’جن معاشروں میں خواتین کی تعداد کم ہو، وہاں مرد زیادہ اچھی طرح رہتے ہیں‘ تازہ تحقیق میں سائنسدانوں کا حیران کن انکشاف

’جن معاشروں میں خواتین کی تعداد کم ہو، وہاں مرد زیادہ اچھی طرح رہتے ہیں‘ ...
’جن معاشروں میں خواتین کی تعداد کم ہو، وہاں مرد زیادہ اچھی طرح رہتے ہیں‘ تازہ تحقیق میں سائنسدانوں کا حیران کن انکشاف

  

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) ایک نئی تحقیق میں ماہرین نے معاشروں میں مردوخواتین کی تعداد کے حوالے سے ایسا حیران کن دعویٰ کر دیا ہے کہ سن کر یقین کرنا مشکل ہو جائے۔ میل آن لائن کے مطابق فلوریڈا سٹیٹ یونیورسٹی کے ماہرین نفسیات کی ایک ٹیم نے اپنی نئی تحقیق کے نتائج میں بتایا ہے کہ جن معاشروں میں مردوں کی تعداد خواتین کی نسبت زیادہ ہو وہ معاشرے زیادہ مہذب اور مستحکم ہوتے ہیں۔ ماہرین نے اس کی وجہ یہ بیان کی کہ ایسے معاشروں میں چونکہ خواتین کم ہوتی ہیں لہٰذا مرد خواتین کی توجہ اپنی طرف مبذول کرانے اور شریک حیات کے حصول میں کامیابی کے لیے حتی الامکان بہتر روئیے کا مظاہرہ کرتے ہیں۔

اس کے برعکس جن معاشروں میں خواتین کی تعداد مردوں سے زیادہ ہو جائے وہاں مردوں کا رویہ الٹ ہوتا ہے۔تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ پروفیسر جان مینر کا کہنا تھا کہ”جن معاشروں میں خواتین کی تعداد مردوں سے زیادہ ہووہاں مرد طویل مدتی تعلق کو کم پسند کرتے ہیں اور ان میں بے وفائی کا رجحان زیادہ پایا جاتا ہے۔ وہ ایک ہی خاتون کے ساتھ طویل مدتی تعلق کی بجائے وقت گزاری کو ترجیح دیتے ہیں اور خواتین کر اپنی طرف راغب کرنے کے معاملے میں وہ زیادہ خطرات مول لیتے ہیں اورزیادہ متشدد ہوتے ہیں۔جن معاشروں میں خواتین کم ہوں وہاں شوہر بہت فرمانبردار ہوتے ہیں۔ وہ زیادہ اچھے شوہر اور اچھے باپ ثابت ہوتے ہیں اور اپنی شریک حیات کے ساتھ زیادہ وفادار رہتے ہیں۔“

مزید :

ڈیلی بائیٹس -