روسی خلاءباز یوری گاگرین کی 61 سال پہلے خلاءمیں روانگی لیکن واپس پہنچے تو روسی لڑکی انہیں دیکھ کر کیوں بھاگ گئی؟ وہ بات جو شاید آپ کو معلوم نہیں

روسی خلاءباز یوری گاگرین کی 61 سال پہلے خلاءمیں روانگی لیکن واپس پہنچے تو ...
روسی خلاءباز یوری گاگرین کی 61 سال پہلے خلاءمیں روانگی لیکن واپس پہنچے تو روسی لڑکی انہیں دیکھ کر کیوں بھاگ گئی؟ وہ بات جو شاید آپ کو معلوم نہیں
سورس: Wikimedia Commons

  

ماسکو(مانیٹرنگ ڈیسک) روسی خلاءباز یوری گاگرین خلاءمیں جانے والا پہلا انسان تھا جو آج سے 61سال قبل 12اپریل 1961ءکو ایک ایسے راکٹ میں بیٹھ کر خلاءمیں گیا جو آج کے جدید کیلکولیٹر جتنا طاقتور تھا۔ ڈیلی سٹار کے مطابق جب یوری گاگرین خلاءمیں روانہ ہو رہا تھا تو کوئی بھی یقین سے نہیں کہہ سکتا تھا کہ وہ زندہ واپس لوٹیں گے۔ راکٹ کے روانہ ہونے سے قبل یوری گاگرین اپنے ساتھیوں کو صرف اتنا کہہ سکے تھے کہ ”چلو چلتے ہیں۔“

جب یوری گاگرین واپس لوٹے تو وہ ایک بین الاقوامی شہرت یافتہ شخصیت بن چکے تھے۔ ان کے پوری دنیا میں مداح موجود تھے۔ وہ درحقیقت اس قدرشہرت پا چکے تھے کہ امریکی صدر جان ایف کینیڈی نے کئی سال تک اس خوف سے ان کے امریکہ میں داخلے پر پابندی عائد کیے رکھی تھی کہ وہ کہیں کمیونسٹ ہمدردی کو ہوا نہ دے دیں۔خلائی سفر سے واپس آنے کے بعد اس قدر شہرت پانے والے یوری گاگرین کی ابتدائی زندگی کچھ ایسے حالات میں گزری تھی کہ سن کر آدمی دنگ رہ جائے۔

یوری گاگرین کی پیدائش 1934ءمیں ہوئی۔ ان کی والدین سٹالنسٹ کولیکٹو فارم پر کام کرتے تھے۔ ان کا فارم ایڈولف ہٹلر کی طرف سے چھیڑی گئی جنگ سے متاثرہ علاقے کے عین راستے میں تھا۔ 1941ءمیں پسپا ہوتے ہوئے نازی فوجیوں نے ان کے گاﺅں پر قبضہ کر لیا اور سکول کو نذرآتش کر دیا، جس سے یوری گاگرین کی تعلیم کا سلسلہ ابتداءمیں ہی رک گیا۔ 

یوری گاگرین کے خاندان کے گھر پر ایک جرمن آفیسر نے قبضہ کر لیا اور خود اس میں رہنے لگا۔ اس نے یوری کے والدین کو گھر نکال دیا تاہم گھر کے بیک یار ڈ میں انہیں مٹی اور گارے سے تین میٹر کی ایک جھونپڑی بنانے کی اجازت دے دی۔ اگلے کافی عرصے تک یوری اپنے والدین کے ساتھ اپنے ہی گھر میں اس مٹی کی جھونپڑی میں رہتا رہا۔

اسی دوران ایک جرمن آفیسر نے یوری گاگرین کے بھائی کو پھانسی دینے کی کوشش کی جس کے بعد یوری کے دل میں جرمن فوج کے لیے نفرت بھڑک اٹھی اور اس نے جرمن فوج کے لیے ایک تخریب کار کا روپ دھار لیا۔ وہ ان کے ٹینکوں کی بیٹریاں تباہ کرنے لگا اور کیمیکل سپلائی کو باہم مکس کرنے لگا۔ بعد ازاں جب ریڈ آرمی نے جرمن فوج کو وہاں سے نکالا تو گاگرین نے بارودی سرنگیں صاف کرنے میں ریڈ آرمی کا ساتھ دیا۔ جنگ ختم ہونے کے بعد یوری گاگرین نے اپنی تعلیم کا سلسلہ ایک بار پھر شروع کیا۔ وہ ابتدائی عمر سے ہی ہوائی جہازوں میں بہت دلچسپی لیتا تھا، چنانچہ اس نے فلائنگ کلب میں بطور کیڈٹ رضاکارانہ حصہ لینا شروع کر دیا اور ہوائی جہاز اڑانا سیکھ لیا۔ 

یوری گاگرین روسی ایئرفورس میں پائلٹ بنا اور بالآخر اسے خلاءمیں جانے والے پہلے آدمی کے طور پر منتخب کر لیا گیا۔ اس کا قد 5فٹ 2انچ تھا جو ’ووستوک 1کیپسول‘ میں بیٹھنے کے لیے بہترین تھا۔ خلائی سفر سے واپس آ کر یوری گاگرین نے اپنا خلاءمیں سفر کا تجربہ بیان کرتے ہوئے بتایا تھا کہ”خلاءمیں جو بے وزنی کی کیفیت تھی، اس کا زمین پر رہتے ہوئے کبھی احساس بھی نہیں ہوا تھا۔ یہ کیفیت بالکل ایسے تھی جیسے آپ افقی پوزیشن میں رسیوں کے ساتھ لٹکے ہوئے ہوں۔ یہ احساس فضاءمیں بغیر کسی ذریعے کے لٹکے ہونے جیسا تھا۔ “ 

واضح رہے کہ یوری گاگرین پیراشوٹ کے ذریعے واپس زمین پر اترا تھا۔ وہ جس جگہ اترا وہاں ایک روسی کسان اور اس کی بیٹی کھڑے ہوئے تھے۔ ان کے متعلق بات کرتے ہوئے یوری گاگرین نے بتایا تھا کہ ”جب میں اترا اور اس باپ بیٹی نے مجھے خلائی سوٹ میں پیراشوٹ کے ساتھ اتر کر پیدل چلتے دیکھا تو وہ خوف کے مارے واپس اپنے گاﺅں کی طرف بھاگ کھڑے ہوئے۔ میں نے انہیں پکار کر کہا کہ آپ خوفزدہ نہ ہوں، میں بھی سوویت شہری ہی ہوں اور خلاءسے ہو کر واپس آیا ہوں۔ میری یہ بات سن کر وہ رک گئے اور میں نے ان سے پوچھا کہ مجھے یہاں فون مل سکتا ہے، میں اپنی لینڈنگ کے متعلق ماسکو بتاناچاہتا ہوں۔“

مزید :

ڈیلی بائیٹس -بین الاقوامی -سائنس اور ٹیکنالوجی -