ایک فرنٹ لائن ڈاکٹر کی کورونا سے متعلق بات چیت

ایک فرنٹ لائن ڈاکٹر کی کورونا سے متعلق بات چیت
ایک فرنٹ لائن ڈاکٹر کی کورونا سے متعلق بات چیت

  

شیخ خلیفہ بن زاید میڈیکل کالج لاہور کی گریجویٹ ڈاکٹر ہدیٰ صوفی شیخ خلیفہ بن زاید میڈیکل کالج کے سال 2017 کے سالانہ ہیلتھ فیئر کی صدر رہی ہیں اور اس وقت شیخ زاید ہسپتال میں بطور ہاﺅس افسر خدمات سرانجام دے رہی ہیں۔

انہوں نے صوفی گروپ آف کمپنیز کی جانب سے کورونا وائرس کی بیماری سے متعلق آگاہی کے سلسلے میں ایک لائیو سیشن کیا۔

انہوں نے اس سیشن کا آغاز COVID-19 کے مفہوم کی وضاحت سے کیا۔ ”CO“ سے مراد کورونا اور ”VI“ سے مراد وائرس ہے، اور 19 وہ سال ہے جس برس اس حوالے سے کیسز میں اضافہ دیکھا گیا۔ COVID-19 درحقیقت SARS-CoV2 وائرس کی وجہ سے پیدا ہوا۔ یہ وائرس سانس کے ننھے ننھے قطروں سے پھیلتا ہے، جیسا کہ کھانسنے، چھینکنے اور جب افراد ایک دوسرے سے انتہائی قریب سے بات چیت کرتے ہیں۔ یہ ننھے ننھے قطرے یا تو سانس کے ذریعے یا پھر سطح پر رہ کر مزید انسانوں کو متاثر کرسکتے ہیں۔ یہ وائرس طویل عرصے تک سطح پر رہا ہے، تاہم وقت کے ساتھ ساتھ قابل عمل وائرس کی مقدار کم ہوتی جاتی ہے۔ ڈاکٹر ہدیٰ نے احتیاطی تدابیر کے طو رپر لوگوں کو گھر اور باہر کیلئے علیحدہ علیحدہ جوتوں کے استعمال کا بھی مشورہ دیا۔

ڈاکٹر ہدیٰ نے اس مرض کی اہم علامات سے متعلق بھی وضاحت کی جس میں بخار، خشک کھانسی، تھکاوٹ اور سانس لینے میں مشکلات شامل ہیں، اس میں ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ اس وائرس کا شکار لوگ مختلف ردعمل ظاہر کرتے ہیں کیونکہ انسانی جسم انتہائی پیچیدہ ہے اور اس کی اتنی آسانی سے تشریف نہیں کی جاسکتی۔ عام طور پر ان علامات کے شکار افراد کے لیے سماجی فاصلے برقرار رکھنا انتہائی اہم ہے۔ 80 فیصد کے قریب آبادی اس وائرس سے انتہائی کامیابی سے نبردآزما ہے اور صحت یاب ہورہی ہے، تاہم بنیادی صحت کی پریشانیوں میں مبتلا افراد بڑے خطرے سے دوچار ہیں۔

ڈاکٹر ہدیٰ نے کہا کہ ”اگر آپ معمولی علامات محسوس کررہے ہیں تو اپنے آپ کو 14 روز کے لیے دوسروں سے الگ تھلگ (آئیسولیٹ) کرلیں۔ یہ انکیوبیشن دورانیہ ہے جس میں وائرس بڑھنے لگتا ہے، اگر اس دوران آپ کی صحت میں خرابی آنے لگے تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز نے ہیلپ لائن متعارف کراکے ایک انتہائی احسن اقدام اٹھایا ہے جہاں لوگ مدد کے لیے رابطہ کرسکتے ہیں۔

ہم ابھی تک اس بیماری کے بارے میں تحقیق کررہے ہیں اور ابھی تک یہ ثابت نہیں ہوسکا ہے کہ کوئی بھی فرد دوبار اس وائرس سے متاثر ہوسکتا ہے۔ اس کا انحصار متاثرہ شخص کے مدافعتی نظام پر ہے کہ وہ کس طرح اس سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتاہے۔

ذرائع ابلاغ میں اس وائرس سے متعلق بہت سے مفروضے گردش کررہے ہیں۔ بنیادی باتوں پر قائم رہیں۔ اپنے ہاتھ صابن سے کم از کم 20 سیکنڈ تک دھوئیں، خود کو الگ تھلگ رکھیں، سماجی فاصلے برقرار رکھیں، چھینکتے وقت اپنے ہاتھوں کے استعمال کے بجائئے کہنی کا استعمال کریں اور محفوظ رہیں۔ صحت مند خوراک بھی اس ضمن میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔ پروسیس شدہ غذ اسے پرہیز کریں اور سونف، ہلدی، پالک اور بروکولی کا استعمال کریں کیونکہ یہ مدافعتی نظام کو مضبوط کرتے ہیں۔ روزانہ ہلکی پھلکی ورزش کریں، اچھی نیند لیں اور ذہنی دباﺅ سے دور رہیں۔

دوسرے ممالک کے مقابلے میں پاکستان کی صورتحال انتہائی مختلف ہے کیونکہ یہ محدود وسائل والی ترقی پذیر قوم ہے۔ اب تک پاکستان میں 4800 سے زائد کیسز کی نشاندہی کی جاچکی ہے اور ہم جورجحان دیکھ رہے ہیں، اس کے مطابق ان کیسز کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے، ابھی تک اس کی ویکسین تیار نہیں کی جاسکی، ڈاکٹرز اور ریسرچرز اس وائرس سے نمٹنے کے لیے ویکسین کی تیاری کے لیے دن رات کام کررہے ہیں۔

۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

۔

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔

مزید :

علاقائی -پنجاب -بلاگ -