کورونا وائرس کی 3 اقسام سامنے آگئیں

کورونا وائرس کی 3 اقسام سامنے آگئیں
کورونا وائرس کی 3 اقسام سامنے آگئیں

  

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) لگ بھگ پوری دنیا کو لپیٹ میں لے چکے کورونا وائرس کے متعلق سائنسدانوں نے ایک اور حیران کن دعویٰ کر دیا ہے۔ میل آن لائن کے مطابق سائنسدانوں نے نئی تحقیق میں بتایا ہے کہ دنیا کے مختلف خطوں میں پھیلنے والا کورونا وائرس مختلف اقسام کا ہے۔ کورونا وائرس کی یہ قسم جو موجودہ وباءکی صورت میں دنیا میں پھیلی ہوئی ہے یہ دراصل تین مختلف سٹرینز (Strains)ہیں جنہیں اس وائرس کی تین مختلف اقسام بھی کہا جا سکتا ہے۔ پہلے قسم کو سائنسدانوں نے’ٹائپ اے‘ کا نام دیا ہے جو چمگادڑوں اور پیگولینز میں پایا جاتا ہے۔ اس قسم کے آگے دو ’سب کلسٹرز‘ ہیں۔ ان میں سے ایک ’سب کلسٹر‘ ووہان سے منسلک ہے جبکہ دوسرا امریکہ اور آسٹریلیا میں عام پایا جاتا ہے۔

سائنسدانوں کے مطابق وائرس کی ’ٹائپ بی‘ دراصل ٹائپ اے کی جینیاتی ساخت تبدیل ہونے کے بعد وجود میں آئی ہے اور ووہان میں ٹائپ بی ہی زیادہ پھیلی۔ اس کی تیسری قسم ’ٹائپ سی‘ ہے جو سائنسدانوں کے مطابق ٹائپ بی کی ’بیٹی‘ ہے۔ یورپ میں اسی ٹائپ سی نے تباہی مچائی، یہ سنگاپور کے راستے براعظم یورپ میں پھیلی۔ سائنسدانوں نے بتایا ہے کہ برطانیہ میں بھی یہی ’میوٹیٹڈ‘ شدہ وائرس ہی پھیلا ہے جبکہ امریکہ اور آسٹریلیا میں پھیلنے والی قسم کورونا وائرس کی خالص ترین قسم ’ٹائپ اے‘ ہے جو ووہان میں پھیلنے والے ٹائپ بی سے زیادہ خطرناک ہے۔امریکہ میں اب تک جتنے مریضوں سے نمونے لے کر ٹیسٹ کیے گئے ہیں ان میں سے دو تہائی میں کورونا وائرس کی ’اے ٹائپ‘ پائی گئی۔ برطانوی ماہر ڈاکٹر پیٹرفوسٹر اور ان کی ٹیم نے اپنی تحقیق میں پتا چلایا ہے کہ برطانیہ میں ’ٹائپ بی‘ کے زیادہ کیس سامنے آ رہے ہیں۔ سوئٹزرلینڈ، جرمنی، فرانس، بیلجیم اور نیدرلینڈ میں بھی ٹائپ بی ہی کے زیادہ کیس سامنے آئے، جبکہ اٹلی اور دیگر یورپی ممالک میں ٹائپ سی کے زیادہ کیس پائے گئے۔

مزید :

کورونا وائرس -