کرونا وائرس ، نفسیاتی خوف کو بھی شکست دیں

کرونا وائرس ، نفسیاتی خوف کو بھی شکست دیں
کرونا وائرس ، نفسیاتی خوف کو بھی شکست دیں

  

کہتے ہیں کہ کسی علاقے میں ایک جراح رہتا تھا اور خدا نے اسکے ہاتھ میں بہت شفا بخشی تھی ، روز بہت سے مریض اسکے پاس آتے اور شفا یاب ہو کر چلے جاتے ۔ خیر دن گذر رہے تھے اور وہاں کے اصل ڈاکٹر اور طبیب بھوکوں مر رہے تھے ۔ آخر اس مسئلےکا حل نکالنے کے لئے سب ڈاکٹر ، حکیم اور طبیب سر جوڑ کر بیٹھے تو ایک سیانے نے کہا کہ جراح کو بلا کر انسانی جسم کے بارے میں مکمل بریفنگ دے دی جائے اور اسکے بعد اسکی حالت ملاحظہ کی جائے۔

خیر ایسا ہی کیا گیا ، قصہ مختصرکہ بریفنگ کے بعد اب جب کبھی بھی جراح کسی مریض کا علاج کرنے لگتا تو اسے یاد آنے لگتا کہ فلاں رگ کے کاٹنے سے جسم کا یہ حصہ ناکارہ ہو جائے گا ۔ جراح تھا تو دیسی بندہ ، یعنی دانے ہوں ، پھوڑے ہوں یا پھنسی ، اس نے چیرا لگایا ، چیر پھاڑ کی اور یہ جا وہ جا ۔۔ باقی رہا اللہ توکل ۔۔۔لیکن اب جب اسے تھوڑا سا علم ہو گیا تو علم کے ساتھ ساتھ خوف نے بھی دل میں ڈیرے ڈال لئے کیونکہ پروفیشنل نالج نہیں تھا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ ذہنی خلفشار کا شکار ہو کر اپنی رہی سہی قابلیت سے بھی محروم ہو گیا ۔۔

یہی حال اب کرونا وائرس کے پھیلائو کے بعد کا ہے ملک میں کرونا کے مریضوں کی تعداد اب دو ہزار تک پہنچ گئی اور جس طرح یہ تعداد بڑھ رہی اسی قدرخوف کے سائے بھی بڑھنے لگے ہیں ۔ بچے بڑے سب گھروں میں بند ہیں اور انتہائی معذرت کے ساتھ کوئی بھی تعمیری کاموں میں مشغول نہیں ۔ یہ وائرس ذہنی اذیت بھی پیدا کر رہا ہے ، حکومت کے بار بار کہنے کی باوجود ہم سب عجیب مخمصے کا شکار ہیں کہ ہمیں ہی کہیں کرونا نہ ہو جائے اور بسا اوقات تو یہ لگنے بھی لگتا ہے کہ کرونا ہمیں بھی خدانخواستہ ہو ہی گیا ہے ، یہ سب ذہنی خلفشار ہے ۔

۔ مان لیا کہ سینیٹائزر کا استعمال ، باربار ہاتھ دھونا ، سماجی فاصلہ رکھنا ضروری ہے لیکن ان سب چیزوں نے نفسیاتی خوف کو بھی جنم دیا ہے ۔ مجھے تو ایسا لگتا ہے کہ لوگ کرونا وائرس سے اتنا نہیں مریں گے جتنی آسانی سے لوگ خوف سے مر جائیں گے ۔ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ہمارے ہاں بیس کروڑ کی آبادی کے لئے صرف ۴ بڑے نفسیاتی ہسپتال موجود ہیں ۔پاکستان میں ذہنی امراض کی شکایت کے حوالے سے ذہنی دباؤکے6فیصد، شیزو فرینیاکے 1.5فیصد اور مِرگی کے 1سے 2 فیصد افراد پائے جاتے ہیں۔

پاکستان میں کروڑوں افراد کے لئے صرف چند سو ذہنی معالج موجود ہیں ۔ دنیا بھر میں ہرسال شدید ڈیپریشن کی وجہ سے ۱۰ لاکھ افراد اپنی جان لے لیتے ہیں ۔

یہ ذہنی معالج پہلے ہی کام کے دبائو کا شکار ہیں ، میڈیا ہے تو ہر جگہ کرونا کرونا ، پیرا میڈیکل سٹاف اور میڈیا کے اراکین کی ذہنی حالت بھی اس موذی وبا کے دوران تشویش ناک ہو سکتی ہے ۔

یہ لوگ تو ۲۴ گھنٹے کے دوران ایک پینک کا شکار ہیں ، دوسری طرف عوام بھی ہمت ہار رہے ہیں ۔۔کہتے ہیں کہ لوگ ایسے نہیں مرتے بلکہ ڈر کی وجہ سے مر جاتے ہیں ۔ ہمارے ملک کے عوام کو بہت سے حوادث کا سامنا رہا، کبھی ۲۰۰۱ کا سیلاب تھا تو کبھی آزاد کشمیر میں ۲۰۰۵ میں آنے والا زلزلہ ، کوڑھ ، ڈینگی اور اب یہ قاتل کورونا ۔

لیکن کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ ہم سب حوصلہ ہار دیں ، گھر بیٹھ کر ہائے ہائے کرنے لگیں کم ازکم میں نے ابھی تک کوئی ایسا پروگرام نہیں دیکھا جس میں عوام الناس کو نہ گھبرانے کی تلقین کی گئی ہو ، حوصلہ دلایا گیا ہو۔ ہاں البتہ ذہنی اذیت میں مبتلا کرنے والے پروگراموں کا تو کوئی شمار ہی نہیں۔ لوگوں میں اتنا خوف پیدا ہو رہا ہے کہ سماجی فاصلہ تو ہے ہی ہے دوسروں کی تکلیف میں ذہنی دوری بھی پیدا ہونے لگی ہے ۔

نفسیاتی خوف جسمانی تکلیف سے بھی زیادہ خطرناک ہوتا ہے کیونکہ ذہنی حالت میں خرابی انسان کو زندگی سے ہی مایوس کر دیتی ہے اور پھر وہ خود کو نقصان پہنچانے کے بارے میں سوچنے لگتا ہے ۔

خدارا اس ملک میں ذہنی مریض پہلے ہی بہت زیادہ ہیں ان میں اضافہ مت کریں ۔۔خدارا ہمیں ان ڈاکٹروں کی طرح بریفنگ نہ دیں جنہوں نے جراح کو بھی مشکل میں ڈال دیا ۔۔براہ مہربانی ذمہ داری کا ثبوت دیجئیے سوشل میڈیا پر جعلی طبی مشورے شئیر کرنا چھوڑ دیجئیے ۔

۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

.

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔

مزید :

بلاگ -