبھار نماز پڑھتے،محرم میں شیعوں کی مجلس میں بھی جا بیٹھتے،مرزئیوں کو کوئی اگر برا بھلا کہتا دشنام طرازی کرتا تو اس کا منہ روک دیتے کہ کیوں برا بھلا کہہ کر کسی کا دل توڑتے ہو۔ان کا معاملہ اللّٰہ پہ چھوڑ دو جو بھی مناسب ہو گا اس جہان یا اس جہان وہ ان سے نبٹ لے گا،تمہیں کیا پڑی ہے ناحق کسی انسان کا دل دکھانے کی۔چادر چھوٹی تھی پاؤں ابو نے بہت پھیلا رکھے تھے ،بیماری کے سبب زمینداری پہ پوری توجہ دے نہیں پاتے تھے۔سو پیسے کی افراط کبھی نہیں دیکھی۔مگر جتنا آتا تھا دل کھول کے خرچ دیتے تھے۔زندگی میں کبھی انہوں نے کل کی فکر نہیں کی۔فکر اگر ان کو تھی تو بس اتنی کہ میں پڑھ لکھ جاؤں۔اپنے نہ پڑھنے کا قلق انہی ساری زندگی رہا۔پنڈی جانے لگے تو دیر تلک مجھے سینے سے چمٹائے رکھا۔میری پیشانی پہ بوسا دیا اور اس دہلیز سے باہر نکل گئے جو پھر آج تک ان کے قدموں کی منتظر ہے۔

فجر کی اذان مؤذن نے دی تو گھر کا دروزاہ دھڑا دھڑ بج اٹھا۔میں جو چارپائی پہ کروٹیں بدل رہا تھا اٹھ کر صحن میں آیا۔دادی اٹھ کر چارپائی میں بیٹھ گئی تھیں۔امی دروازے کھولنے گئییں۔دروازے پہ کھڑے گھر پہ کام کرنے والے خادم چاچے ناصری کی سسکیاں صحن تک آ رہی تھیں۔دروازہ کھلا اور چاچے ناصری نے دھاڑیں مار مار کر رونا شروع کردیا۔ڈیرے پہ پنڈی سے فون آیا ہے کہ چھوٹے چوہدری رات کو فوت ہو گئے۔دادی اور امی کی چیخوں نے آسمان سر پہ اٹھا لیا۔کہرام سا مچ گیا۔میں کچھ دیر تو صحن میں ساکت کھڑا رہا۔پھر ٹپ ٹپ آنسو میری آنکھوں سے بہنے لگے۔بائیس سال گزر گئے۔ تیرہ اپریل اس دن ابو جی کو لحد میں اتار دیا تھا۔اس دن وہ ہستی جو کئی لوگوں کی مددگار،خیر خواہ اورہمدرد تھی ،آسودہ خاک ہوئی۔آسامان آج بھی ان کی لحد پہ شبنم افشانی کرتا ہو گا۔جس نے ساری زندگی کسی قسم کی دولت نہیں بس لوگوں کی دعائیں اکٹھی کیں۔

۔

.

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔

مزید :

بلاگ -